تاریخ کے جھروکے سے

شاہ جہانی مسجد ٹھٹہ

انتخاب: عبدالرحمن، بہاولنگر

وادی سندھ کا قدیم ترین شہر ٹھٹہ ہے۔ ٹھٹہ کراچی سے 100کلومیٹر اورکوٹری سے 90 کلو میٹر دور ہے۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا قبرستان مکلی ہے۔ اور یہیں مغل بادشاہ شاہجہاں کی بنائی ہوئی شاہ جہانی مسجد ہے۔ یہ مسجد اپنے فن کے لحاظ سے ایک نادر نمونہ ہے۔ اور بلاشبہ پاکستان کے قدیم عجائبات میں ایک حسین موتی ہے۔ یہ مسجد 1644 ء میں تعمیر ہونا شروع ہوئی اور 1647ء میں مکمل ہوئی۔ چونکہ سندھ میں سنگ سرخ اور سنگ مرمر دہلی یا آگرے سے لانا ناممکن تھا۔ اس لیے اس مسجد میں کاشی کاری کی صنعت سے انتہائی فنکارانہ انداز سے کام لیا گیا۔ مسجد کے 93 گنبد ہیں۔ جو اس کے وسیع مستطیل احاطے کے گرد راہداریوں کے اوپر بنے ہوئے ہیں۔

   اس مسجد کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کا طرز تعمیر اس طرح کے پیش امام منبر پر جو کچھ بیان کرتا ہے وہ گنبد در گنبد ہوتا ہوا پوری مسجد میں سنائی دیتا ہے۔ مسجد کی دیواریں خوبصورت نیلی ٹائلوں سے سجی ہوئیں ہیں۔ اور راہداریاں اعلیٰ درجے کی سرخ اینٹوں سے سجی ہوئیں ہیں۔ یہ راہدایاں مسجد کے وسیع احاطے کے چاروں طرف بنی ہوئیں ہیں۔

قلعہ دراوڑ کی تاریخ اور دلچسپ حقائق

انتخاب: ارحم حسین، ملتان

قلعہ دراوڑ کے نام اور تعمیر کے بارے میں مورخین کی آرا مختلف ہیں۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اس قلعہ کو نویں صدی میں رائے ججا نے تعمیر کروایا جو ایک راجپوت حکمران تھا۔ بعض مورخین کے مطابق قلعہ کو راول دیو راج بھاٹی نے تعمیر کروایا، جو جیسلمیر اور بہاولپور ریاست کا خودمختار راجپوت حکمران تھا۔ اس لیے قلعہ کو دیوراول کہا جانے لگا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ دیو راول سے دیو راور اور پھر دراوڑ بن گیا، جو اس کا موجودہ نام بھی ہے۔ یہ قلعہ جیسلمیر ریاست کا حصہ تھا۔ 1733ء میں نواب آف بہاولپور نواب محمد خان اول نے اس قلعہ پر حملہ کیا اور راجہ راول سنگھ کو شکست دے کر اس قلعہ پر اپنی حاکمیت قائم کی۔ یوں یہ قلعہ ریاست بہاولپور کا حصہ بن گیا۔ جیسلمیر کے راجہ راول سنگھ نے 1747ء میں قلعہ پر دوبارہ قبضہ جما لیا لیکن 1808ء میں نواب آف بہاولپور نے دوبارہ قلعہ پر حملہ کرتے ہوئے راجہ راول سنگھ کو شکست دی اور ایک بار پھر یہ قلعہ ریاست بہاولپور کا حصہ بن گیا۔ اس کے بعد سے یہ قلعہ ان کے خاندان کی حکمرانی میں رہا۔ عباسیوں نے اس کی تعمیرات میں بیش قیمت اضافہ کیا، اس میں موتی مسجد بھی شامل ہے، جسے دلی کے لال قلعہ میں واقع مسجد کے مماثل مغلیہ فن تعمیر پر بنایا گیا۔ ساتھ ہی اس قلعہ سے ایک خفیہ سرنگ بھی بنائی گئی جو نور محل سے منسلک ہوتی تھی، عباسی نوابوں کی قلعہ میں آمد ورفت کا سلسلہ یہیں سے جاری رہا۔

قلعہ دراوڑ کی 30میٹر بلندوبالا بل کھاتی مربع شکل کی دیواریں، قلعہ کے جاہ و جلال کی ایک عظیم داستان بیان کرتی ہیں۔قلعہ دراوڑ کا آرکیٹیکچراس ثقافتی میل ملاپ کا سنگم ہے، جو مغل اس برصغیر میں اپنے ساتھ لائے۔مغل طرزِ تعمیر کے اس شاہکار قلعہ میں آپ کوفارس، تیموری اورہندو طرزِ تعمیر کی مشترک خوبیاں نظر آئیں گی۔نظری اعتبار سے اسے آپ دیوارِ سندھ رنی کوٹ سےمشابہ قلعہ قرار دے سکتے ہیں۔ صحرائے چولستان کے عین درمیان واقع اس قلعے کا طلسمی نظارہ دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔اس کی سرمئی، کتھئی اور سنہری رنگت ماحول کو سحر زدہ کر دیتی ہے۔

قلعہ دراوڑ کے حوالے سے مندرجہ ذیل کچھ دلچسپ حقائق ملاحظہ کریں

٭ قلعہ دراوڑ کو چولستان میں داخل ہونے کا دروازہ،’’بابِ چولستان‘‘ بھی کہا جاتاہے۔

٭ قلعہ دراوڑ کو پاپولر میوزک ویڈیوز میں پس منظر کے طور پر فلمایا جاچکا ہے۔

٭ صحرائے چولستان میں ہر سال منعقدہ جیپ ریلی کے آغاز کا ابتدائی نقطہ دراوڑ قلعہ ہوتا ہے۔ یہ ریلی تین اضلاع سے گزرتی ہے، جس میں لوگوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔

٭ برطانوی ادوار میں یہاں قیدیوں کوقید رکھا جاتا تھا اور یہی وہ جگہ ہے جہاں کچھ مکینوں کو پھانسی بھی دی گئی۔

٭روہی کے اس ریگستان میں قلعہ دراوڑ جیسے40قلعے ہیں، جو بے توجہی کا شکار ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان کے سیاحتی مقاموں میں چولستان کی پہچان قلعہ دراوڑ ہی 

ہے لیکن اسی کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ غیرملکی اس عظیم ورثے کی تعریف کرتے ہیں۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •