آدھی ملاقات

بچپن میں شرارتی نہیں، اچھے بچوں میں شمار ہوا

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے خصوصی انٹرویو

جنوبی پنجاب کی تحصیل کوہ سلیمان سے تعلق  رکھنے والے سردار عثمان احمد خان پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ  ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک نفیس انسان ہیں۔ دھیما پن، تحمل مزاجی اور بردباری ان کی شخصیت کا خاصا ہے۔ جس طرح ہر انسان کی زندگی کئی دائروں میں تقسیم ہوتی ہے اور ہر دائرہ قدرت کی طرف سے ملنے والے کسی نہ کسی کردار کی نمائندگی کرتا ہے، کسی دائرے میں رشتے ناتے آ جاتے ہیں تو کسی میں پیشہ وارانہ امور، کامیاب انسان وہی کہلاتا ہے  جو ان دائروں کو یکجا رکھتا ہے اور اپنے ہر کردار کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ سردار عثمان احمد خان بزدار بھی اپنے ہر کردار کے ساتھ بخوبی انصاف کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ سب سے بڑا صوبہ کامیابی سے چلا رہے ہیں تو دوسری طرف فیملی اور دوستوں کو بھی ہر ممکن حد تک وقت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل سردارعثمان احمد بزدار نے معاصر روزنامہ نوائے وقت سے اپنی نجی زندگی اور عوامی دلچسپی کے موضوعات پر گفتگو کی تھی۔ اس گفتگو کو ہم انٹرویو کی شکل میں روشنی میگزین کے ننھے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

 روشنی میگزین:  تونسہ  شریف سے 90 شاہراہ قائد اعظم تک کے سفر کے حوالے  سے کیا کہیں گے؟ کب پتہ چلا کہ آپ وزیر اعلیٰ بنائے جا رہے ہیں؟

سردارعثمان بزدار: تونسہ  شریف  سے 90 شاہراہ قائد اعظم لاہور تک کا سفر سیاسی جدوجہد کا سفر ہے۔ میں نے گراس روٹ لیول سے اپنے والد محترم کی رہنمائی میں سیاسی سفر کا آغاز کیا اور ان ہی کی ہدایت پرعوامی خدمت اور فلاح و بہبود کو مقصد حیات بنایا۔ تحصیل ناظم تھا تو اپنے علاقے کے لوگوں کی فلاح وبہبود کے لیے سرگرداں تھا، ان کے مسائل حل کرنا چاہتا تھا۔ آج رکن پنجاب اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب ہوں تو پورے صوبے کے پسماندہ اور محروم عوام کے مسائل حل کرنا چاہتا ہوں اور ان کے سوختہ  ساماں چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنا چاہتا ہوں۔ پہلے چھوٹے سے علاقے کی ذمہ  داری تھی، اب ذمہ داری بہت بڑی ہے اور ہر رات گئے فرصت ملنے پر بھی اپنے لوگوں اوران کے دیرینہ مسائل کے حل کے بارے میں فکر مند رہتا ہوں۔ جہاں تک وزارت علیا کا منصب سنبھالنے کا سوال ہے تو  یہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ میں نے وزیر اعظم عمران خان سے پہلی ملاقات میں وزارت یا عہدے کی خواہش نہیں کی تھی بلکہ صرف اور صرف اپنے علاقے کے محروم لوگوں کے مسائل ان کے سامنے بیان کیے تھے اور ان مسائل کے حل کا خواہاں تھا لیکن جب مجھے وزارت علیا کے منصب کے لیے نامزد کیا  گیا تو یہ میرے لیے لمحہ  حیرت تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کوہ سلیمان اور تحصیل تونسہ  کے ان محروم لوگوں کی دعائیں تھیں جو صدیوں سے مسائل کے حل اورعلاقے کی  ترقی کے منتظر ہیں۔

روشنی میگزین: سیاست میں  کب قدم رکھا؟

سردار عثمان بزدار: میں نے والد محترم کی رہنمائی میں 1989ء میں پہلی مرتبہ بارتھی سے ممبر ضلع کونسل کا انتخاب جیت کرعملی سیاست میں  قدم رکھا۔ دو مرتبہ تحصیل ناظم ٹرائیبل ایریا منتخب ہوا۔ 2018ء میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوا۔

روشنی میگزین: وزیر اعلیٰ بننے کے بعد شخصیت اور معمولات میں کیا تبدیلی آئی؟

سردارعثمان بزدار: وزیر اعلیٰ بننے کے بعد مصروفیات بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں اور معمولات یہ ہیں کہ رات گئے سرکاری امور اور دیگر کام جاری  رہتے ہیں۔

روشنی میگزین: گوناں گوں مصروفیات میں  سے فیملی اور دوستوں کے لیے وقت نکال لیتے ہیں؟

 سردار عثمان بزدار: جی ہاں! کبھی نہ کبھی دوستوں کے لیے وقت نکال  لیتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ فیملی کو بھی بھرپور وقت دیا جائے۔

روشنی میگزین: اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں یا  ڈی جی پی آر کی طرف سے آنے والی  فائل ہی دیکھتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: اخبارات بھی پڑھتا ہوں، ٹی  وی چینلز پرچلنے والی خبروں سے بھی باخبر رہتا ہوں اور سوشل میڈیا سے بھی بے خبر نہیں۔ صبح سویرے ڈی جی پی آر سے آنے والی فائل بھی پڑھ کر متعلقہ  حکام کو احکامات جاری کرتا ہوں۔

روشنی میگزین: بچپن کہاں اور کیسے گزرا؟ بچپن کا کوئی دلچسپ  واقعہ جو ابھی تک یاد  ہو؟

سردارعثمان بزدار: بچپن بارتھی میں گزرا اور بچپن کا تو ہر واقعہ ہی دلچسپ ہوتا ہے کیونکہ معصومیت کا یہ دور پھر کہاں نصیب ہوتا ہے۔

روشنی میگزین: شرارتی بچے  تھے یا  اچھے بچے  تھے؟

سردارعثمان بزدار: شرارتی تو نہیں کہہ سکتے، ہمیشہ اچھے بچوں میں شمار کیا گیا۔

روشنی میگزین: تعلیم کہاں کہاں سے حاصل کی؟

سردار عثمان بزدار: میں نے ابتدائی  تعلیم بارتھی  سے حاصل کی۔ میٹرک کمپری ہینسیو سکول ملتان سے کیا۔ گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان سے انٹرمیڈیٹ اور گریجوایشن کی جسے ماضی میں بوسن روڈ کالج کہا جاتا  تھا۔ بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر کی  ڈگری حاصل کی اور بعد میں اسی یونیورسٹی سے ایل ایل بی بھی کیا۔

روشنی میگزین: آپ کتنے بہن بھائی ہیں اور آپ کا کون سا نمبر ہے؟

سردار عثمان بزدار: ماشاء اللہ ہم دس بہن بھائی ہیں اور میں سب سے بڑا ہوں۔

روشنی میگزین: موسیقی سے بھی لگاؤ ہے؟ فلمیں وغیرہ دیکھتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: موسیقی سننے اور فلمیں دیکھنے کا وقت کہاں ملتا ہے۔

روشنی میگزین: فرصت کے لمحات میں کیا  کرتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: چہل قدمی اور تیراکی کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔

روشنی میگزین: تنہائی پسند ہیں یا۔۔۔۔؟

سردار عثمان بزدار: تنہائی اب کہاں میسر ہوتی ہے۔

روشنی میگزین: سٹار وغیرہ پر یقین رکھتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: میرا یقین ہے کہ ہر امر اللہ کی  رضا سے مشروط ہے۔

روشنی میگزین: اب تک کی  زندگی  سے مطمئن ہیں؟

سردار عثمان بزدار: جی بالکل! الحمدللہ۔

روشنی میگزین: بچپن میں کس شخصیت سے  متاثر تھے؟

سردار عثمان بزدار: اپنے والد محترم سردار فتح محمد خان بزدار جنہیں اب مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا  ہے۔

روشنی میگزین: اختیار اور پیار میں سے کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔

روشنی میگزین: لباس کے معاملے میں کس قدر محتاط ہیں؟

سردار عثمان بزدار: جی ہاں! لباس تو انسان کی پہلی شناخت ہوتا ہے۔

روشنی میگزین: ناگواری کا اظہار کس طرح کرتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: خاموش رہ کر۔

روشنی میگزین: آپ کا سب سے قیمتی اثاثہ؟

سردارعثمان بزدار: عوام کی دعائیں، ان کی محبت اور خلوص۔

روشنی میگزین: کسی اجنبی سے ملاقات  کا انداز کیا ہوتا ہے؟

سردارعثمان بزدار: ہم بلوچ مہمان  نواز ہیں اور خاطر مدارت ہماری روایات میں شامل ہے۔

روشنی میگزین: آٹوگراف بک میں کیا لکھتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: بس دستخط کرتا ہوں۔

روشنی میگزین: محبت، شہرت اور دولت میں  سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو؟

سردار عثمان بزدار: فی الحال تو میری ترجیحات میں صرف اور صرف عوام کی خدمت ہے۔

روشنی میگزین: شادی کب ہوئی اور ماشاء اللہ کتنے بچے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: اللہ تعالیٰ نے مجھے تین بیٹیوں  سے  نوازا ہے اور میں اللہ کی رحمت پر شکر گزار ہوں۔

روشنی میگزین: کھانے میں کیا پسند ہے؟

سردار عثمان بزدار: سادہ اور صحت بخش غذائیں۔ اپنے علاقے میں ہوں تو  روایتی بلوچ کھانوں کو ترجیح دیتا ہوں۔

روشنی میگزین: اپنی پریشانی گھر والوں کے ساتھ شیئرز کرتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: گھر والوں کے  ساتھ  گھریلو امور تو  شیئر کیے  جاتے ہیں باقی معاملات متعلقہ لوگوں تک ہی محدود رکھتا  ہوں۔

روشنی میگزین: آپ کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ سجی رہتی ہے، غصہ بھی آتا ہے؟

سردار عثمان بزدار: اب غصہ آنے لگا ہے، کیونکہ  لوگ کام نہیں کرتے اورعوام کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تب بہت غصہ  آتا  ہے۔

روشنی میگزین: زندگی کا سب سے خوش گوار لمحہ؟

سردار عثمان بزدار: اللہ کا شکر ہے کہ میری زندگی کا ہر لمحہ خوش گوار ہے۔

روشنی میگزین: آپ کی سب سے اچھی عادت کون سی ہے؟

سردارعثمان بزدار: نرم خوئی۔

روشنی میگزین: صبح اٹھ کر سب پہلا کام کیا کرتے ہیں؟

سردار عثمان بزدار: نماز فجر ادا کرتا ہوں۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •