آدھی ملاقات

جب بات آئی روشنی کے اس پہلے شمارے کے لئے انٹرویو کرنے کی اور ہم نے نامور پاکستانیوں کی فہرست مرتب کرنا شروع کی تو جو نام سب سے اوپر جگمگا رہا تھا وہ عبدالستار ایدھی صاحب کا تھا لیکن افسوس صد افسوس وہ اگلے دیس سدھار چکے ہیں۔ لیکن کیا کیجئے کہ ہر دوسرا نام ان کے سامنے ماند پڑرہا تھا۔ سورج کا چراغوں سے کوئی موازنہ نہ تھا۔ پس ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ اس عظیم انسان کو خراج تحسین پیش کرنے لئے”آدھی ملاقات” کے عنوان سے انٹرویو کا یہ سلسلہ ہم انہی سے شروع کریں گے اور ان کی زندگی میں دیے گئے ان کے انٹرویوں کی بنیاد پر معلومات مرتب کر کے نئی نسل تک پہنچائیں گے۔ کہ شائد انسانیت کے لئے کی گئی ان کی خدمات کا کچھ تو حق ادا ہو سکےاور کیا معلوم ہمارے ننھے قارئین بھی ان کی روش اختیار کرنے کی طرف مائل ہو سکیں۔

  آپ کا پورا نام 

عبد الستار ایدھی 

   آپ کے والد کا نام

آپ کے والد کا نام عبدالشکور ایدھی تھا۔

آپ کے والد صاحب کیا کرتے تھے؟

والد کپڑے کے تاجر تھے اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔

  ایدھی صاحب! آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

 میں بھارت کے شہر جونا گڑھ کے ایک گاؤں بانٹوا میں پیدا ہوا۔ میری تاریخ پیدائش ۲۸ فروری۱۹۲۸ء ہے۔

  کچھ اپنے خاندان کے بارے میں بتائیں؟

 میرا تعلق میمن خاندان سے ہے۔میرے والد نے تین شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹا اور دوسری سے دو بچے تھے۔ تیسری میری والدہ تھیں جن کا نام غربا تھا۔ان کی بھی پہلے شادی ہوئی تھی۔ دوبچوں کی پیدائش کے بعد وہ بیوہ ہو گئیں تھیں۔میرے سوتیلے بہن بھائیوں کی پرورش میری خالہ نے کی جبکہ ہماری پرورش ہماری ماں نے کی ۔ مجھ سے چھوٹا ایک بھائی ہے جس کا نام عزیز ہے۔

  آپ نے کہاں تک تعلیم حاصل کی ہے؟

 میں نے صرف چوتھی جماعت تک پڑھا ہے۔ پھر میں نے تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

  آپ  نے سماجی خدمت کے کاموں کا چناؤ کیسے کیا؟

 میں ہر روز جب سکول جاتا تو ماں مجھے دو پیسے دیتیں‘اس ہدایت کے ساتھ کہ ان میں سے ایک بہرصورت کسی دوسرے حاجت مند کو دے دوں۔ ساتھ ہی وہ کہتیں کہ پیسے دینے سے پہلے حاجت مند کے بارے میں تسلی کر لیا کرو کہ وہ واقعی مستحق ہے یا نہیں۔ والدہ نے زندگی کے ابتدائی دِنوں میں میرے لیے سماجی خدمت کے کاموں کا جو چناؤ کیا‘ اسی نے میرے دِل میں انسان دوستی کی بنیاد رکھی۔

  ایدھی صاحب!جب آپ بچے تھے تو کیسی طبیعت کے مالک تھے‘سنجیدہ یا شرارتی؟

 میں بہت شرارتی تھا۔

  کھیل کود سے بھی دلچسپی تھی یا نہیں؟

 کھیل کود سے تو بے حد دلچسپی تھی۔ گلیوں میں گلی ڈانڈا کھیلتا تھا۔ تیزدوڑنے کا مجھے جنون تھا۔

   کبھی کسی شرارت پر مار پڑی؟

 ہم اکثر امیر لوگوں کے باغات میں جاگھستے اور وہاں درختوں سے بیریا کوئی اور پھل توڑ کر بھاگ جاتے تھے۔ اس دوران اگر کبھی پکڑے جاتے تو باغ کا مالک کبھی کبھارہمیں سزابھی دیتا مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہم باز آئے ہوں۔

  بچپن کے دوستوں میں اکثر لڑائی جھگڑا ہوجایا کرتا ہے‘آپ کا بھی کبھی کسی سے جھگڑا ہوا؟

 صرف ایک بار میرا کچھ لڑکوں سے جھگڑا ہوا۔

  آپ کے بچپن کے دوست کیسے تھے؟

 سبھی اچھے تھے۔ بس شرارتوں میں ہم ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے

  آپ نے پڑھائی کیوں چھوڑی؟

 میں جس مدرسے میں پڑھتا تھا‘اس کے مقاصد سے مجھے دلچسپی نہ تھی۔ لہٰذا پڑھائی میں دلچسپی نہ پیدا ہو سکی۔اس کے باوجود میں پڑھ رہا تھا مگر ایک درندہ صفت استاد نے مجھے تعلیم کو خیرباد کہنے پر مجبور کر دیا۔

  تعلیم کا سلسلہ منقطع ہونے کے بعد آپ کے کیا مشاغل رہے؟

 میں محنت اور کام کا عادی تھا۔ تعلیم کا سلسلہ ترک کیا تو حاجی عبداﷲ نامی ایک تاجر کی دکان پر مجھے ملازمت مل گئی۔ اس وقت میری عمر گیارہ برس تھی۔میری تنخواہ پانچ روپے ماہانہ تھی۔ جس میں سے چار روپے میں ماں کو دیتا تھا اور باقی ایک روپیہ گھر کی ایک الماری کے اوپر رکھی ہانڈی میں جمع کر دیا کرتا۔

  جب آپ کو معلوم ہوا کہ قائداعظمؒ مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کی جدوجہد کررہے ہیں تو آپ نے اس تحریک کو جاننے کی کوشش کی ہو گی۔ آپ کچھ اس بارے میں بتائیں گے؟

 میں اخبارات کے ذریعے اس جدوجہد کے بارے میں پڑھتا رہتاتھا۔ پھر قائداعظم ؒ بانٹوا آئے اور انہوں نے وہاں کے مسلمانوں سے خطاب کیا۔ ہم سب نے پاکستان کے حق میں پرجوش انداز سے نعرے لگائے اور پارٹی فنڈ کے لیے پینتیس روپے قائداعظم کو پیش کیے۔ بہت سے لوگوں نے چار آنے دے کر مسلم لیگ کی بنیادی رکنیت حاصل کی۔

  کچھ یاد ہے‘قائداعظمؒ نے اپنی تقریر میں وہاں کے لوگوں سے کیا کہا تھا؟

 بانٹوا چونکہ میمن برادری کی بستی تھی اور وہ لوگ تجارت پیشہ تھے‘اس لیے جناح صاحب نے انہیں کہا کہ ہندوستان میں رہ جانے کا ان کا فیصلہ بھارت کے لیے مفید اور پاکستان کے لیے تباہ کن ہو گا۔اس طرح پاکستان میمن برادری کے انتہائی تجربہ کار کاروباری طبقے سے بھی محروم ہو جائے گا۔ چنانچہ اس پر میمن برادری نے ہندوستان چھوڑ کے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔

  آپ نے کب ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی؟

 ہماری ہجرت چھ ستمبر۱۹۴۷ء کو شروع ہوئی۔

  پاکستان آکر آپ نے اپنی زندگی کس طرح شروع کی؟

 میں نے پاکستان کی دھرتی پر قدم رکھتے ہی اپنے اصول بنائے تھے۔

تعلیم پر وقت صرف کرنے کے بجائے‘ اسے اپنے مقصد پر صرف کروں گا۔

صحت کے حوالے سے کام کروں گا۔

سادگی سے زندگی گزاروں گا۔

اپنے مشن کے لیے کسی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے سے عطیہ لینے نہیں جاؤں گا ۔

آپ نے کونسی ملازمت یا پیشہ اختیار کیا؟

میں محنت اور کام کا عادی تھا۔ تعلیم کا سلسلہ ترک کیا تو حاجی عبداﷲ نامی ایک تاجر کی دکان پر مجھے ملازمت مل گئی۔ اس وقت میری عمر گیارہ برس تھی۔میری تنخواہ پانچ روپے ماہانہ تھی۔ جس میں سے چار روپے میں ماں کو دیتا تھا اور باقی ایک روپیہ گھر کی ایک الماری کے اوپر رکھی ہانڈی میں جمع کر دیا ۔

  انسانیت کی خدمت کا خیال کیسے آیا؟کس چیز نے آپ کو باقاعدہ اس طرف توجہ دینے پر مجبور کیا؟

 میری والدہ نے مجھے انسانیت کی خدمت کے لیے تیار کیا اور اس کام پر لگایا۔۔اس طرح غریبوں کی مدد وحمایت اور ان کی خدمت کا جذبہ میرے اندر پیدا ہوا۔ میرے دوست حاجی یوسف کے خیالات اور رہنمائی نے میری بڑی مدد کی۔ انہوں نے مجھے امیر وغریب کا فرق بتایا، مظلوم وظالم میں تمیز سکھائی۔

  آپ نے خدمت خلق کے اس کام کی باقاعدہ ابتدا کس طرح کی اور اس کام میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

 ۱۹۴۸ء میں میمن برادری نے یہیں میٹھا درکراچی میں ایک ڈسپنسری قائم کی۔ ڈسپنسری کا نام’’بانٹوا میمن ڈسپنسری‘‘رکھا گیا۔ میں نے خود کو اس کے لیے رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔۱۹۵۱ء میں دو ہزارتین سو روپے کے عوض میٹھادرہی میں آٹھ مربع فٹ کی دکان پگڑی پر لے کر اپنی ڈسپنسری کھول دی۔ اس کا نام ’’میمن والنٹیئر کور‘‘رکھا۔میمن نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد میرا ساتھ دینے لگی۔یہ ڈسپنسری ہر شخص کی ضرورت کو پورا کرتی تھی۔ڈسپنسری کے قیام کے دو سال بعد میں نے اس کا نام ’’مدینہ والنٹیئر کور‘‘رکھا کیونکہ سابقہ نام میں مجھے برادری ازم کی جھلک نظر آتی تھی۔کچھ عرصہ بعد میں نے ڈسپنسری کے اوپر ہی جگہ حاصل کر لی اور ایک میٹرنٹی ہوم شروع کردیا۔ میں نے ایک لیڈی ڈاکٹر کی زیرنگرانی میٹرنٹی یونٹ کا آغاز کردیا۔

اچانک ایک روزوالدہ بیمار ہوگئیں تواحساس ہوا کہ ٹرانسپورٹ کی سہولت بے ـحد ضروری ہے۔ اب میں اس فکر میں رہنے لگا کہ کس طرح ایمبولینس کا انتظام کیا جائے۔بالآخر یہ بھی ہوگیا۔ایک صاحب نے عطیہ دیا، میں نے اس سے بیس ہزار روپے بچا کر سیکنڈ ہینڈ ایمبولینس خرید لی۔پھر ایک سے دو دو سے چار ہوتی گئیں۔

  والدہ کو کیا ہوا تھا؟

 انہیں فالج کا حملہ ہوا تھا جس کے باعث ان کے جسم کا بایاں حصہ متاثر ہوا۔

  ڈسپنسری تو صرف صحت کے حوالے سے عوامی خدمت کا مرکز تھی‘دیگر کاموں کی طرف آپ نے کب توجہ دینا شروع کی اور کیسے؟

 ڈسپنسری میں صفائی کے لیے میں نے کوئی ملازم نہ رکھا۔ میں خود روزانہ صفائی کی، بیلچہ اٹھاکر سڑک کے درمیان پڑے گوبر کو ہٹایا ، ایک ڈنڈے کے آگے جھاڑو باندھ کر نالیوں کو صاف کرتا اورغلاظت سے بھرے گٹروں کو صاف کیا۔اس سماجی کام میں کسی نے میری مدد کی نہ ہی کسی نے یہ کام کرتے دیکھ کر مجھے شاباش دی ۔

  ایدھی صاحب !ہنگامی صورت حال نہ ہو تو عموماً آپ کی مصروفیات کیا ہوتی ہیں؟

 میں جس شہر میں بھی ہوتا ہوں‘میری عادت ہے کہ صبح سویرے تمام ایدھی مراکز کے معاملات کو دیکھتا ہوں۔ کراچی میں ہوں تو ایمبو لینس چلاتا  ہوں۔میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ’’ایدھی فاؤنڈیشن‘‘ایک سیدھا سادہ ادارہ ہے۔ کسی نوکر شاہی یا شان وشوکت کے اظہار کا تصور نہیں ہے۔

    ایدھی ایمبولینس سروس قومی سطح کی مثالی پبلک سروس ہے جو ملک بھر میں ہمہ وقت خدمت انسانیت کے لیے کام کر رہی ہے۔ کچھ اس کے بارے میں بتائیے؟
 ایدھی ایمبولینس سروس میں شامل گاڑیوں کی تعدادچودہ سو(اب تقریباً سترہ سو) سے زیادہہے جو کہ ملک کے گوشے گوشے میں کام کر رہی ہیں۔۔۱۹۸۷ء سے ائیر ایمبولینس سروس بھی کام کر رہی ہے جس میں جہا زاور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

  ایدھی صاحب! اس وقت ایدھی فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک کیا ہے‘بتائیے کہ کون کون سے ادارے اس کے تحت قائم ہیں اور کیا کام کررہے ہیں؟

 بولٹن مارکیٹ کراچی فاؤنڈیشن کا ہیڈکوارٹر ہے۔کراچی‘اسلام آباد‘کوئٹہ‘ملتان‘حیدرآباد‘سکھر‘میرپور خاص اور فیصل آباد میں اس کے زونل دفاتر ہیں۔ ملک بھر میں ساڑھے تین سو ایدھی سنٹر کام کر رہے ہیں۔ اہم شاہراؤں پرتین سو سے زائد ایدھی ہائی وے سنٹر قائم ہیں۔کراچی‘لاہور‘پشاور‘راولپنڈی‘اسلام آباد‘ ملتان وغیرہ میں سو سے زائد ایدھی ایمرجنسی پوسٹیں قائم ہیں۔درجن بھربڑے ہسپتال ‘ ذیابیطس کے مراکز‘ایک کینسر ہسپتال،سوسے زائد فری ڈسپنسریاں اور دو درجن سے زائد ایدھی ہومز خدمت انسانیت میں پیش پیش ہیں ۔درجنوں میٹرنٹی ہومز‘پانچ قبرستان‘دو حیوانات کے ہسپتال‘ متعدد بلڈ بنک اور ادویات کے مراکز کام کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں پچاس کے قریب موبائل ڈسپنسریاں بھی کام کر رہی ہیں۔

  بیرون ملک ’’ایدھی فاؤنڈیشن‘‘ کا سیٹ اپ کیا ہے؟

  اس وقت دنیا کے سو سے زائد ممالک میں ہمارا کام جاری ہے۔ باقاعدہ طور پر امریکہ ‘برطانیہ‘ہنگری‘متحدہ عرب امارت‘کینیڈا‘جاپان‘بنگلہ دیش‘ افغانستان‘ بھارت‘سری لنکا‘سوڈان اور روس وغیرہ میں’’ایدھی انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘‘ کی برانچیں فعال انداز سے کام کر رہی ہیں۔

  اگر آپ سے ہم پوچھیں کہ اپنے کام کے آغاز سے اب تک آپ نے جو جو کا م کیے ‘ان کی مختصراً جھلک ہمیں دکھائیں تو کیا کہیں گے؟

 ء۱۹۴۹ء سے اب تک تقریباًاڑھائی لاکھ لاوارث لاشوں کو میں نے دفنایا ہے‘تین لاکھ سے زائد ذہنی وجسمانی معذوروں اور لاوارثوں کو ان کے گھروں تک پہنچایا ہے۔اڑھائی لاکھ کے قریب گمشدہ اور گھر سے بھاگے ہوئے بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچایا ہے۔ تقریباً اتنی ہی گھروں سے خواہش کے مطابق یا مجبوراً بھاگ نکلنے والی لڑکیوں کو ان کے گھرانوں تک واپس پہنچایا‘چالیس ہزار سے زائد ان نومولود بچوں کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں‘گٹروں اور جھاڑیوں میں کتوں اور کیڑے مکوڑوں کی خوراک بننے سے بچایا جو کہ ہسپتالوں کے باہر ایدھی جھولوں کی بدولت زندہ رہے‘بیس لاکھ سے زائد مریضوں اور میتوں کے لیے ایدھی ایمبولینس سروس مہیا کی گئی ۔پچاس لاکھ سے زائد ان زخمیوں اور لاشوں کو خون‘ادویات اور ایمبولینس سروس فراہم کی جو ٹریفک کے حادثات‘سیلابوں‘ زلزلوں یا دیگر آفات سے متاثر ہوئے۔تقریباً پچیس لاکھ افراد کو مفت علاج فراہم کیا گیا۔ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچوں نے ایدھی میٹرنٹی ہومز میں جنم لیا جس سے بے شمار جانیں بچ گئیں۔ سیکڑوں بے گناہ قیدیوں کو قانونی امداد فراہم کرکے جیل کی سلاخوں سے باہر لایا گیا۔تقریباًساٹھ لاکھ کلو گرام گوشت‘چالیس لاکھ کلو گرام آٹا‘چاول‘ گھی اور چینی وغیرہ مختلف قدرتی آفات سے متاثرین میں تقسیم کیے۔ چالیس لاکھ سے زائد کمبل اور بستر متاثرین میں تقسیم کیے ‘ اسی لاکھ سے زائدپرانے ونئے کپڑے ‘سویٹرز، جیکٹس اور ساڑھے ستر لاکھ گزان سلا کپڑا متاثرہ خواتین وحضرات کو دیا گیا۔پچاس لاکھ سے زائدخیمے بھی اس دوران متاثرین میں تقسیم کیے گئے۔

  ایدھی صاحب! یہ تو بہت وسیع کام ہے۔ان کاموں کے لیے وسائل کیسے پورے ہورہے ہیں؟

 آج زیادہ تر وہ لوگ عطیات دے رہے ہیں جنہیں ایدھی فاؤنڈیشن نے کسی نہ کسی موقعے پر خدمت فراہم کی۔

  کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے سوچا ہو‘بس بہت ہو گیا‘اب یہ کام نہیں کروں گا؟

 دوبار میں سخت مایوس ہوا۔ ایک مرتبہ اپنی شادی کے موقعے پر برادری کے رویے سے اور ایک بار یہاں لسانی فسادات میں جب ایدھی فاؤنڈیشن کی گاڑیاں جلائی گئیں……مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس کام کو ترک کرنے یا مؤخر کرنے کا سوچا ہو۔اﷲ تعالیٰ نے سخت اور مشکل حالات میں بھی مجھے خدمت کی توفیق دی۔

  ایدھی فاؤنڈیشن کون کون سے شعبوں میں کام کر رہا ہے؟

 جناب!یہ پوچھیں کہ کون ساکام ہے جو ہم نہیں کر رہے۔انسان کی پیدائش سے موت تک کے جتنے شعبے ہیں‘ان میں ایدھی فاؤنڈیشن کام کر رہا ہے۔ وہ بچے جو ایدھی میں جھولوں میں آئے‘ان میں سے پچیس ہزاربچوں کو میری بیگم بلقیس ایدھی نے لااولاد جوڑوں کودیا۔ اب ان کے آنگن میں خوشبو بھی بکھری ہے اور ان بچوں کی پرورش بھی ہو رہی ہے۔ہمارے ہسپتال‘ڈسپنسریاں‘لیبارٹریز‘ایمبولینسز‘ائیرایمبولینسز چل رہی ہیں۔ پہلے گھروں سے لڑجھگڑ کر یا کسی اور وجہ سے گھر سے نکل جانے والی عورتوں میں سے اکثر تاریک دنیا کی مسافر بن جاتی تھیں مگر جب سے ہم نے ایسی خواتین کے لیے مراکز بنائے ہیں‘ان کی عصمتیں بھی محفوظ رہتی ہیں اور ان کے مسائل بھی حل ہو رہے ہیں۔

  محترمہ بلقیس ایدھی‘فاؤنڈیشن کے کن کن کاموں کی نگرانی کررہی ہیں؟

 بلقیس ایدھی ستر فیصد کاموں کی نگرانی کر رہی ہیں۔ اب تو میرا بیٹا فیصل اور بیٹی کبریٰ یہاں اس کام میں ہمارے ساتھ ہیں۔ امریکہ میں قطب کام کر رہا ہے۔
     بے شمار بچے گھروں سے بھاگ کر آپ کے پاس آتے ہیں‘آپ بہتر جانتے ہوں گے کہ وہ گھروں سے کیوں بھاگتے ہیں؟

 لاکھوں کی تعداد میں بچے اور بچیاں بھاگ کر ہمارے پاس آئے۔ ان کی وجوہات میں گھریلو جھگڑے نمایاں ہوتے ہیں۔ باپ نہیں‘یا ہے تو نشے کا عادت ہے‘سخت گیر ہے یا دوسری شادی کر لی ہے۔ باپ کماتانہیں‘اساتذہ سکولوں میں بے جا سزا دیتے ہیں‘اس کے علاوہ بے شمار معاشرتی ناہمواریاں ہیں جو بچوں کے گھر سے بھاگنے کا سبب بنتی ہیں۔

  آپ نے کچھ مشکلات کا تو تذکرہ کیا‘اس کام میں پیش آنے والی بڑی بڑی مشکلات کیا تھیں اور ان کا سامنا کیسے کیا؟

 کون سی مشکل ہے جو میری راہ میں نہیں آئی۔ قدم قدم پر مشکلات سے پالا پڑا ہے۔ ہمارا ملک نظام بگاڑ کر کرپٹ لوگ پیداکرنے کی فیکٹری بن گیا ہے۔ غریب پس رہا ہے۔ تعلیم وعلاج عام آدمی کے بس میں نہیں۔ بھلا ہو یونی سیف کا جس نے حفاظتی ٹیکوں کا بندوبست کیا ہے‘ ورنہ ہمارے ہاں تو معذوروں کی فیکٹری تھی۔ ہماری حکومتوں نے یہ کام بھی نہیں کرنے تھے مگر شاید یونی سیف کا دباؤ کام کر گیا۔

  بین الاقوامی سطح پر پہلی بار آپ کو۱۹۸۶ء میں فلپائن کی حکومت نے اعزاز سے نوازا اور خوب تحسین کی۔ کچھ اس بارے میں بتانا پسند کریں گے؟

 جی ہاں ‘فلپائن کی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے اعزاز’’میگا سے سے‘‘ نوازا۔ میں نے بلقیس ایدھی کے ہمراہ منیلا جاکر وہ اعزازوصول کیا۔ ہمیں طلائی تمغوں کے ساتھ منیلا شہر کی چابیاں اور بیس ہزار ڈالرزسے بھی نوازاگیا۔ میں نے اس تقریب میں تقریر بھی کی۔ پھر اگلے روز وزیراعظم کوری اکینونے ہمارے اعزاز میں ضیافت دی۔

  حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کا اعتراف کس انداز سے کیا ہے؟

 ۱۹۸۹ء میں حکومت پاکستان نے مجھے ’’نشان امتیاز‘‘ سے نوازا مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایدھی فاؤنڈیشن کی کامیابی ہی میرا انعام ہے۔

  اچھا،یہ فرمائیے کہ آزادکشمیر اور پاکستان کے لوگ ایدھی فاؤنڈیشن کے کاموں میں آپ کی کس طرح مدد کرسکتے ہیں یا ساتھ دے سکتے ہیں؟

  بچت کی عادت اپنانی چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ بچوں میں فلاح وبہبود کے کام کرنے کی سوچ کو پروان چڑھانا چاہیے۔ فلاح وبہبود کا کام محض ثواب کی خاطر نہیں بلکہ مشن بنا کر کرنا چاہیے کہ مشن مسلسل ثواب ہے۔

  آپ قوم کے نوجوانوں کو کیا پیغام دیں گے کہ وہ ملک وملت کے لیے سود مند ثابت ہوں؟

 میرا پیغام یہی ہے کہ وہ سادگی کو اپنائیں‘خود کو مضبوط تر کرنے کا یہ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ محلے‘پڑوس یا سکول ، کالج میں آپ کے ساتھ کوئی غریب ہے تو اس کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کریں۔ غریبوں کا خیال رکھیں۔ یوں غریبوں کی مدد کرنے کی ان کے اندر سوچ آئے گی تو جذبہ اور بھی بڑھے گا۔ پھرملک کو کل ایک اچھی اور مخلص نسل نصیب ہو گی جو اس کی تعمیر وترقی اور مستقبل کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •