لطائف

علامہ اقبال کی بزلہ سنجی


پنجاب کے مشہور قانون دان چودھری شہاب الدین علامہ کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔ ان کا رنگ کالا اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھا۔ ایک روز وہ سیاہ سوٹ پہنے ہوئے اور سیاہ ٹائی لگائے کورٹ میں آئے تو اقبال نے انہیں سرتاپا سیاہ دیکھ کر کہا: اے چودھری صاحب! آج آپ ننگے ہی چلے آئے ۔

کامران بلوچ، جماعت ہفتم، گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول کوٹ سمابہ، ضلع رحیم یار خان

موٹر میں کتے

فقیر سید وحید الدین کے ایک عزیز کو کتے پالنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک روز وہ لوگ کتوں کے ہمراہ علامہ سے ملنے چلے آئے۔ یہ لوگ اتر اتر کر اندر جا بیٹھے اور کتے موٹر ہی میں رہے۔ اتنے میں علامہ کی ننھی بچی منیرہ بھاگتی ہوئی آئی اور باپ سے کہنے لگی: ابا! موٹر میں کتے آئے ہیں۔ علامہ نے احباب کی طرف دیکھا اور کہا: نہیں بیٹا! یہ تو آدمی ہیں۔

شبیر احمد ناز ، جماعت اول، الخیر ہائیر سکینڈری سکول اوچ شریف، ضلع بہاول پور

اقبال ہمیشہ دیر ہی سے آتا ہے

علامہ اقبال بچپن ہی سے بذلہ سنج اور شوخ طبیعت واقع ہوئے تھے۔ ایک روز (جب ان کی عمر گیارہ سال کی تھی) انہیں اسکول پہنچنے میں دیر ہو گئی۔ ماسٹر صاحب نے پوچھا: اقبال تم دیر سے آئے ہو۔ اقبال نے بے ساختہ جواب دیا: جی ہاں! اقبال ہمیشہ دیر ہی سے آتا ہے۔

محمد حمزہ شاہد، جماعت سوئم، گورنمنٹ بورڈنگ سکول اوچ شریف ضلع بہاول پور

قوال کا وجد

خلافت تحریک کے زمانے میں مولانا محمد علی، علامہ اقبال کے پاس آئے اور بولے: آپ نے اپنی شاعری سے لوگوں کو گرما کر ان کی زندگی میں ہیجان برپا کر دیا ہے لیکن خود کسی عملی کام میں حصہ نہیں لیتے۔ اس پر علامہ اقبال نے جواب دیا: میں تو قوم کا قوال ہوں، اگر قوال خود وجد میں آ کر جھومنے لگے تو قوالی ہی ختم ہو جائے گی۔

آمنہ شمیم، جماعت سوئم، الخیر ہائیر سکینڈری سکول اوچ شریف ضلع بہاول پور
شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •