لطائف

دماغ کی بات

داماد (اپنے سسر سے )  آپ کی بیٹی میں دماغ نام کی کوئی چیز نہیں ہے

سسر: بیٹا! تم نے اس کا ہاتھ مانگا تھا، دماغ کی تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔

محمد واجد، جماعت ششم، گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ خلیفہ ضلع بہاول پور

اصلی ماچس

مالک (نوکر سے) یہ لو پانچ روپے کی ماچس لے کرآؤ اور سنو! اچھی طرح دیکھ بھال کر لینا کہیں نقلی نہ ہو۔

نوکر (ماچس دیتے  ہوئے) صاحب جی! میں نے ایک ایک کر کے پوری ماچس کی تیلیاں جلا کر دیکھ لی ہیں، اس میں ایک بھی نقلی نہیں ہے۔

پاکیزہ ، جماعت نہم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مخدوم عالی، ضلع لودھراں

گڑھے کی مٹی

ایک زمیندارنے  اپنے باغ میں مٹی کا ایک ڈھیر دیکھا تو اپنے نوکر سے کہا کہ ایک گڑھا کھود کر یہ مٹی اس میں ڈال دو۔

نوکر (حیرانی سے) جناب! تو اس گڑھے کی مٹی کہاں جائےگی؟

زمیندار (غصے سے) تم کتنے احمق ہو، اس کے لیے ایک اور گڑھا کھود لو

فروا عرفان ، جماعت ہشتم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نئی آبادی ،مظفرگڑھ

کمربھی ٹوٹ  جائے  گی

مریض (ڈاکٹر سے)   آپ نے  جودوائی دی تھی، اس سے بخار تو ٹوٹ گیا ہے لیکن کمر میں درد ہے ۔

ڈاکٹر (ایک اور دوا دے کر) یہ لو دوائی، اگر اللہ نے چاہا تو کمر بھی ٹوٹ جائے گی ۔

شیر محمد ،جماعت ہفتم ،گورنمنٹ ہائی سکول روجھان، ضلع راجن پور

بال بیکا

سلیم (اپنے دوست  رؤف سے) میرے بھائی کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

رؤف:  کیوں کیا وہ رستم زماں ہے ۔

سلیم : نہیں، وہ گنجے ہیں۔

فرحت خان ،جماعت ہفتم، گورنمنٹ ہائی سکول روجھان، ضلع راجن پور

بڑے آدمی کی جیب

ایک شخص (دوسرے سے)  میں نے آج ایک بڑے آدمی کی جیب کاٹی ہے۔
دوسرا شخص: کمال ہے، آخر کیسے؟
پہلا شخص : کیوں کہ میں درزی ہوں۔

عباللہ اکبر ، جماعت ششم ، گورنمنٹ ہائی سکول کاٹ اللہ یار، بہاول نگر

دن کو تارے

استاد  (شاگرد سے) بتاؤ ،دن کو تارے کیوں نہیں نکلتے؟

شاگرد: جناب وہ سورج کے راستے میں ٹانگ نہیں اڑانا چاہتے۔

عبداللہ خان، جماعت ششم، گورنمنٹ کمپری ہنسیو بوائز ہائیر سکینڈری سکول ملتان

شیشے کی قیمت

گاہک (دکان دار سے) اس شیشے کی کیا قیمت ہے؟

دکان دار:صرف ایک ہزار روپے

گاہک: اتنا مہنگا کیوں، اس میں کیا خاص بات ہے؟

دکان دار: اسے اگر 100ویں مزل سے نیچے گرایا جائے تو یہ 99ویں منزل تک نہیں ٹوٹے گا۔

گاہک: واہ، واہ! جلدی سے پیک کر دو اسے۔

علی حسن، جماعت ششم، گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول 69 /ڈبلیو بی، ضلع وہاڑی

فارغ وقت میں کھیل لیا  کروں گا

ایک آدمی نے ایک نوکر رکھا اور اس کو کام بتائے۔دیکھو! گھر کی صفائی کرنا ،کھانا پکانا ،تین وقت چائے بنانا ،بازار سے سودا سلف لانا ،برتن دھونا ،گھوڑے کی مالش کرنا،رات کو میرے پاؤں دبانا اور گھر کے دیگرچھوٹے موٹے کام کرنا ہوں گے۔نوکر نے پوچھا ۔حضور !گھر کے قریب کوئی میدان بھی ہے؟ اس آدمی نے حیران ہو  کر  پوچھا۔ کس لئے ؟ نوکرنے ادب سے جواب دیا۔  جناب ! مجھے خاصی فرصت ہوا کرے گی ،فارغ وقت میں کھیل لیا کروں گا۔

امان اللہ، جماعت ہفتم، گورنمنٹ ہائی سکول ساہن والا، ضلع راجن پور

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

ایک طالب علم اردو کے امتحان میں غالب کے اشعار کی تشریح  لکھ رہا تھا، جب یہ  شعر سامنے آیا

موت کا ایک دن متعین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

اس کی تشریح کرتے ہوئے اس نے لکھا: موت جب بھی آئے گی دن کے وقت ہی آئے گی پھر رات کو نیند کیوں نہیں آتی۔

مرید حسین، جماعت نہم، گورنمنٹ ہائی سکینڈری سکول کوٹ مبارک، ڈیرہ غازی خان

میں خیریت سے ہوں

ایک شخص کو مذاق کرنے کی بہت عادت تھی۔ ایک دفعہ اس نے اپنے ایک دوست کو امریکہ خط بھیجا۔ جس میں صرف یہ تحریر تھا میں خیریت سے ہوں۔ چند روز بات امریکا سے ایک بھاری پارسل موصول ہوا۔ جسے چھڑانے کے لیے اسے کافی پیسے ادا کرنے پڑے۔ پارسل کھولا تو اس میں ایک بڑا پتھر نکلا۔جس پر ایک  چٹ لگی تھی۔ آپ کی خیریت کی اطلاع پا کر دل سے فکر کا یہ بھاری پتھر اتر گیا۔

سحرہ خادم، جماعت ششم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول سمرا نشیب شمالی لیہ

مجھے جگا دینا

ٹرین میں ایک لڑکے نے ٹکٹ چیکر سے کہا کہ مجھے صبح چار  بجے نواب شاہ اسٹیشن پر اترنا ہے، پلیز مجھے جگا دینا اور اگر میں نہ جاگوں تو مجھے زبردستی ٹرین  سے اتار دینا ، صبح میرا انٹرویو ہے۔

صبح چار بجے لڑکے کی جاگ ہوئی تو ٹرین حیدر آباد میں رکی ہوئی تھی۔

لڑکے نے ٹکٹ چیکر کو بہت برا بھلا کہاکہ اس نے نواب شاہ آنے پر اسے کیوں نہیں جگایا۔

لوگوں نے ٹکٹ چیکر سے کہا کہ یہ تم کو اتنا برا بھلا کہہ رہا ہے اور تم چپ چاپ سن رہے ہو ،  کچھ کہتے کیوں نہیں۔

ٹکٹ چیکر : میں یہ سوچ رہا ہوں کہ صبح جس کو میں نے زبردستی ٹرین سے اتارا تھا وہ مجھے کتنا کچھ کہہ  رہا ہوگا۔

صائمہ عزیز،جماعت ششم، گورنمنٹ گرلزایلمنٹری سکول دین پور ،مظفرگڑھ

جناب آپ ہی کا  شاگرد ہوں

استاد:  کمرہ جماعت  میں لڑائی کیوں نہیں کرنی چاہیئے؟

طالب علم : کیا پتہ کل کو امتحان  میں کس کے پیچھے بیٹھنا پڑ جائے۔

استاد: بڑے سمجھ دار ہو۔

طالب علم:جناب آپ کا ہی شاگرد ہوں۔

محمد سرور زاہد، گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول مخدوم پور، ضلع خانیوال

بل پھر  بھی  آتے رہیں  گے

احمد صاحب کے گیٹ پر لگا ہوا ڈاک بکس کافی پرانا ہو چکا تھاـ وہ اسے اتار کر نیا بکس لگانا چاہتے تھے لیکن وہ  کافی مضبوطی سے لگا ہوا تھاـ ایک روز وہ اسے اُتارنے کے لیے زور آزمائی کر رہے تھے کہ اچانک ایک موٹر سایئکل سوار رُک  گیا اور ہمدردانہ لہجے میں بولا:  کوئی فائدہ نہیں جناب! بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے بل پھر بھی آتے رہیں گے۔

محمد راشد، جماعت ہفتم، گورنمنٹ ہائی سکول حیدر پور، ضلع بہاول پور

دوسرے ڈاکٹر کے پاس۔۔۔

میاں بیوی ڈاکٹر کے پاس گئے ۔ چیک اپ کے بعدکلینک سے نکل کر بیوی شوہر سےبولی : ڈاکٹر نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں کی سیر کرو تاکہ طبیعت پر اچھا اثر پڑے۔

شوہر : (سر کھجاتے ہوئے) اچھا۔۔

بیوی: تو اب آپ فیصلہ کر لیں کہ کہاں کہاں جانا ہے؟

شوہر : چلو دوسرے ڈاکٹر کے پاس۔

اللہ دتہ،جماعت دہم، گورنمنٹ ہائی سکول مان والہ،کبیروالہ،خانیوال

آہو، ساریاں دی گئی اے

جب لائٹ جائے تو امریکی پاور ہاؤس کال کرتے ہیں۔

جاپانی فیوز چیک کرتے ہیں۔

جب کہ پاکستانی گلی میں جھانک کر کہتے ہیں: ‘آہو ساریاں دی گئی اے’۔

محمد شعیب ، جماعت ہشتم ،گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ خلیفہ، ضلع بہاول پور

ذرا مسکرائیے

استاد (بچوں سے) کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ گائے کی کھال کا کیا فائدہ ہے؟

کلاس کی سب سے زیادہ ذہین لڑکی نے کھڑے ہوکر جواب دیا: سر! یہ پوری گائے کو اکٹھا رکھتی ہے۔

٭٭٭٭٭

بیوی: آپ کو میری خوبصورتی زیادہ اچھی لگتی ہے یا عقل مندی؟

شوہر: مجھے تو تمہاری یہ مذاق کی عادت بہت اچھی لگتی ہے۔

٭٭٭٭٭

بیوی: (آسمان پر ستارے دیکھ کر شوہر سے بولی) بتاؤ وہ کون سی چیز ہے جو تم روز دیکھتے ہو لیکن توڑ نہیں سکتے؟

شوہر: تمہارا منہ

٭٭٭٭٭

شاگرد (استاد سے) بارش ہوتی ہے تو پانی کہاں جاتا ہے؟

استاد (غصے سے) جہنم میں

شاگرد: پھر تواب تک جہنم کی آگ بجھ چکی ہو گی۔

٭٭٭٭٭

ایک بچے نے دوسرے بچے سے کہا: مجھے آج دو روپے کا سکہ ملا ہے

دوسرے بچے نے کہا: ارے یہ تو میرا ہے۔

پہلے بچے نے کہا: ارے جا! مجھے تو ایک ایک کے دو سکے ملے ہیں۔

دوسرے نے کہا: میرا سکہ زمین پر گر کر ٹوٹ گیاتھا۔

خورشید بی بی، جماعت پنجم، گورنمنٹ پرائمری سکول بستی زرگر، کوٹ خلیفہ، ضلع بہاول پور

سر! آپ کو تکلیف تو  ہو  گی۔۔۔

ایک استاد صاحب کے پاس چیک ہونے کے لیے ایک پرچہ آیا۔  پرچے پر بڑی خوبصورتی سے طالب علم نے اپنا رول نمبر اور نام لکھا تھا۔  دوسرےصفحہ پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھا تھا۔  تیسرے صفحہ پر سوال کا نمبر لکھا تھا۔  چوتھے صفحے پر بچے نے لکھا : سر!  یہاں سیاہی پھیل رہی ہے۔  پانچویں صفحے پر لکھا:   ایک اور صفحہ ملاحظہ فرمائیں۔  چھٹے صفحے پر لکھا : سر!  آپ کو تکلیف تو ہوگی،  اگلے صفحے پر سوال شروع کرتا ہوں ۔ جب استاد اگلے صفحے پر پہنچا تو طالب علم نے بڑی خوبصورتی سے لکھا ہوا تھا  : سر! آ پ نے اتنا سفر طے کیا ، اگر مجھے کچھ آتا ہوتا تو پہلے صفحے پر ہی نہ لکھ دیتا۔

امیرحمزہ ، جماعت نہم، گورنمنٹ ہائی سکول 137/10 جہانیاں، ضلع خانیوال

مجھے دھکا  کس نے  دیا؟

کسی بحری جہاز میں کئی افراد سفر کر رہے تھے  کہ اچانک ایک بچہ سمندر میں گر گیا۔ جہاز میں ہلچل مچ گئی۔ تھوڑی دیر بعد ایک نوجوان، بچے کو اپنی گود میں اٹھائے سمندر سے نکل آیا۔ لوگوں نے اس کی  بہادری اور حوصلہ مندی  کی تعریف کی۔  نوجوان بولا : وہ تو سب ٹھیک ہے ، مگر یہ بتاؤ کہ مجھے دھکا کس نے دیا تھا؟

شعیب احمد، جماعت نہم ، گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ خلیفہ ، ضلع بہاول پور

کنجوس  آدمی  کا تحفہ

ایک کنجوس آدمی نے اپنی بیٹی کی شادی  پراسے شطرنج جہیز میں دی ۔کسی نے پوچھا کہ یہ کیسا تحفہ ہے؟ کنجوس آدمی نے کہا: میں اپنی بیٹی کو شادی میں گھوڑے، ہاتھی اور نوکر تحفے میں دینا چاہتا تھا۔

امام بخش مصطفیٰ، جماعت سوئم، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول روجھان ضلع راجن پور

مسکرائیے! آپ  کے  چہرے  کی قدر بڑھے گی

ایک بابا جی دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس گئے۔  ڈاکٹر نے کہا منہ کھولیں ۔ انہوں نے منہ کھولا ۔ڈاکٹر نے کہا اور کھولیں۔

بابا جی نے کہا : بیٹا! کیا دانت اندربیٹھ کر چیک کرو گے۔

٭٭٭٭٭

 ڈاکٹر  (مریض سے) اس دوا کے دو چمچے صبح ،دو دوپہر ،دو چمچے شام اور دو رات کو لینا ۔

مریض نے گھبرا کر کہا :  جناب چمچے کچھ کم کریں ،میں اتنے چمچے کہاں سے لاوں گا۔

٭٭٭٭٭

 ایک بے وقوف  (دوسرے بے وقوف سے)  اگر تم یہ بتا دو کہ اس ٹوکری میں کیا ہے تو سارے کے سارے انڈے تمہارے اور اگر تم یہ بتا دو کہ یہ کس جانور کے ہیں تو وہ مرغی تمہاری اور اگر تم یہ بھی بتا دو کہ اس ٹوکری میں کتنے انڈے ہیں تو 12 انڈے تمہارے۔

 دوسرا بے وقوف: یا ر۔۔۔۔۔۔ کتنا مشکل سوال ہے، کوئی اشارہ تو دو۔

سویرہ مقبول، گورنمنٹ گرلز ترکش ماڈل ولیج سکول رکھ عظمت والا، ضلع راجن پور
شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •