بچوں کے علامہ اقبال

ذکیہ غفار (اوچ شریف)

اس سال 9 نومبر کو ہم سب علامہ محمد اقبال کا 144واں یوم ولادت منا رہے ہیں۔ اس حوالے سے کیوں نہ ہم بچوں کے اقبال کو یاد کر لیں۔ اقبال نے بانگ درا میں بچوں کے لیے بڑی خوب صورت اور سبق آموز نظمیں لکھیں۔ اس اولین مجموعے میں ایسی جاذبیت، کشش اور سحر انگیزی ہے جو دوسرے مجموعوں میں کم نظر آتی ہے۔ ضرب کلیم اور بال جبریل میں وہ فلسفی اور مفکر نظر آتے ہیں جب کہ بانگ درا میں وہ شاعر فطرت ہیں۔ علامہ اقبال نے بچوں کے لیے تقریباً نو نظمیں لکھی ہیں، جن میں سے بیشتر ماخوذ ہیں غالباً انگریزی سے، کیونکہ صرف دو نظموں ہمدردی اور پہاڑ اور گلہری میں ولیم کوپر اور ایمرسن کے نام دیے گئے ہیں، بقیہ میں صرف ماخوذ لکھا گیا ہے۔ سب سے پہلی نظم ہے ایک مکڑا اور مکھی۔ اس میں جو کہانی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مکڑا جو کئی دن سے بھوکا تھا، اس کے جال کے پاس سے ایک مکھی کا گزر ہوا، مکڑے نے مکھی کی بہت خوشامد کی کہ وہ کچھ دیر کے لیے اس کے گھر میں مہمان بن کر آئے اور آرام کرے، لیکن مکھی بہت ہوشیار تھی، وہ جانتی تھی کہ مکڑے کے جال میں قدم رکھنے کا مطلب کیا ہے، یعنی وہ اسے بہلا پھسلا کر پھنسانا چاہتا ہے، لہٰذا مکھی نے معذرت کر لی یہ کہہ کر کہ

اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے

جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا پھر نہیں اترا

یہ جواب سن کر مکڑے نے سوچا۔۔۔

سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں

دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندہ

اس نظم میں اقبال بچوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ خوشامد اور جھوٹی تعریف سے چال باز لوگ اپنا کام نکالنے کے ماہر ہوتے ہیں۔

دوسری اہم نظم ہے ہمدردی۔ اس نظم میں اقبال نے بچوں کو دوسروں کے کام آنے کی تلقین کی ہے اور کہا ہے کہ آدمی تو سب ہی ہوتے ہیں لیکن انسان وہ ہے جو دوسروں کے واسطے زندہ رہے۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک بلبل دن بھر دانہ دنکا چگنے میں مصروف رہا۔ رات کب سر پہ آئی اسے پتہ ہی نہ چلا، جب چاروں طرف اندھیرا چھا گیا تو پریشانی نے اسے آ گھیرا کہ یا الہیٰ! اب میں اپنے آشیانے تک کیسے پہنچوں؟ ابھی بلبل آہ و زاری کر ہی رہا تھا کہ کہیں پاس ہی ایک جگنو اس کی آواز سن رہا تھا۔ اس نے بلبل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ وہ پریشان نہ ہو۔ اس نے اسے ایک ننھی سی مشعل دی ہے، وہ اس مشعل سے بلبل کو راستہ دکھائے گا تا کہ وہ اپنے آشیانے تک پہنچ سکے۔ جگنو نے اندھیری رات میں بلبل کے آگے اڑ کر اسے راستہ دکھایا اور اس طرح وہ اپنے گھونسلے تک آرام سے پہنچ گیا۔ جگنو نے بلبل سے کہا

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام  دوسروں کے

کاش! ہر انسان بھی اگر جگنو کی اس بات پہ عمل کرے تو دنیا جنت بن جائے۔ نظم پہاڑ اور گلہری میں بھی اقبال نے بڑی پتے کی بات کہی ہے کہ کبھی کسی کو حقیر نہ جانو۔ ہر انسان اور ذی روح کی اپنی اہمیت ہے۔ پہاڑ کو اپنے اوپر بڑا غرور تھا وہ اکثر ننھی منی گلہری کی توہین کرتا اور اپنی بڑائی جتا کر اس کا مذاق اڑاتا اور کہتا تھا

جو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ نصیب کہاں

بھلا پہاڑ کہاں، جانور غریب کہاں

اور آخر میں اس نظم کا ضرور ذکر کرنا چاہوں گی جو ہم میں سے اکثریت نے اپنے اپنے سکولوں میں اسمبلی کے وقت سنی اور پڑھی ہو گی۔ اس کا عنوان ہے، بچے کی دعا۔

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

کتنے دل نشیں ہیں اس نظم کے بول۔ کانوں میں گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں، اپنا سکول، اساتذہ، سہیلیاں، سکول کی روش، اس میں کھلے پھول، بہت کچھ نظروں کے سامنے بکھر جاتا ہے۔

ذکیہ  غفار ، گورنمنٹ  گرلز ایلیمنٹری سکول بستی  زرگر، کوٹ  خلیفہ، ضلع  بہاول پور

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •