حضرت محمد ﷺ بحیثیت معلم

انتخاب: علی حسین، ملتان

’’اقراء‘‘ (پڑھ) وحی کا پہلا لفظ جس سے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ ملا۔ علم، عقل۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’اقراء بسم ربک الذی خلق‘‘ (پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تخلیق کیا)۔

مسلمان کو جو پہلا حکم ملا وہ تھا اقراء (پڑھ) اور اقراء بھی کون سا؟ وہ جو اپنے رب کے نام سے شروع ہو، جو انسان کو اﷲ کی طرف لے جائے، جو انسان کو اﷲ کی صفات سے، اس کے کمالات سے اور اس کی ذات سے آشنا کروائے اور پھر اﷲ نے صرف کتاب ہی نازل نہیں کی بلکہ ساتھ ہی پیغمبر بھی نازل کیا جو کہ اس کتاب کی آیات پڑھ کر سنائے اور اس کی تعلیم دے۔ اسی لیے ایک جگہ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔

 

اسلامی تاریخ میں جب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یثرب کے لوگوں کی دعوت قبول کی اور یثرب کے لوگوں نے پورا شہر آپ کے حوالے کردیا اور ہجرت کے بعد یثرب مدینۃ النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے نام سے مشہور ہوا، وہیں انتظامات سے فارغ ہوتے ہی آپؐ نے مسجد نبوی کی بنیاد ڈالی۔ مکہ سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کو مدینہ میں رہنے والے انصار کا بھائی بنا دیا اور یہ بھائی چارہ قائم کرکے اسلامی مواخات کی وہ مثال قائم کی جو آج تک دنیا نہ پیش کرسکی۔ اس کے ساتھ ہی آپؐ نے مسجد کے ساتھ بنے ایک بڑے سے چبوترے پر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا جس میں وہ اصحاب جو مجرد تھے، شامل تھے، وہ اسی چبوترے پر رہا کرتے تھے اور تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ ان کی کفالت کی ذمے داری خود حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور معاشرہ کیا کرتا تھا۔ چبوترے کو عربی میں ’’صفہ‘‘ کہتے ہیں چنانچہ یہ ’’اصحاب صفہ‘‘ کہلائے اور اس طرح اسلامی تاریخ کا پہلا اسکول دارِ ارقم کے نام سے اصحاب صفہ کا قائم ہوا۔ یہاں درس و تدریس کا سلسلہ روایتی نہ تھا بلکہ طالب علم پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے درس لیتے۔ ادب سے سنتے اور ذہن نشین کرتے۔ ایک صحابیؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ہم اس طرح خاموش مودب بیٹھا کرتے تھے گویا ہمارے سروں پر پرندہ بیٹھا ہو اور ہمارے حرکت کرنے پر وہ اڑ جائے گا‘‘۔

یہاں پیچیدہ نکات پر بحث ہوتی، علمی مسائل بیان کیے جاتے، ذہن کی گتھیوں کو سلجھایا جاتا، تاریخ کے حوالوں پر بحث ہوتی، ماضی کے قصے بیان کیے جاتے، حال کی مثالیں سامنے لائی جاتیں، مستقبل کے خوش آیند امکانات کا ذکر ہوتا، قرآنی قصص پڑھے جاتے، عقائد کا بیان ہوتا، عذاب کا، دوزخ کا ذکر ہوتا، حشر کے ہولناک دن کی حشر سامانیوں سے ڈرایا جاتا، جنت کی نعمتوں کی خوش خبری دی جاتی، نیت کے خالص ہونے پر جزا و سزا کا تعین، نتائج سے بے پروا عمل، سعی مطلوب کا تذکرہ ہوتا۔ یہ روایتی مدرسہ یا خانقاہ تو تھی نہیں بلکہ یہ تو پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی محفل تھی۔ یہاں سب کچھ تھا۔ یہ قومی لیکچر ہال بھی تھا۔ یہ سرکاری مہمان خانہ بھی تھا، یہ جمہوری دارالعلوم بھی تھا، یہ حکومت کا دربار بھی تھا اور یہ مشورے کا ایوان بھی تھا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد تھا کہ مسلمان اپنے اﷲ کو پہچانیں۔ اس کی نعمتوں کا احساس کریں اور اس کا شکر ادا کریں۔ اس کی نافرمانی سے بچیں۔ ایک جگہ آپؐ نے فرمایا:’’میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی اور جب آس پاس کا ماحول آگ کی روشنی سے چمک اٹھا تو یہ کیڑے پتنگے اس پر گرنے لگے اور وہ شخص پوری قوت سے ان کیڑے پتنگوں کو روک رہا ہے لیکن پتنگے ہیں کہ اس کی کوشش کو ناکام بنائے دیتے ہیں اور آگ میں گھسے پڑ رہے ہیں اسی طرح میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ سے روک رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑ رہے ہو‘‘۔

آج معاشرے میں ایک مایوسی کی کیفیت نظر آتی ہے۔ ہر شخص کو دوسرے سے شکوہ شکایت ہے۔ زندگی کی ایک دوڑ ہے جس میں زیادہ سے زیادہ اور خوب سے خوب ترکی تلاش نے سب کو اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا ہے۔ پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کیا خوبصورت انداز میں اس سے بچنے کا طریقہ بتایا ہے، ’’ان لوگوں کی طرف دیکھو جو تم سے مال و دولت اور دنیاوی جاہ و مرتبے میں کم ہیں تو تمہارے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہوگا اور ان لوگوں کی طرف نہ دیکھو جو تم سے مال و دولت میں اور دنیاوی ساز و سامان میں بڑھے ہوئے ہیں تاکہ جو نعمتیں تمہیں اس وقت ملی ہوئی ہیں وہ تمہاری نگاہ میں حقیر نہ ہوں اور نہ خدا کی ناشکری کا جذبہ پیدا ہوگا‘‘۔

آج کے دن اگر ہم صرف اسی ایک بات کا عہد کرلیں کہ ہم ہر کام میں، ہر نعمت پر، ہر چیز کے ملنے پر، اپنے ہر کام کے اختتام پر صرف اور صرف اﷲ کا شکر ادا کریں گے تو شاید یہ مبارک دن ہمارے لیے ایک نئے عہد کا پیش خیمہ ثابت ہو اور ہم بھی سیرت محمدؐ کی کسی ایک بات پر تو عمل کرنے کے قابل بن سکیں۔ یہی آج کے دن کا پیغام بھی ہے۔

(تحریرماخوذ: حمیرا خاتون (ایکسپریس

 

سیرت نبوی ﷺ

انتخاب: حافظ فہیم احمد ، بہاولپور

ہر ابتداء سے پہلے ہر انتہا کے بعد

ذات نبی بلند ہے ذات خدا کے بعد

دنیا میں احترام کے لائق ہیں جتنے لوگ

میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیﷺکے بعد

اگر زمیں و آسمان کے چودہ طبق کاغذات بن جائیں ، دنیا کے تمام سمندر سیاہی بن جائیں ، پوری کائنات کے درخت قلم بن جائیں اور پوری کائنات کی تمام مخلو قات لکھنے والے کاتبین بن جائیں ۔ بحثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ کاغذات ختم ہو جائیں گے۔ سمندر سیاہی کے خشک ہو جائیں گے۔ قلمیں ٹوٹ پھوٹ جائیں گی اور لکھنے والے کاتبین تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے۔ مگر میرے مصطفی ﷺ کی شیرت کا پہلا پہلو بھی ختم نہیں ہو گا۔

نہ ہے تاب سخن مجھ کو نہ تحریر کا یارا                  میں ذرہ ہوں میرا موضوع ہے خورشید جہاں آرا

حامی بے کس ، ناصر بے دل ، والئی مضطر، یاور مخدوں ، امئی بطحا، خواجئہ گیہاں، جلوہ طراز عرش معلی کے حضور گدائے بے نوا کے چند ٹوٹے پھٹے الفاظ ہیں ۔ لہذا جہاں رشد کا سلسلہ ہو گا وہاں راشد کی بات بھی ہو گی۔ جہاں ہدایت کا قصہ ہو گا وہاں ہادی کا نام بھی ہو گا۔ جہاں سیرت کا تذکرہ ہو گا وہاں صاحب سیرت کا چرچا بھی ہو گا۔تاوقت رحمت اللعالمین کا اجمالی خاکہ پیش کیا جائےیا سیرت سرور کونین کی وضاحت کی جائے ناممکن ہے! کون رحمت اللعالمین؟ جس کو محمدﷺ بن عبداللہ کے بجائے محمد الرسول اللہ ﷺ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ وہ جو خالق کا بندہ بھی مخلوق کا مولا بھی ہے۔ صاحب قرآن بھی ہے حامل قرآن بھی ہے۔ اجمال بھی ہے تفصیل بھی ہے۔ طہبھی یسین بھی ہے۔ اسلام کا شاہکار بھی ہے اور حسن کا نکھار بھی ہے۔ مظہر خدا بھی ہے نور خدا بھی ہے۔ جلال خدا بھی ہے اور جمال خدا بھی ہے۔ اسماعیل کی ابتداء بھی ہے اور حسین کی انتہا بھی ہے۔ فخر انبیاء بھی ہے اور امام الا نبیاء بھی ہے۔ شافع محشر بھی ہے اور ساقئ کوثر بھی ہے۔

میرے حضورﷺ کی تشریف آوری سے پہلے مکہ میں ابوجہل کی حکومت تھی ۔ ہر طرف جہالت کا دور دورہ تھا۔ لوگ شراب عام پیتے تھے ۔ جوا عام کھیلتے تھے۔ امیر لو گ بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ درگور کر دیتے تھے اور غریب کی بیٹی کو زندہ رکھا جاتا تھا تاکہ وہ جوان ہو کر امراء کی حوس کو پور ا کر سکے ۔ عورتوں سے حیوانوں والا سلوک روارکھا جاتا تھا۔ کمزور کو کمزور تر کیا جاتا تھا۔ ہر طرف آتش پرستی و بت پرستی کا دور دورہ تھا۔ الغرض انسانیت جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں غلطاں تھی ۔ ایسے حالات میں ضرورت تھی ایک ایسے مصلح کی جو آکر پورے نظام کو بدل ڈالے ۔ چناچہ اللہ کریم کو اپنی مخلوق پہ ترس آیا اور رحمت خداوندی جوش میں آئی اور آمنہ کے لعل کی شکل میں ایک ہادئ بر حق کو مبعوث فرمایا۔

آپ ﷺ کی تشریف آوری سے دنیا کو رنگ لگ گیا۔ اجڑی دھرتی آباد ہو گئی ۔ عرب جہنم سے آزاد ہو گیا۔ آپ ﷺکی آمد سےبزدل بہادر بن گئے ۔ راہزن  رہبر بن گئے ، رذیل شریف بن گئے، مشرک مؤحد بن گئے۔ اور تین سو ساٹھ بتوں کے پجاری ایک اللہ کے درپے جھکتے نظر آئے۔یہ آپﷺکی سیرت عالیہ و طیبہ کی عظمت و برکت ہی تھی جس کے سائے تلے ابوبکر آئے تو صدیق بن گئے۔ عمر آئے تو فاروق بن گئے۔ عثمان آئے تو ذولنورین  بن گئے ۔ علی آئے تو حیدر کرار بن گئے ۔ خالد بن ولید آئے تو لشکر جرار اور سیف اللہ بن گئے۔ ابو ہریرہ آئے تو حافظ الحدیث بن گئے۔ اور بلال ائے تو مؤذن رسول ﷺبن گئے۔

جن لوگوں کو سیرت النبی ﷺ میسر آگئی وہ لوگ عرش پہنچے ۔ انہیں عزت ملی ، شان و شوکت ملی ۔ زندگی ملی ۔ بندگی ملی شاہی ملی اور ناخدائی ملی۔ سیرت کا مقصد شیریں اور شیریں زبانی نہیں بلکہ سیرت کا مقصد تو یہ ہے کہ صاحب سیرت کی ہر بات اور ہر عمل کو فلاح حیات سمجھا جائے۔ آپ کے عمل پر جان کا نذرانہ پیش کیا جائے۔ آج  عالم اسلام کی بلکہ پوری دنیا کی فلاح ملک و تعمیر میں نہیں ، شاہی محلات میں نہیں بلکہ یتیم مکہ کی سیرت کے شفا خانے میں ہے۔ آؤ نظام مصطفی کے جانثارو ، اتباع مصطفی کو حرز جان بنا لو پھر دونوں جہاں ہمارے ہوں گے۔ ہوائیں ہمارا پیغام پہنچائیں گی ۔ سمند ر ہمارے لیے راستے بنائیں گے ۔ دجلہ و فرات ہمارا کہا مانیں گے ۔ فرشتے جھک جائیں گے اور یزداں فخر کر ے گا۔

تیر در ہو میرا سر ہو  میر ا دل ہو تیرا گھر ہو

تمنا مختصر سی ہے     مگر تمہید طولانی

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •