مسئلہ آپ کا، حل ہمارا

سوال: پہلے کورس کے تمام مضامین اردو میں ہوتے تھے۔ اب اردو کے علاوہ سارے مضامین انگریزی میں ہیں۔میری انگریزی کمزور ہے اس لیے مجھے پڑھائی سے اکتاہٹ ہونے لگی ہے۔

(فرید احمد، واہ کینٹ)

جواب: نصاب کو مکمل طورپر انگریزی میں کرنے کے باعث بہت سے طلبہ اس مشکل سے دوچار ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ انگریزی سیکھے بغیر اب گزارا نہیں۔ آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے جس شعبہ میں بھی جائیں گے، آپ کو تمام مضامین انگریزی میں ہی پڑھنا پڑیں گے۔ انگریزی سے گھبرانے یا اس سے راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے اسے پوری توجہ سے سیکھیے۔ اپنے اساتذہ سے اس حوالے سے مدد لیں۔ ابتدا میں آپ کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،پھر آہستہ آہستہ جب ذخیرہ الفاظ بڑھ جائے گا تو آپ آسانی سے نہ صرف انگریزی پڑھ لکھ سکیں گے بلکہ ہمیں یقین ہے کہ آپ باآسانی انگریزی بول بھی سکیں گے۔ یہ بات بھی یاد رکھیے کہ انسان جس چیز سے گھبراتا ہے، وہ اس کے لیے مشکل سے مشکل تر ہو جاتی ہے۔ انگریزی اتنی بھی مشکل نہیں ہے کہ اس سے گھبرایا جائے۔ ہمت کیجیے اور انگریزی سیکھنے کی کوشش کیجیے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میرے دوست مجھے پاگل اور بے وقوف کہتے ہیں۔ مجھے سمجھنے کے بجائے میرے احساسات کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے۔

(عبدالستار، ڈیرہ غازی خان)

جواب: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی موضوع پر اپنے دوستوں سے بحث کرتے ہیں تو اکثر بحث کے دوران میں ہی یہ مرحلہ آتاہے کہ بات سننے والے جب بات سمجھ نہیں پاتے تو آپ کو پاگل یا بے وقوف کہنے لگتے ہیں۔ ایسا کئی موقعوں پر دیکھنے میں آتا ہے۔ آپ اپنی بات پر اصرار نہ کیجیے، صرف اپنا مؤقف بیان کیجیے۔ دوسروں کی رائے بھی سنیے اور بحث سے جس حد تک ہو سکے، بچیں۔ یہ بات درست ہے کہ جب دوسرا آپ کے جذبات سمجھ نہیں پاتا تو اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ اس تکلیف میں مزید اضافہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ اس کے بار ے میں زیادہ غور کرتے اور اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اپنے دوستوں سے محبت سے پیش آئیں، ان کی باتیں بھی سنیں۔ ممکن ہے کہ بے تکلفی کے باعث آپ کے دوست آپ کو پاگل یا بے وقوف کہتے ہوں۔ ان باتوں کودل پر مت لیں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں اپنی زندگی سے بہت بے زار ہوں۔ بے زاری کی وجہ بھی معلوم نہیں۔ مجھے کیا کرناچاہیے؟

(عبدالجبار، کراچی)

جواب: کیوں میاں!زندگی جیسی خوب صورت چیز سے آپ بے زار کیوں ہیں؟ حیرت اس بات پر ہے کہ آپ کو زندگی سے بے زاری کی وجہ بھی معلوم نہیں۔ نوجوان تو زندگی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس تو کسی سے بے زار ہونے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ ان کے دل میں تو آگے ہی آگے بڑھنے کا جذبہ موجزن ہوتا ہے۔ آپ اپنے معمولات پر غور کیجیے، آپ سارا دن کیا کرتے ہیں،اس کی ایک فہرست مرتب کریں۔ زندگی میں بے زاری اس وقت در آتی ہے، جب زندگی کا کوئی واضح مقصد سامنے نہ ہو۔ مقصد جب زندگی کا محور ہو تو زندگی میں بے زاری کا عنصر پیدا نہیں ہوتا۔ جب مقصد سامنے ہو تو انسان اس کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہے، دوڑ دھوپ کرتا ہے۔ یہی کوشش اسے بے زاری سے دور رکھتی ہے۔ بے مقصد زندگی بے زاری سے بھرپور ہوتی ہے۔ آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ گھر میں امی، ابو یا کسی بڑے بھائی، بہن کو اپنے مسئلے سے آگاہ کیجیے۔جب آپ ایسا کریں گے تو زندگی بے زاری سے خوش گواری کی طرف آ جائے گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: اکثر اکیلے بیٹھے بیٹھے مجھے کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں، جیسے کوئی کچھ کہہ رہا ہو، مگر میں ان باتوں کو سمجھ نہیں پاتا۔

(جاوید اختر، لاہور)

جواب: آوازوں کا سنائی دینا آپ کا وہم بھی ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہو، مگر اس کی بات سمجھ نہیں آتی۔ آپ اپنے والدین کو اس بارے میں بتائیے۔وہ آپ کو کسی ماہر ِنفسیات کے پاس لے کر جائیں گے۔ ایسا کسی نفسیاتی مسئلے کے زیر اثر ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی پریشانی ہے، کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اپنے والدین کو کھل کر بتائیے۔ ایسا کرنے سے آپ کا جی بھی ہلکا ہو جائے گا اور آپ کے مسئلے کے حل کے لیے سبیل بھی نکل آئے گی۔ آپ کوشش کیجیے کہ اکیلے مت بیٹھیں۔ گھر میں ہوں تو گھر والوں کے ساتھ بیٹھیں، سکول میں ہوں تو دوستوں کے ساتھ گپ شپ کریں۔ ایسا کر کے دیکھیے۔ ان شاء اللہ! آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال: اگر مجھے کوئی ذرا سا کچھ کہہ دے تو میں گھنٹوں اس پر سوچتی رہتی ہوں، پھر مجھ سے کوئی کام نہیں ہوتا۔ مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی میری روک ٹوک کرے اور مجھے سنائے۔

(روبینہ ناز، ملتان)

جواب: آپ حساس طبیعت کی واقع ہوئی ہیں۔ حساس لوگ معمولی معمولی باتوں کو دل پر لے لیتے ہیں۔ پھر ان باتوں کا اس قدر اثر لیتے ہیں کہ وہ کوئی کام ڈھنگ سے کرہی نہیں پاتے۔ وہ انہی سوچوں میں گم رہتے ہیں کہ کسی نے انہیں کچھ کہا ہی کیوں ہے۔ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ کو یہ بات بالکل بھی برداشت نہیں ہوتی کہ کوئی آپ کو روک ٹوک کرے۔ ہم جہاں تک سمجھ پائے ہیں، وہ یہ کہ گھر میں آپ کو بڑوں کی طرف سے سمجھایا جاتا ہو گا۔ یہ عام گھروں کا معمول ہے۔ بڑے اپنے تجربے کی بنیاد پر اپنے چھوٹوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کو زمانے کے سرد و گرم کے بارے میں بتاتے ہیں تاکہ بچے مستقبل میں کسی مشکل کا شکار نہ ہوں۔ یہ بات بچوں کو ناگوار گزرتی ہے۔ وہ ہر بات کو جان کا روگ بنا کر اس بات کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ان کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔ آپ کا شمار ایسے ہی حساس طبع لوگوں میں ہوتا ہے، جو کسی کی بات برداشت نہیں کر پاتے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ دوسروں کی بات سن کر اس پر جلنے کڑھنے کے بجائے اس پر غور کریں، مگر اس پر اتنا بھی غور نہ کریں کہ آپ کے کام متاثر ہوں۔ زندگی میں کسی کی روک ٹوک سے رہنمائی کا راستہ بند نہیں ہو جاتا۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ کہ جن کو کوئی روکنے ٹوکنے والا ہوتا ہے۔ اس معاملے کو منفی کے بجائے مثبت انداز میں لیجیے۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھے موت سے ڈر لگتا ہے۔ کسی کی موت کی خبر مجھے بے چین کر دیتی ہے اور یہ خوف اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ میراجسم تھر تھرکانپنے لگتا ہے۔میرایہ خوف کیسے ختم ہو گا؟

(رانیہ خالد، واہ کینٹ)

جواب: موت کے خوف سے بچنے کے لیے پہلے اس کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمارے عقیدے کے مطابق یہ ایک جہان سے دوسرے جہان منتقلی کا نام ہے جہاں ہمیں ہمیشہ رہنا ہے۔ اسی نسبت سے اسے ’انتقال‘ بھی کہاجاتا ہے۔ دوسرے جہان میں ہمارے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا، اس کا دارومدار دنیا میں کیے گئے ہمارے اعمال پر ہوگا۔ آپ اس حقیقت کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیجیے، پھر اپنے اعمال پر نظر دوڑائیے اور ان کی اصلاح کی کوشش شروع کر دیجیے۔ خدا سے بھی لو لگائیے اور فرائض کی ادائیگی کا اہتمام کیجیے۔ آہستہ آہستہ آپ  کے دل کو اطمینان اورسکون ملنا شروع ہوجائے گا اور موت کا خوف بھی جاتا رہے گا۔ ویسے بھی موت سے کسے فرار ملا ہے۔ جو ذی روح بھی اس دنیا میں آتا ہے، ایک روز اسے اس دارِفانی سے کُوچ کر جانا ہے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں جماعت ہفتم کا طالب علم ہوں۔میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ کلاس میں اچھی کارکردگی ہونے کے باوجود میرے استاد مجھے اتنی توجہ اور اہمیت نہیں دیتے، جتنی وہ امیر بچوں کو دیتے ہیں۔ میں ایسا کیا کروں کہ وہ مجھے بھی اتنی ہی توجہ دیں جتنی وہ امیر بچوں کو دیتے ہیں۔

(محمد طیب امین، اسلام آباد)

جواب: ہماری رائے میں کوئی استاد بھی ایسا نہیں کرتا اور نہ ایسا سوچتا ہے۔ اس کے لیے سبھی طلبہ یکساں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ غریب اور امیر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اساتذہ تمام طلبہ کو ایک نگاہ ہی سے دیکھتے ہیں۔ ممکن ہے آپ اپنی اچھی کارکردگی کے باعث استاد کی کچھ زیادہ توجہ کے طالب ہوں۔ جماعت میں کچھ طلبہ ایسے بھی ہوتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ ان پر زیادہ توجہ دی جائے۔ وہ جماعت میں مرکز ِنگاہ رہنا چاہتے ہیں۔ آپ کا شمار بھی شاید ایسے ہی طلبہ میں ہوتا ہے۔ آپ صرف اور صرف اپنی پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھیں۔ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ اساتدہ کبھی اپنے طلبہ کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ ان کی شفقت، توجہ اور رہنمائی سب کے لیے برابر ہوتی ہے، پھر بھی اگر آپ کسی استاد کے حوالہ سے ایسا محسوس کرتے ہیں کہ وہ آپ کو اتنی توجہ نہیں دیتے جس کے آپ مستحق ہیں تو ہم آپ کو مشورہ دیں گے کہ اسی استاد سے باقاعدہ وقت لے کر تنہائی میں انتہائی  احترام کے ساتھ، اپنے خدشے کا اظہار کر دیجیے۔ ہمیں قوی یقین ہے کہ برا ماننے کے بجائے وہ اپنے رویے پر نظرثانی کریں گے اور آپ کی شکایت رفع ہوجائے گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھے رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور تنہائی میں بھی محسوس ہوتا ہے کہ مجھے کچھ ہو جائے گا۔ میرا یہ خوف کب اور کیسے ختم ہو گا؟

(نبیلہ شاہد، لاہور)

جواب: ہوسکتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ ہوا ہو جو آپ کے ذہن پر نقش ہو گیا ہو اور اب اس کے زیرِاثر آپ کو برے خواب آتے ہوں۔ خواب عمومی طور پر ہماری سوچوں اور خیالات سے بھی تشکیل پاتے ہیں۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ سب سے پہلے تو آپ اپنے خوف و خدشات اپنے والدین، بہن بھائیوں یا کسی اچھی سہیلی سے کھل کر بیان کر دیجیے۔ اس سے بھی آپ کے دل و دماغ کا بوجھ ہلکا ہوجائے گا۔ پھر یہ کہ وہ بھی آپ کو تسلی اورحوصلہ دیں گے جس  سے بھی آپ کا خوف جاتا رہے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اچھا سوچنا شروع کیجیے۔ اگر کوئی برا خیال آئے بھی تو اسے جھٹک کر اپنی توجہ کسی خوشگوار معاملے کی طرف مرکوز کر لیاکیجیے۔ اپنے والدین سے سونے سے پہلے دعائیں لے کر اور آیت الکرسی پڑھ کر سویا کریں،اس سے بھی افاقہ ہو گا۔ آیت الکرسی کے بارے میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ جو شخص سوتے وقت آیت الکرسی پڑھ لے اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نگران مقرر کر دیا جاتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آ سکتا۔اور کوئی برا خواب آبھی جائے تو کلمہ پڑھ کر، کروٹ بدل کر سوجایا کریں۔ برے خواب آہستہ آہستہ قصہ پارینہ بن جائیں گے۔

٭٭٭٭٭

سوال: بہت زیادہ ہجوم میں ٹھہرنے سے میرا دماغ چکرانے لگتا ہے اور شور مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ سکول میں بچوں کے ہجوم اور شور سے میری طبیعت بگڑ جاتی ہے، میں خود کو پرسکون محسوس نہیں کرتا۔

(علی اصغر، بہاول پور)

جواب: آپ کے سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شاید ایک تنہائی پسند شخصیت کے مالک ہیں اور شورشرابا آپ کو پسند نہیں۔ ہجوم اور شورشرابااس دور کی ایسی  حقیقتیں ہیں کہ جن سے فرار ممکن نہیں۔ آپ کو بھی اپنے آپ کو ان کاعادی بنانا ہو  گا۔ جس قدر خاموشی اور تنہائی کی طرف بڑھیں گے، اسی قدر آج کے حالات میں ایک کامیاب شخص بننا مشکل ہوتا چلاجائے گا۔ اپنے آس پاس کے لوگوں اور واقعات میں دل چسپی لینا شروع کیجیے اور مشاہدے کی عادت اپنائیے۔ آپ کو بہت سے ایسے کردار نظر آنا شروع ہوجائیں گے جن میں آپ دل چسپی محسوس کریں گے۔ لوگوں سے گھلیے ملیے، گفتگو میں حصہ لیا کیجیے۔ اس عمر میں مناسب حدودوقیود میں رہتے ہوئے شرارتیں اور شورشرابا کرنا بھی کوئی بری بات نہیں۔ ویسے بھی یہ کہاجاتا ہے جس کام سے خوف محسوس ہو، اس کو باربار کرنے سے اس کا  خوف جاتا رہتا ہے، تو پھر کیجیے بسم اللہ۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں ایف اے میں داخلہ لینا چاہتا ہوں، لیکن میرے والدین کا یہ کہنا ہے کہ میں سائنس مضامین کا انتخاب کروں۔ بقول ان کے آج سائنس کا زمانہ ہے۔ میرے دل و دماغ سائنس پڑھنے کے لیے مطمئن نہیں۔ بتائیے میں کیا کروں؟

(شہباز حیدر، لیہ)

جواب: یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ موجودہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے، مگر اس کاہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ سائنس کے علاوہ کسی اور شعبے کا انتخاب ہی نہ کیا جائے۔ ہمارے ہاں اکثر والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنانا چاہتے ہیں۔ آپ کے والدین بھی آپ سے یہی امید لگائے ہوئے ہیں۔ لیکن اگر آپ کی صلاحیتوں اور رجحان کو دیکھتے ہوئے آپ کے اساتذہ کا بھی یہی خیال ہے کہ آپ کو سائنس کے بجائے آرٹس کے مضامین کا انتخاب کرنا چاہیے تو ان میں اور اپنے والدین میں ملاقات کا اہتمام کیجیے۔ آپ سب مل کر بیٹھیں گے تو امید ہے خیر برآمد ہوگی۔ ویسے بھی مشورے میں برکت ہوتی ہے۔ جن مضامین پر اتفاق ہوجائے ان میں خوب محنت کیجیے گا۔یادرہے زندگی میں ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔

٭٭٭٭٭

سوال:میں جماعت دہم کی طالبہ ہوں۔ مجھے مطالعہ کا بہت شوق ہے۔ میں رسالے اورڈائجسٹ وغیرہ شوق سے پڑھتی ہوں، لیکن میری دادی نے پڑھنے سے منع کرتے ہوئے مجھ سے وعدہ لیا کہ آئندہ نہیں پڑھوں گی۔ کچھ عرصہ تومیں اس وعدے پر قائم رہی، مگر رہا نہیں گیا اور دوبارہ چوری چوری پڑھنے شروع کر دیے۔ کیا مجھے رسائل نہیں پڑھنے چاہییں؟ میں نے وعدہ خلافی کی ہے، بہت شرمندہ ہوں۔

(راحت فاطمہ، مظفرگڑھ)

جواب:کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ پڑھائی کے وقت بھی رسالے اور ڈائجسٹ پڑھتی رہتی ہیں اور ایسی صورت حال میں ہی دادی جان نے رسالے وغیرہ پڑھنے سے منع کیاہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو پڑھائی اور رسالوں وغیرہ کے مطالعہ کے لیے وقت مخصوص کر لیجیے۔ پڑھائی کے وقت پڑھائی اور مطالعہ کے وقت مطالعہ،یہ اعتدال کا راستہ ہے۔ کچھ گھروں میں یہ پابندی بھی ہوتی ہے کہ صرف اور صرف تدریسی کتب کا مطالعہ ہی کرناچاہیے۔ ان کے خیال میں رسائل میں بھلا کیا رکھا ہے۔ دادی جان اس خیال کی حمایت کرتی ہیں تو ہمارا یہ جواب دادی جان کو ضرور پڑھوائیے کہ تدریسی کتب کے ساتھ ساتھ رسائل کے مطالعہ سے بھی تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار آتا ہے۔ اس سے جہاں ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے، وہاں طلبہ اپنا مافی الضمیر بھی باآسانی بیان کرنا سیکھتے ہیں۔ بچوں کے معروف ادیب اشتیاق احمد اپنے ناولوں میں یہ عبارت لکھتے تھے:

   ناول پڑھنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ

٭یہ وقت نماز کا تو نہیں؟

٭آپ کو سکول کا کوئی کام تو نہیں کرنا؟

٭ آپ کے ذمہ گھر والوں نے کوئی کام تو نہیں لگا رکھا؟

اگر ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی ہو تو ناول الماری میں رکھ دیں۔ پہلےنماز اور دُوسرے کاموں سے فارغ ہو لیں، پھر ناول پڑھیں۔ شکریہ

                                                                       مخلص

                                                                      اشتیاق احمد

اشتیاق احمد صاحب کے مشورہ  پرآپ بھی عمل کیجیے، امید کرتے ہیں کہ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال:میں بہت سوچتا ہوں۔ رات کو ٹھیک سے نیند بھی نہیں آتی۔ آدھی رات چھت کو تکتے تکتے گزر جاتی ہے۔ عجیب سے وہم اور خیالات ستاتے ہیں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے کہ میں دُوسروں کی طرح نارمل سوچوں۔

(محمد ضیاء ، ڈیرہ اسماعیل خان)

جواب: سب سے پہلے توآپ یہ جان لیجیے کہ نیند دیر سے آنے کے حوالے سے آپ اکیلے نہیں۔دنیامیں دوسرا نہیں تو ہر تیسرا شخص اس حوالے سے کسی نہ کسی مشکل یا مسئلے کا شکار ہے۔جہاں تک سوچنے یا وہم اور خیالات کا تعلق ہے، آپ کو اپنی پریشانیوں اور مسائل کا جائزہ لینا ہو گا اور ان کے حل پر کام کرنا ہوگا۔ اپنے بڑے بہن بھائی، والدین یا کسی سمجھ دار دوست سے بھی مشورہ کیجیے، ہوسکتا ہے کہ وہ بھی مسائل کے حل میں مدد کر سکیں۔ اگر سوچ کا تعلق پڑھائی سے ہے، تو غوروفکر کے بعد ایک حکمت عملی مرتب کیجیے اور پوری محنت اور دل جمعی کے ساتھ اس پر عمل شروع کر دیجیے۔ آہستہ آہستہ یہ پریشانی بھی جاتی  رہے گی۔

ایک اور احتیاط یہ ہے کہ سوچ آنے اور سوچ لانے میں بھی تمیز کیجیے گا۔ جب کوئی بری  سوچ آئے تو اسے جھٹک کر کسی خوش گوار معاملے کی بابت سوچنا شروع کر دیا کیجیے۔ تھوڑا مشکل ضرور ہے لیکن کوشش سے انسان اپنے سوچنے کے عمل کو بھی کافی حد تک اپنے تابع کر سکتا ہے۔

کچھ اور احتیاطیں بھی بروقت نیند آنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کر لیجیے اور ان سے کسی صورت بھی انحراف نہ کیا کریں۔ سونے سے پہلے ورزش کرنے، چائے یا کافی پینے، موبائل یا لیپ ٹاپ کے استعمال کرنے سے ہر ممکن پرہیز کیجیے۔ نیند لانے میں گرم دودھ کا استعمال یا موسم کے مطابق نیم گرم پانی سے غسل بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اپنے بستر کو سونے کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہ کیا کیجیے۔ہاں البتہ کسی اچھی سی کتاب کی ورق گردانی کرنا بھی آنکھیں بوجھل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔مزید یہ کہ کمرے میں اندھیرا کرنا بھی انسانی ذہن کو نیند کی طرف مائل کرتا ہے۔

ایک بات ذہن میں رکھیے گا، یہ سب کچھ کرنے سے آہستہ آہستہ صورت حال بہتر ہو گی۔ کسی ڈرامائی تبدیلی کی توقع آپ کو مایوسی سے دوچار کر دے گی۔

٭٭٭٭٭

سوال:میں الحمدللہ بہت اچھے گھرانے سے ہوں، لیکن میں احساس کمتری کا شکار ہوں۔ میں دُوسروں کو خود سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی، میرے اندر منفی رویہ جاگ اٹھتا ہے۔

(طوبیٰ نواز، شیخوپورہ)

جواب:اس کیفیت کو حسد کا نام دیا جاتا ہے۔ اس سے آپ کو حاصل تو کچھ نہیں ہو گا البتہ جل کڑھ کر اپنا نقصان کرتی رہیں گی۔ دوسروں کو بھی اس کا اندازہ ہوجاتا ہوگا اور وہ لوگ بھی آپ کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہ رکھتے ہوں گے۔آپ حسد جیسی منفی سوچ اور رویے کو رشک جیسے مثبت رویے سے بدل لیجیے۔ کسی کو کامیاب ہوتا دیکھیں تو اِس کو اُس کی کوششوں اور محنتوں کا ثمر جانتے ہوئے خود بھی تحریک پکڑیں اور محنت کرنے کی ٹھان لیجیے۔ نتائج خدا پر چھوڑ دیجیے۔ اپنے آس پاس کامیاب ہونے والوں کو مبارک باد دینے میں بھی پہل کر لیا کیجیے۔ اس سے بھی اگر آپ کے بارے میں کوئی منفی تاثر قائم ہو گیا ہے تو وہ زائل ہوجائے گا۔ یہاں ایک اور حقیقت کا بھی ادراک ضروری ہے، دنیا میں ہر دو انسانوں کو اپنی محنتوں کا ایک سا ثمر نہیں ملتا۔ پھر یہ کہ ہر انسان کی اپنی انفرادیت ہے، اپنی صلاحیت اور اپنی قابلیت ہے۔ جو آپ کے دوست احباب پائیں شاید وہ آپ کی دسترس میں نہ آ سکے، اور جو آپ پائیں وہاں آپ کے دوست احباب نہ پہنچ پائیں۔ ہاں ایک بات مسلمہ ہے، محنت کبھی اکارت نہیں جاتی، کسی نہ کسی شکل میں پھل ضرور دیتی ہے۔

٭٭٭٭٭

سوال:مجھے لگتا ہے کہ میں بہت محنت کرتا ہوں، گھر کے سارے کام بھی کر دیتا ہوں، لیکن  درحقیقت میں اپنے سکول کا کام مکمل نہیں کر پاتا۔بہت کوشش کے باوجود میری کارکردگی کلاس میں زیرو ہوتی جا رہی ہے۔

(عرفان حسن، ملتان)

جواب: عرفان میاں! کئی گھروں میں بچے گھریلو کام کاج یا کاروبار میں اپنے گھروالوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ گھر کے کام کرنا اچھی بات ہے، لیکن اگر اس سے آپ کی تعلیم متاثر ہو تو ایسا کرنا درست نہیں۔ آپ کو اس وقت اپنی تمام تر توجہ تعلیم حاصل کرنے پر لگانی چاہیے۔ اگر وقت گزر گیا تو دوبارہ ہاتھ نہیں آئے گا۔ گھر کے کام کے باعث آپ کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے تو والدین کو بتائیے، وہ اس حوالے سے آپ کو گھر کے کاموں کے بجائے تعلیم کے لیے پورا وقت دیں گے۔ سبھی والدین ایسا ہی چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد ترقی کرے، آگے بڑھے۔ ہاں آپ کو جب بھی وقت ملے کہ آپ پڑھائی کے ساتھ ساتھ آسانی سے گھر کے کام کر سکیں تو ضرور کیجیے، یوں امی ابو بھی آپ سے خوش ہو جائیں گے۔ اورجس کے والدین اس سے خوش ہو جائیں، اس کی دُنیا و آخرت سنور جاتی ہے۔

٭٭٭٭٭

سوال:میں چودہ سال کا ہوں۔ گھر سے باہر جانے کو دل نہیں کرتا۔مہینے میں دوبار نہاتا ہوں۔ کپڑے تبدیل نہیں کرتا۔میراکمرہ بھی بکھرا بکھرا سارہتا ہے۔ میں ایساکیوں ہوں، مجھے سمجھ نہیں آتی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

(اظہر سلیم، سرگودھا)

جواب:پیارے بیٹے! سب سے پہلے توآپ اپنے والدین یا کسی اور بڑے کی مددسے ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے مشورہ کیجیے کہ کہیں آپ ڈپریشن یا کسی اور ذہنی عارضے کا شکار تو نہیں۔ ذہنی  عوارض مکمل طور پر قابل علاج ہوتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں اس حوالہ سے شعور نہ ہونے کے سبب، ان پر بات کی جاتی ہے نہ ہی بروقت علاج کروایا جاتا ہے۔ اور متاثرہ شخص بے چارہ ساری زندگی ہی ان سے متعلقہ تکالیف کو سہتا رہتا ہے۔ ہمیں بھرپور امید ہے کہ اگر آپ بھی کسی عارضے کا شکار ہیں تو مناسب علاج سے مکمل صحت یاب ہو کر ایک خوش باش زندگی گزار سکتے ہیں۔

اور اگر آپ اس حوالہ سے صحت مند قرار پاتے ہیں تو پھر آپ کا علاج آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ سوچیے گا کہ نہ نہانے، یا کپڑے نہ بدلنے کے سبب لوگ آپ سے کس قدر نفرت کرتے ہوں گے یا کم ازکم ناپسند تو کرتے ہوں گے۔ شاید اسی وجہ سے آپ گھر سے باہر بھی نہیں جاتے۔ صاف رہنا شروع کریں گے، اپنے آس پاس صفائی رکھیں  گے تو آپ کو زندگی خوبصورت اور دلچسپ لگنے لگ جائے گی۔ بچے آپ کے دوست بننا شروع کر دیں گے اور آپ بھی اپنی عمر کے دیگر بچوں کی طرح کھیلنے کودنے اورپھلنے پھولنے لگ جائیں گے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں رات کو خواب میں ڈر جاتی ہوں کہ میری ٹیچر مجھے بہت مارتی ہیں اور اس خواب کی وجہ سے میرا سکول جانے کو دل نہیں کرتا۔

(نبیلہ بی بی، خانیوال)

جواب:عام طورپر ہم وہ خواب دیکھتے ہیں جو ہم سوچتے ہیں۔ آپ کی سوچوں کی، آپ کے خوابوں کی ایک بنیاد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ پڑھائی میں اچھی نہ ہوں، کلاس ورک اور ہوم ورک اچھا نہ کر تی ہوں،امتحانات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرپاتی ہوں اور اس ساری صورت حال میں اپنی ٹیچر سے خائف رہتی ہوں۔ سو پہلا کام جوکرنے کا ہے وہ اپنی پڑھائی پر توجہ دینا ہے۔اچھی طالبہ بن جائیے تو سب اساتذہ آپ کو پسند کرنے لگیں گے، آپ سے محبت کریں گے اور ان کا خوف جاتا رہے گا۔ساتھ ہی ساتھ، اپنی سوچوں پر بھی قابو پائیے۔ جو کچھ ہم اکثرسوچتے ہیں، وہ کبھی کبھارہمارے خوابوں کی بنیاد بھی بن جاتاہے۔ سوایسی سوچ آئے تو اس کو جھٹک دیا کیجیے۔ فوری نہیں تو آہستہ آہستہ ایسے خواب آنا بند ہوجائیں گے۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھ سے کوئی دوستی نہیں کرتا کیونکہ میں یتیم ہوں۔ میرے پاس پیسے نہیں ہوتے۔ میں خود کو اکیلا محسوس کرتاہوں۔

(اشفاق احمد، جماعت ہشتم، گورنمنٹ ہائی سکول دھوڑ کوٹ، ضلع بہاول پور)

جواب:  ہم نہیں سمجھتے کہ بچے کسی دوسرے بچے سے محض اس لیے دوستی نہ کریں کہ وہ یتیم ہو۔ عام طور پر بچے ایسا نہیں سوچتے۔ نہ ہی پیسوں کا نہ ہونا دوستی میں کوئی رکاوٹ بنتاہوگا کہ اس عمر میں بچے ایک دوسرے پر پیسے بھی خرچ نہیں کرتے۔یہ محض آپ کا احساس بھی ہوسکتاہے۔بہتر ہوگا کہ آپ اپنے رویے، اندازواطوار اور وضع قطع پر بھی ذرا نظر ڈالیے گا۔ صاف ستھرے کپڑے پہنا کیجیے، خود بھی صاف ستھرا رہا کیجیے، چہرے پر مسکراہٹ رکھا کیجیے، ہرایک سے خوش اخلاقی سے پیش آیا کیجیے، ہر وقت دوسروں کی مدد کو تیار رہا کیجیے، غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیجیے، پڑھائی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیجیے۔ ایسا کرنے سے جلد ہی آپ اپنی کلاس میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہونے لگ جائیں گے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ آپ کے حلقہ احباب میں نہ صرف اضافہ ہوتا چلاجائے گا بلکہ آپ کو بہت سے اچھے دوست بھی میسر ہونے لگ جائیں گے۔

٭٭٭٭٭

سوال:  میری یہ عادت نہیں جاتی کہ میں ہر وقت دانتوں سے ہونٹ چباتی رہتی ہوں۔ بتائیے کیا کروں؟

(شہزادی ماہ نور، گورنمنٹ مسلم گرلز ہائی سکول، ملتان)

جواب:  جو لوگ اس عادت میں مبتلا ہوتے ہیں وہ جہاں بھی بیٹھتے ہیں اپنے ہونٹ چباتے رہتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کو ایک لمحے کے لیے بھی اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ بہت سی آنکھیں انھیں ایسا کرتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ ہم نے کچھ ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے کہ وہ اپنے ہونٹوں کو اس طرح چباتے یا کھاتے ہیں کہ ان میں سے خون نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ انھیں ایسا کرتے دیکھ کر پاس بیٹھے لوگوں کو گھن آنا شروع ہو جاتی ہے۔آپ چشم تصور میں اپنے آپ کو ایسا کرتا دیکھیے اور پھر سوچیے کہ آپ کیسی لگتی ہوں گی اور لوگ آپ کے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔اس کا واحد حل قوتِ ارادی ہے۔آپ کواپنے آپ سے عہد کرنا ہوگا کہ ہرصورت میں اس عادت سے چھٹکارا پائیں گی۔ کوئی دوسرا اس میں آپ کی مدد نہیں کر سکے گا۔ ہاں یہ ضرور کیجیے گا کہ اپنے گھر والوں اور قریبی دوستوں کوبھی اپنے اس عہد سے آگاہ کیجیے اور انہیں پابند کیجیے کہ جب بھی وہ آپ کو ایسا کرتا دیکھیں تو فوراً یاددہانی کروا دیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کی اب یہ عادت اس قدر پختہ ہوچکی ہو کہ آپ اب بلاارادہ بھی ہونٹ چبانے لگ جاتی ہوں۔

٭٭٭٭٭

سوال:  میں گھر میں طوطا رکھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے امی ابو سے اجازت نہیں مل رہی۔ بہت پریشان ہوں بتائیے کیا کروں؟

(احمد رضا، جماعت ششم،گورنمنٹ ہائی سکول، مظفر گڑھ)

جواب:  یہ مسئلہ پریشانی والا تو نہیں ہے۔ آپ کے والدین آپ کو طوطا گھر میں رکھنے سے منع کر رہے ہیں تو اس کی کوئی وجہ تو ہوگی۔ جہاں تک ہم سمجھ پائے ہیں وہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ شاید آپ طوطے کے باعث اپنی پڑھائی کو وقت نہ دے پائیں۔ اس کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ جب سکول چلے جائیں تو امی جان کو طوطے کی دیکھ بھال کرنا پڑے گی، اس طرح ان کا کام بڑھ جائے گا۔ طوطا خاموش تو نہیں رہے گا، وہ بولے گا اور ٹر ٹر بولے گا۔یہ شور گھر والوں کے آرام میں خلل پیدا کر سکتا ہے۔ آپ یک رخی تصویر دیکھ رہے ہیں۔ تصویر کا دُوسرا رخ بھی ضرور دیکھیے۔ جب آپ ان پہلوؤں پر غور کریں گے جن کا ہم نے پچھلی سطور میں ذکر کیا ہے تو آپ کی پریشانی جاتی رہے گی۔ والدین کسی بات سے منع کرتے ہیں تو اس میں کوئی حکمت ہوتی ہے۔ اپنی ضد چھوڑئیے اور تمام تر توجہ تعلیم پر مرکوز کیجیے۔ اب تعلیمی شعبہ میں مقابلہ سخت ہے۔ خوب محنت کیجیے اور آگے بڑھتے جائیے۔ ویسے طوطے اور دیگر پرندے تو آزاد فضاؤں ہی میں اُڑتے اچھے لگتے ہیں۔ اگر وہ آپ کو اچھے لگتے ہیں توان کو پنجرے میں بند کرنے کا خیال دل سے نکال دیجیے۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھے نیند بہت آتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ہر وقت سوتا ہی رہوں۔کلاس میں بھی اکثر سو جاتا ہوں۔

(طاہر اشرف، جماعت ہفتم،گورنمنٹ بوائزہائی سکول، بہاولپور)

جواب: یہ توآپ نے سنا ہی ہوگا کہ جو سوتا ہے وہ کھوتا ہے۔ نیند کا آنا فطری امر ہے۔ نیند انسان کو اگلے دن کے لیے تروتازہ اور کام کے قابل کر دیتی ہے۔ آپ نے لکھا ہے کہ کلاس میں بھی آپ اکثر سو جاتے ہیں۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ آپ رات کو اپنی نیند پوری نہیں کرتے، جس کے باعث آپ کلاس میں سوتے ہیں۔ آپ کی عمر میں ایک عام انسان کو رات کے وقت 8گھنٹے کی نیند پوری کرنی چاہیے۔ کچھ طلبہ پڑھائی کی وجہ سے بہت کم سو پاتے ہیں اور کچھ موبائل فون کی گرفت میں ایسے آئے ہوئے ہیں کہ وہ نیند پوری نہیں کرپاتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دن کے وقت وہ اونگھتے رہتے ہیں۔ آپ رات کو جلد ی سونے کی عادت ڈالیے۔ایسا کرنے سے آپ دن کے وقت تروتازہ رہیں گے اور نیندبھی آپ کے قریب نہیں آئے گی۔ جماعت میں سونا اس بات کی علامت بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی پڑھائی میں دلچسپی قدرے کم ہے۔ جب عدم دلچسپی کی فضا ہو تو نیند آنکھ میں در آتی ہے، لہذا پڑھائی میں دلچسپی لیجیے۔ کمرہ جماعت میں اساتذہ کی باتیں توجہ سے سنیے۔ بت بن کر بیٹھنے کی بجائے ان سے سوالات کیجیے۔ کاپی میں نوٹس لیں۔ یہ سب کرنے سے بھی نیندنہیں آتی۔ایک اور بات آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ کمپیوٹراور موبائل فون سے خارج ہونے والی نیلاہٹ مائل روشنی انسانی دماغ کو متاثر کرتی ہے۔ سونے سے پہلے، خاص طورپر اپنے  بسترمیں، انہیں استعمال کرنا، نیند آنے میں یا گہری نیند سونے میں دشواری پیدا کرتے  ہیں۔ سو اگر آپ اس عادت میں مبتلا ہیں تو اس سے بھی چھٹکاراپا لیجیے۔

٭٭٭٭٭

سوال:  مجھے چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آتا ہے، بتائیے کیا کروں؟

(انساء محبوب، چشتیاں، عمارہ حسن، زویا ریاض، جہانیاں، عمیر یاسر، ٹوبہ بلوچاں)

جواب:  اکثر بچے اس سوال کا جواب پوچھتے ہیں۔ دیکھ لیجیے اس بار بھی غصہ کرنے والے بچوں کی تعداد چار ہے۔ اس سے قبل بھی اس سوال کا جواب دیا جاچکا ہے، پھر اس بارے میں عرض کیے دیتے ہیں کہ غصہ ایک فطری عمل ہے۔ بعض اوقات کسی ناخوش گوار بات پر غصہ آجاتا ہے۔ کوئی آپ کو تنگ کرے یا کوئی ایسی بات کرے جو آپ کو ناپسند ہو، تو اس صورتحال میں غصہ آنا فطری بات ہے۔ البتہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ذرا ذرا سی بات پر غصہ آجاتا ہے۔ غصے کا سب سے بڑا علاج خاموشی ہے۔ اگر آپ سب کو اس بات کا ادراک ہو ہی چکا ہے کہ آپ غصہ بہت زیادہ کرتے ہیں تو اس امر کا عزم بھی کر لیں کہ اب جب بھی آپ کو غصہ آئے گاآپ خاموشی اختیار کر لیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ دیر بعد نہ صرف غصہ رفع ہو گیا ہو گا بلکہ وہ بات کہ جس پر آپ کو بہت غصہ آ رہا تھاوہ بھی اب کچھ ایسی بڑی نہ لگ رہی ہو گی۔غصے کے  اوقات میں چھوٹی چھوٹی چسکیوں میں پانی پینا بھی کارگر ثابت ہوتا ہے۔ اس مقام سے چلے جانا بھی ناخوش گوار صورت حال سے بچا سکتا ہے۔ غصے پر قابو پانے کی اور بھی صورتیں ہو سکتی  ہیں ،شرط یہی ہے کہ آپ صحیح معنوں میں اس عادت سے  چھٹکارا پانا چاہ رہے ہوں اور اس کا مصمم ارادہ کر لیں۔ یاد رہے غصہ کرنے سے بہت سے لوگ آپ سے دور ہو جاتے ہیں لہذا غصے کو خود سے دور کیجیے اور لوگوں کو اپنے قریب کیجیے۔

٭٭٭٭٭

سوالمیرا رنگ سانولاہے۔ بچے میرا مذاق اڑاتے ہیں، مجھے  کالو کہتے ہیں۔ میں اپنے رنگ کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار ہوں۔ بتائیے کیا کروں؟

(اکبر علی، ملتان)

جواب: آپ اپنا مذاق اڑانے والے، کالوکہنے والوں کو منہ توڑ جواب دیجیے۔ جانتے  ہیں کس طرح؟ زندگی کی دوڑ میں، ہر مرحلے پر ان سے آگے نکل کر۔ ایسی پڑھائی  کریں کہ جماعت کے بہترین طالب علموں میں آپ کا شمار ہونے لگے اور سب اساتذہ  کے محبوب طالب علم بن جائیں۔ کسی کھیل میں ایسی مہارت حاصل کریں کہ سب آپ پر رشک کریں۔ ایسا مثالی اخلاق اوراچھے اعمال اپنائیں کہ دوسروں کے لیے ایک حوالہ بن جائیں۔ غرض اس مقام پر جا پہنچیں کہ دوسرے لوگکالوکا مذاق اڑانے کے بجائے اس کی مثالیں دینا شروع کر دیں، اس جیسا بننا چاہیں۔ محمد عربی ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں کیا ہی پیاری بات کی تھی:کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے تقویٰ  کے۔

٭٭٭٭٭

سوال:  میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ابو کی کریانے کی دُکان ہے۔ میں جب سکول میں ہوتا ہوں تو ہر لمحہ ابو کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں کہ انھیں دُکان پر میری ضرورت ہوگی۔ اس پریشانی میں میری پڑھائی بھی متاثر ہو رہی ہے، بتائیے میں کیا کروں۔

(کاشف حمید، جہانیاں)

جواب:  اگر آپ صحیح معنوں میں اپنے والد صاحب سے محبت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ پوری توجہ سے اپنی پڑھائی مکمل کریں اور کسی اعلیٰ مقام پر پہنچ کر ان کو ان کی تمام معاشی ذمہ داریوں اور پریشانیوں سے بے نیاز کر دیں۔ آپ یقین مانیے کہ آپ کے والد کو جو خوشی اس صورت میں ہو گی اس کا  مواز نہ دکان پر ہاتھ بٹانے سے کیا بھی نہیں جا سکتا۔ ہاں اپنے فارغ اوقات میں دکان پر  والد صاحب کا ہاتھ بٹانے میں کوئی حرج نہیں۔

٭٭٭٭٭

سوال:  مجھے ہر وقت ناخن کترنے کی عادت ہے، میں کوشش کے باوجود اس بُری عادت سے نجات حاصل نہیں کر پا رہی، بتائیے کیا کروں؟

(عائشہ رضا، رحیم یار خان)

جواب: چشم تصور میں کبھی آپ کسی دوسرے کی نظر سے اپنے آپ کو ناخن کترتے دیکھیے گا، آپ انتہائی خفّت محسوس کریں گی۔ پھر غور کیجیے گا کہ حقیقت میں بھی دوسرے لوگ آپ کے بارے میں اسی طرح سوچتے ہوں گے۔ ناخن کترنے یا کسی بھی ایسے عمل سے انسان اپنی پوری شخصیت کا ہی تاثر تباہ کر بیٹھتا ہے۔ پھر یہ بھی سوچیے گا کہ کتنی ہی ایسی میل کچیل اور گندگی ہو گی جو آپ کے ناخنوں تلے جمع ہو جاتی ہو گی اور آپ اسے منہ میں لے جاتی ہوں گی ۔ اسی سوچ بچار کے ساتھ ساتھ آپ اپنے آپ سے بھی عہد کیجیے کہ آپ نے اس بری عادت سے چھٹکارا پانا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شروع شروع میں آپ اپنے پاس کوئی کھانے کی چیز جیسے چیونگم،  بسکٹ، مونگ پھلی یا چنے وغیرہ رکھاکیجیے، جب بھی ناخن کترنے کو دل چاہے، اپنے پاس رکھی ہوئی چیز کھانا شروع کر دیا کریں۔ رفتہ رفتہ یہ عادت چھوٹنا شروع ہو جائے گی۔ اس بات کا بھی جائزہ لیں کہ آپ کسی پریشانی یا احساس کمتری کا شکار تونہیں۔ اگر ایسا ہے تو اسے رفع کرنا اشد ضروری ہو گا۔ ایسی صورت میں کسی بڑے یا ماہر نفسیات سے مشورہ کیا جانا چاہیے۔

٭٭٭٭٭

سوال: بابر اعظم میرے پسندیدہ کرکٹر ہیں۔ میں بھی ان جیسا کامیاب کرکٹر بننا چاہتا ہوں۔ میرے ابو مجھے کرکٹ کھیلنے نہیں دیتے۔ میں بہت پریشان ہوں، بتائیے میں کیا کروں؟

(توصیف امتیاز، رحیم یار خان)

جواب: آپ نے یہ نہیں لکھا کہ آپ پڑھائی میں کیسے ہیں؟ ہمارا گمان ہے کہ آپ کی تمام تر توجہ کرکٹ پر مرکوز ہے۔ہر وقت کھیل اور کھیل ہی آپ کے ذہن پر سوار ہے۔اگر ایسا ہے تو آپ کو کھیل اور پڑھائی میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ بلکہ اگر یوں کہیں کہ اس مرحلہ پر پڑھائی کو اوّلیت دینا ہو گی تو بھی غلط نہ ہو گا۔ فرصت کے اوقات میں البتہ آپ کرکٹ کی مشق کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے ابو کو بھی اطمینان ہو گیا کہ کھیل کے ساتھ ساتھ آپ اپنی پڑھائی سے بھی مکمل انصاف کر رہے ہیں تو ہمیں امید ہے کہ وہ  بھی آپ کو نہیں روکیں گے۔ باقی رہا بابر اعظم جیسا کرکٹر بننا تو محنت سے دنیا میں ہر مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالہ سے آپ کو کرکٹ کی کسی اکیڈمی میں داخلہ بھی لے لینا چاہیے تاکہ ایک ماہر کوچ کی زیر نگرانی اپنی خامیاں دور کر سکیں اور تکنیک میں بہتری لا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو متوازن غذا اور ورزش پر بھی بھرپور توجہ دینا ہو گی ورنہ ساری محنت اکارت جائے گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں  لکھاری بننا چاہتا ہوں۔ کچھ لکھنے  کی کوشش بھی  کرتا  ہوں، مگر کچھ لکھ نہیں پاتا۔ بتائیے مجھے  کیا کرنا چاہیئے۔

(احمدبلال، بہاول نگر)

جواب: پہلے تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ  اچھا لکھنے  کے لیے اچھا  پڑھنا اشد ضروری  ہوتا ہے۔ آپ   اس سلسلے کا آغاز کسی  اچھے  میگزین کے پڑھنے سے بھی کر سکتے  ہیں کہ جس میں آپ کی  دلچسپی کے بہت سےموضوعات پر مختصر  مضامین شامل ہوتے ہیں۔ رفتہ رفتہ  معیاری کتب کا  مطالعہ  شروع کر دیجیے گا۔اسی طرح کسی کاپی  یا  ڈائری  میں ان موضوعات  کی  فہرست بنائیے جن میں  آپ دلچسپی محسوس کرتے ہیں اور بنیادی معلومات  بھی رکھتے ہیں۔ پھر ان  کے حوالہ  سے  جیسے  جیسے خیالات سوجھتے رہیں، نکات کی  صورت میں  انھیں نوٹ  کرتے  جائیے۔۔  مزید  یہ  کہ جب آپ ان موضوعات پر  کبھی  اظہار  خیال کرنا چاہیں گے  تو وہ نکات  بھی خاصے کام آئیں گے۔ اور جب  کبھی  ان موضوعات میں  سے کسی  پر  لکھنے  بیٹھیں  تو  ان  نکات کی ترتیب طے کیجیے کہ کس پر  پہلے  اظہار  خیال کرنا    ہے  اور کس پر بعد میں۔ ترتیب  طے ہو جانے کے بعد آپ آسان اور سادہ الفاظ میں ان  نکات کی مدد سے مضمون لکھنا شروع کر دیجیے۔ تکمیل کے بعد اسے  دوبارہ  پڑھیے اور اغلاط کی  درستی  کر لیجیے ،  اورجہاں محسوس کریں بہتری  لے  آئیے۔ اس مضمون کو گھر  کے  کسی بڑے  یا  سکول میں  اپنے  ٹیچر  کو  دکھائیے۔ ان  کی تجاویز اور اغلاط کی نشان دہی کی  روشنی  میں تحریر مزید  بہتر کر لیجیے اس سلسلہ  کو جاری  رکھیے۔ ساتھ ہی  ساتھ اردو کی  کسی  اچھی  لغت سے  بھی  استفادہ کرناشروع کیجیے تاکہ آپ پر الفاظ کے  معانی اور ان کا استعمال پوری  طرح  واضح  ہوسکیں۔بہت  سے اخبارات  بچوں کے  ہفتہ وار صفحات  شائع  کرتے  ہیں، ان  میں بھی  اپنی تحریریں ارسال کیجیے۔ اس حوالہ  سے  ‘روشنی’ کا  پلیٹ فارم بھی  حاضر ہے۔ اگر  تحریر قابل اشاعت ہو تو ہم  اس کی نوک پلک سنوار کر شائع کر  دیتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

سوال: میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں دوستوں  کے ساتھ مل کر سگریٹ  نوشی  کرنے لگا ہوں۔ میں  سگریٹ نہیں  پیتا تو دوست ناراض ہوتے  ہیں۔ بتائیے کیا کروں؟

(عاطف ادریس، ملتان)

جواب: یہ بات  اپنے  ذہن  میں  رکھیے  ،  سگریٹ  نوشی  ایک ایسی  بری عادت ہے   کہ  جس کا  آغاز تو  تجرباتی  طور  پر یا شوقیہ کیا جاتا  ہے  لیکن اس کی  ایسی  لت  پڑتی  ہے، یہ آپ کو  ایسے  جکڑ لیتی ہے کہ  پھر آپ  تمام عمر چاہنے کے باوجود  اس سے چھٹکارا نہیں پا  سکتے۔ کینسر، دل کی بیماری اور  کولیسٹرول جیسی کون سی  ایسی  بیماری  ہے جو اس عادت  سے  لاحق نہیں ہو  جاتی۔ سگریٹ  نوشی  سے  بچنے  کا واحد  طریقہ یہ  ہے کہ اسے  شروع ہی نہ کیا جائے۔ اب اگر  آپ نے  دوستوں کے دباؤ میں سگریٹ نوشی  شروع کر ہی لی  ہے تو اسے  فوراً ترک کر  دیجیے،  وگرنہ ہر گزرتے دن   کے ساتھ اس  سے  چھٹکارا پانامشکل  سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا۔ ویسے  ایک بات  یہ  بھی  ہے کہ انسان  کی  قوت  ارادی  اس قدر مضبوط  ہونی چاہیے کہ  دوسروں کے کہنے پر بھی  برے  کام نہ کرے۔ یہ  بھی سوچیے  گا کہ اگر کبھی آپ کے انتہائی محبت اور اعتماد کرنے والے والدین کو پتا چلے  کہ  آپ سگریٹ نوشی  کرتے ہیں تو انھیں کس  قدر ٹھیس پہنچے گی،  وہ کس قدر    پریشان ہوں گے۔ اور یہ بھی  آپ کو  بتاتے  چلیں کہ ایسی  عادت  چھپی نہیں  رہتی، جلد  یا بدیر کسی نہ  کسی  سبب سے والدین  یا  دوسرے گھر والوں کے  علم میں آہی جاتی  ہے۔ وہ ایسے  بدگمان ہوں گے کہ پھر دوسرے معاملات  میں بھی آپ پر اعتماد کرتے  ہوئے  بیسیوں بار  سوچیں  گے۔ لہذا اس  نوبت کے آنے سے پہلے  ہی  اس  بری عادت  سے  چھٹکارا  پا لیجیے۔ ایک  بات  آپ کو  اور بھی  بتاتے  چلیں  کہ سگریٹ  نوشی دوسری بہت سی  قباحتوں کا دروازہ بھی  کھول  دیتی ہے۔ جانے یا انجانے  میں  منشیات کے استعمال  کا  امکان  بھی  ایسے  لوگوں  میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ سیدھی  سی  بات ہے  کہ  جو شخص  سگریٹ ہی کو  منہ  نہیں  لگاتا وہ  منشیات  استعمال کرنے کے  مرحلے  تک  کیسے پہنچے گا؟

اور  اب آخر میں یہ  بھی سن لیجیے  کہ  مہنگائی  کے اس  دور  میں سگریٹ  نوشی  انسان کو  مالی طورپر بھی  بہت  نقصان پہنچاتی  ہے۔ سگریٹ نوش  کی اچھی  خاصی  رقم ہر ماہ  اس پر برباد  ہو جاتی  ہے۔ بہت  سا  خرچ  اس کے سبب پیدا  ہونے والی  بیماریوں پر  الگ ہوجاتا ہے۔ سگریٹ  نوشی  سے  بچ  کر  آپ یہ  سارے پیسے  خود  پراور  اپنے  پیاروں پر خرچ کر سکتے  ہیں۔سگریٹ نوشی  سے  بچنے  اور  اسے ترک کرنے  پر ہم مزید بھی  کئی دلائل  دے سکتے ہیں لیکن لب لباب یہی ہے کہ مصمّم  ارادہ  کیجیے اور فوری  طور پر اسے ترک کر  دیجیے۔ اپنے دوستوں  کو بھی  اس سے  مطلع کیجیے بلکہ  ان کو بھی  تمام تر دلائل کے ساتھ  ایسا کرنے  کا  کہیئے۔ اور  اگر  وہ اس  پر آمادہ نہیں  ہوتے  ، پھردوستی  کا حق  تو  یہ  ہے  کہ  آپ ان کا بھلا سوچتے  ہوئے  ان  کے گھر  والوں کو  آگاہ  کر دیجیے۔  یہاں  ہم  آپ کو یہ بھی  کہیں  گے  کہ  لمحہ  بھر  کو    رُکیےاور سوچیے   دوست ہوتا کیا ہے۔ آپ  کا  اور  آپ کے گھر والوں کا بھلا  سوچنے والا، مشکل میں  کام  آنے والا۔ اس  کے  برعکس  اگر  کوئی  آپ کا  اس  قدر بڑا نقصان کر  رہا ہے یا کرنے  کی  کوشش  کر  رہاہے  تو  کیا وہ  آپ کا دوست ہے  بھی  کہ نہیں۔ پس جس  قدر جلد ہو  ایسے دوستوں سے  کنارہ کشی اختیار کر لیجیے۔جہاں تک تعلق ہے دوستوں کی  طعنہ  زنی اور ناراضی  کا تو  خود  سوچ  لیجیے کہ دوستوں کے طعنے یا ان کی  ناراضی  زیادہ بری چیز ہیں یا عمر  بھر کا روگ  پال لینا، بیماریوں کا راستہ  کھول لینا اور والدین کے اعتماد کو ٹھیس  پہنچانا۔

٭٭٭٭٭

سوال:  میری  اردو کی  لکھائی بہت  خراب ہے، جس کے باعث اردو میں  نمبر بہت  کم آتے ہیں، بتائیے کیا کروں  کہ میری لکھائی اچھی ہو  جائے۔

(مسلمان رسول،  ساہیوال)

جواب: اکثر  طلبہ کی  اردو کی  لکھائی بہت خراب  ہوتی ہے۔بعض اوقات تو  کوشش کے باوجود  ان  کا لکھا  ہوا پڑھا نہیں  جاتا۔ گئے وقتوں میں  تو سکول کی  سطح  پر تختی  لکھی جاتی تھی، جس  سے لکھائی اچھی  ہو جاتی تھی، مگر اب  ایسا نہیں  ہے۔ تختی کی  رخصتی  سے  ‘خوش  خطی’  بھی  رخصت  ہو گئی ہے۔ لکھائی کو بہتر کرنے  کا صرف  ایک ہی  طریقہ ہے کہ  لکھا  جائے  اور بار بار لکھا جائے۔ اس حوالہ سے  بازار میں  دستیاب خوش  خطی  کی کتابوں  سے  مدد لی جا سکتی ہے یا کسی  ایسے دوست یا واقف  کار  کی  استعمال  شدہ  کاپی  بھی  مانگی  جا سکتی  ہے  جس کی لکھائی آپ کو اچھی  لگتی  ہو۔پھر  خوش خطی  کی  کتاب یا  اپنی  پسندیدہ  لکھائی  کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حروف  اور  الفاظ کی  نقل کیجیے۔ روزانہ   کم از کم ایک  صفحہ خوش  خطی  کا ضرور  لکھا  جائے۔ اس مشق سے  جلد ہی  آپ کی  لکھائی  میں فرق  پڑنا  شروع ہو جائے گا۔ سیاہی  والے  پین ، خاص طور پر  جس  کا قط اچھا  ہو، کے استعمال سے  بھی لکھائی  کو بہتر بنایا جا سکتا  ہے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میرا دل چاہتا ہے کہ ہر وقت برگر اور پیزا کھاتا رہوں۔ اس حوالے  سے  میرے  گھر والے بہت پریشان ہیں، خاص طور پر امی  جان۔ اس مسئلے کا حل بتائیے۔

(احسن ظہیر، ملتان)

جواب: بات  ہے ہی پریشانی والی!  ہر  وقت برگر اور پیزا کھانا کہاں  کی  عقل مندی ہے؟ انسانی  جسم کے  لیے متوازن غذا کا  کھانا بے حد  ضروری  ہے۔ ہر  وقت برگر اور پیزا کھاتے   رہیں گے  تو جسم کی غذائی ضرورت پوری  نہیں ہو گی، جبکہ موٹاپے  اور  دیگر جسمانی عوارض کا  بھی الگ  شکار  ہو  جائیں  گے۔  کھانے میں گوشت ، سبزیاں، دالیں اور پھل  کھائیے۔  ویسے بھی کھانا  پیٹ بھر  کر کھایا کیجیے تاکہ بیچ کے  اوقات میں کچھ  کھانے کا دل  نہ کرے۔ ہاں ہفتے میں  ایک آدھ  بار برگر  یاپیزا کھانے میں  کوئی  حرج  نہیں۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں ون ویلنگ  کرتا ہوں، پہلے ڈر  لگتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں۔ اس حوالے سے ابو اور بڑے بھائی سے ڈانٹ بھی پڑ چکی  ہے۔ میں  اس خطرناک کھیل سے کیسے  چھٹکارا حاصل کروں؟

(دانیال ناصر، ملتان)

جواب: پہلے  تو یہ جان  لیجیے  کہ ون ویلنگ  خطرناک نہیں، بلکہ ایک خونی کھیل ہے۔ ون ویلنگ کرنے والے دراصل ‘موت  کا کھیل’ کھیل  رہے  ہوتے ہیں۔ چھٹی کے  روزہم اکثرنوجوانوں کو ون ویلنگ کرتا  دیکھتے  ہیں۔ پولیس کے آنے  پر وہ بھاگ جاتے  ہیں۔ نوجوانوں اور پولیس  میں اس  حوالے سے آنکھ مچولی جاری رہتی ہے۔ ایک مرتبہ ون ویلنگ کرنے  والا  ایک نوجوان فٹ پاتھ سے ٹکرایا تو  اس کے  سر  سے خون کا  فوارہ ابل پڑا۔ تھوڑی ہی  دیر میں وہ سب کے  سامنے  جان کی  بازی  ہار  گیا۔ یہ خونی  منظر ابھی تک ہماری آنکھوں کے سامنے  گردش کرتا  رہتا ہے۔ خیر ہمیں خوشی ہے کہ آپ اس  برے  کام سے نجات  حاصل کرنا چاہتے  ہیں۔ سب  سے پہلےخود  سے عہد کیجیے کہ  آئندہ ون ویلنگ نہیں  کریں گے۔تنہا  بیٹھ  کر  سوچیے گا کہ زندگی خدا کی کس  قدر خوبصورت نعمت  ہے اور اس کو خطرے میں ڈالنا کس  قدر بے  وقوفی۔ کتنے ہی خوبصورت خواب اور ان کی  تعبیریں ہیں  جو ابھی  آپ نے  زندگی میں حاصل کرنی ہیں۔ پھر  اپنے  پیاروں کی  بابت   بھی سوچیے  گا کہ اگر مجھے  کچھ ہو گیا تو ان کا کیا  بنے  گا، وہ کس  طرح  جی پائیں  گے۔اور اس مہم جوئی کے  نتیجہ  میں  اگر  میں کبھی  کسی  معذوری  کا شکار ہو گیا  تو کس طرح  دوسروں کا محتاج  ہو  جاؤں گا، کس  طرح  اپنے آپ کو  معاف کر  پاؤں گا۔ ون ویلنگ  سے  ذہن ہٹانے  کے لیے فارغ  اوقات میں اپنے  آپ کو  کھیلوں اور  دوسری صحت  مندانہ سرگرمیوں میں بھی مصروف کر  لیجیے۔ اور  اگر آپ  ون  ویلنگ دوستوں کے  دباؤ یا  ان کی صحبت میں  کرتے ہیں تو مندرجہ بالا دلائل کے ساتھ  ان کی اصلاح کی کوشش بھی کیجیے۔ اور  اگر  وہ باز نہ  آئیں تو  پھر آپ کی اخلاقی اور معاشرتی  ذمہ داری ہے کہ  ان کے بڑوں  کو اس حوالہ سے  آگاہ  کریں۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں ٹائم ٹیبل بناتی ہوں، مگر اس پر عمل نہیں کر پاتی۔ بتائیے کیا کروں؟

(مریم بی بی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، کینال کالونی، لیہ)

جواب: ٹائم ٹیبل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے بنانا تو آسان ہوتا ہے، مگر اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دیکھیے! ٹائم ٹیبل خود بنائیے یا اس کی تیاری میں اپنی امی، ابو یا بڑے بہن بھائی کی معاونت حاصل کرلیجیے۔ باہم مشورہ کیجیے۔ آغاز میں ایسا ٹائم ٹیبل بنائیں جس کا دورانیہ 2 سے 3 گھنٹے ہو۔ ابتدا میں ٹائم ٹیبل کا وقت کم سے کم رکھنے سے آپ اس کی عادی ہو جائیں۔ رفتہ رفتہ اس کا وقت بڑھائیے۔ ایسا کرنے سے ہمیں اُمید ہے کہ آپ اپنے بنائے ہوئے ٹائم ٹیبل پر پوری طرح عمل کر پائیں گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں نے امتحان کی تیاری توکی ہے، مگر ہر وقت خوف میں مبتلا رہتا ہوں کہ کہیں فیل نہ ہو جاؤں۔

(دانیال رسول، گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول،ملتان)

جواب: ہر اچھا طالب علم امتحان کی تیاری دل جمعی کے ساتھ کرتا ہے۔ اساتذہ کی رہنمائی میں ہر مضمون کے اہم سوالات کو بار بار یاد کرتا اور دہراتاہے۔ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ جو طلبہ امتحان کو سر پر سوار کر لیتے ہیں، وہ خوف کاشکار ہوجاتے ہیں۔ امتحان کو نہ تو آسان سمجھا جائے اور نہ ہی اس کو سر پر سوار کیا جائے۔ بس محنت کیجیے اور پھر اچھے نتیجہ کی امید رکھیے۔ اس حوالہ سے آپ مزید یہ کر سکتے ہیں کہ بھرپور تیاری کے بعد گزشتہ سالوں کے پرچے حل کر کے کسی استاد کو چیک کروا لیا کریں، اس سے ایک طرف تو آپ کو اپنی خامیوں کی بابت پتہ چل جائے گا تو دوسری طرف امتحان کا خوف بھی جاتا رہے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال: میرا نام اشرف ہے، مگر ہر کوئی مجھے ’اَچھّو‘ کہہ کر پکارتا ہے۔ مجھے ان کا اس طرح پکارنا اچھا نہیں لگتا۔


(اشرف علی، گورنمنٹ ہائی سکول، مظفر گڑھ)

جواب: ہمارے ہاں دیہات کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی گھر والے اور باہر والے بچوں کو اصل نام کی بجائے ان کی عرفیت سے پکارتے ہیں۔ ان ناموں کے پکارنے میں کئی مرتبہ حقارت کا پہلو بھی سامنا آتا ہے، جیسے جس کا رنگ کالا ہو تو اُسے ’کالو‘ پکارا جاتا ہے۔ آپ نے یہ نہیں بتایا کہ’اَچھّو‘ کی عرفیت سے آپ کوصرف گھر والے ہی پکارتے ہیں یا باہر والے بھی یہ عرفیت استعمال کرتے ہیں۔ہو سکتا ہے جو آپ کو ’اَچھّو‘کے نام سے پکارتے ہیں انھیں یہ نام پسند ہو۔ عرفیت میں پیار اور محبت کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ہمارا مشورہ یہ ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی آپ کے اصل نام کی بجائے ’اَچھّو‘کے نام سے پکارے تو آپ بہت ادب سے انھیں یہ کہیے کہ آپ کا نام اشرف ہے ’اَچھّو‘ نہیں۔ اس کے بعد بھی جو آپ کو ’اَچھّو‘ کہہ کرپکارے، اس کی طرف متوجہ نہ ہوا کریں۔ اس سے بھی رفتہ رفتہ لوگ آپ کو ’اَچھّو‘ کہنا چھوڑ دیں گے۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھے جگہ جگہ تھوکنے کی عادت ہے۔مجھے بتائیے کہ کس طرح اپنی اس بُری عادت کو ترک کروں؟ اس عادت کے باعث کئی مرتبہ شرمندگی کا سامنا کر چکا ہوں۔


(کاشف میر،گورنمنٹ ہائی سکول،بہاول نگر)

جواب: ہمارے ہاں بہت سے لوگ اس بُری عادت کا شکار ہیں۔ وہ جگہ جگہ تھوکتے اور ناک صاف کرتے دکھائی دیتے ہیں، جنھیں دیکھ کر گھن آتی ہے اور جی متلانے لگتا ہے۔ کچھ محض عادتاً ایسا کرتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ نزلہ، زکام یا کھانسی کے باعث تھوک اگلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ فعل واقعی باعثِ شرم ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ اپنی جیب میں رومال یا ٹشو پیپر رکھا کیجیے، جب بھی تھوکنے کی ضرورت پڑے، ان پر تھوکیے اور پھر اسے کسی کچرا دان میں ڈال دیجیے۔ یہ بھی سوچیے گا کہ جگہ جگہ تھوکنے سے آپ لوگوں میں بیماریاں پھیلانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس کا ادراک بھی آپ کو تھوکنے سے روکے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں سکول میں منعقدہ تقریری مقابلوں میں حصہ لینا چاہتی ہوں۔ تقریر یاد بھی کرتی ہوں، مگر جب تقریر کا موقع آتا ہے تو اپنا نام مقابلے سے خارج کروا لیتی ہوں۔ مجھے اسٹیج پر جانے سے خوف آتا ہے۔ بتائیے کیا کروں؟


(شمائلہ یونس،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، کوٹ ادو)

جواب: تعلیمی اداروں میں اکثر طلباء و طالبات اس کیفیت سے دو چار ہوتے ہیں۔ اسٹیج پر آنا، مائیک پر بولنا، حاضرین کا سامنا کرنا اگرچہ آسان کام نہیں، مگر یہ اس قدر مشکل کام بھی نہیں ہے۔ مشق کی جائے، تقریر کے ہر پہلو کو اچھی طرح یاد کیا جائے۔ بار بار تقریر کسی نہ کسی کو سنائی جائے۔ تلفظ کی تصحیح کروائی جائے تو یہ مشکل بہت آسانی سے حل ہو سکتی ہے۔ آپ کو تقریر کا مفہوم معلوم ہونا چاہیے۔ صرف رَٹ لینے سے جب کوئی جملہ بھول جاتا ہے تو ساری تقریر بھول جاتی ہے۔ اس موقع پر حاضرین کی طرف سے ہوٹنگ کے باعث مقرر مزید پریشان ہو جاتا ہے۔ گھر میں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر تقریر کیجیے۔ یوں تصور کیجیے کہ حاضرین آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ تقریر کے موضوع کے اعتبار سے اپنی آواز کو اُونچا نیچاکیجیے۔ہاتھوں کو لہرائیے۔صاحب صدر کو مخاطب کیجیے۔ فرضی حاضرین کی طرف دیکھیے یا پھر گھر کے افراد کو حاضرین بنائیے۔ ان کے سامنے تقریر کیجیے۔ تقریر کے بعد حاضرین سے پوچھیے کہ تقریر کے دوران کہاں کہاں غلطیاں ہوئی ہیں؟ ان غلطیوں کو درست کیجیے۔ ایسا کرنے سے آپ کا خوف جاتا رہے گا، پھر سکول میں منعقدہ ہر تقریری مقابلے میں آپ تقریر کر سکیں گی۔ یہاں ہم یہ بھی تجویز دیں گے کہ بہتر ہو گا کہ ٹیچر کی اجازت سے آپ اپنی تقریر کو لکھ کر بھی لے کر جائیں۔ جب آپ کے ہاتھ میں تقریر ہو گی تو اس سے بھی آپ پُراعتماد محسوس کریں گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں بہت پریشان ہوں۔ میری پریشانی یہ ہے کہ میں موبائل فون پر بہت وقت ضائع کرتا ہوں۔ امتحان قریب ہیں۔ موبائل فون کے زیادہ استعمال کے باعث امتحان کی تیاری بھی اچھے انداز میں نہیں کر پا رہا۔


(اعجاز احمد، گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول بستی ہراج، مظفر گڑھ)

جواب: آپ کے سوال کا پہلا جملہ کہ ”میں بہت پریشان ہوں“، اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ آپ کو احساس ہے کہ آپ موبائل فون پر اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کا حل بہت آسان ہے۔جب پڑھنے کے لیے بیٹھیں تواپنا موبائل فون کسی دوسرے کمرے میں یا کسی بڑے کے پاس رکھوا دیا کیجیے، رفتہ رفتہ آپ اس معمول کے عادی ہونے لگ جائیں گے۔ ویسے بھی اگر موبائل فون آپ کی دسترس میں ہو گا تو آپ ہر تھوڑی دیر بعد اس کی طرف متوجہ ہوتے رہیں گے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا قد لمبا نہیں ہو رہا۔ میرا قد صرف 4 فٹ ہے۔ میرا خواب تھا کہ میں فوجی بنوں تاکہ اپنے ملک کی حفاظت کر سکوں۔

(احمد بشیر، گورنمنٹ ایلمنٹری سکول، بہاول نگر)

جواب: اپنے چھوٹے قد کے باعث اکثر لوگ احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پستہ قامتی مسئلہ تو ہے مگر یہ اس قدر پریشان کن مسئلہ بھی نہیں ہے کہ ہر لمحہ اسی کے بارے میں سوچ کر خود کو پریشان رکھا جائے۔ آپ اس حوالے سے ڈاکٹر سے رابطہ کیجیے۔ ان کی ہدایات کے مطابق خوراک کھائیے، ورزش کیجیے اور روزانہ آٹھ گھنٹے لازمی نیند پوری کیجیے۔ اگر اپنے چھوٹے قد کے باعث فوج میں نہ جا سکیں تو کوئی بات نہیں، کسی اور شعبے کا انتخاب کر لیجیے۔ پھر خوب محنت کیجیے اور آگے بڑھتے جائیے۔ تاریخِ عالم کا مطالعہ کرتے ہوئے عظیم فرانسیسی  جرنیل نپولین بونا پارٹ اور پاکستان  کے  سابق چیف  جسٹس  نسیم حسن شاہ جیسی نام ور شخصیات کی زندگیوں پربھی  نظر ڈالیے جن کی پستہ قامتی ان کے عزائم کے حصول میں رکاوٹ نہیں بنی۔ پھر آپ کو اپنے پستہ قامت ہونے پر احساس کمتری  کا شکار نہیں ہونا پڑے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال: جب میں سبق یاد کرتی ہوں تو میرے سر میں درد ہونے لگتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

(شمائزہ بتول، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول لیہ)

جواب: سر درد کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں ایک بڑی وجہ نظر کی کمزوری بھی ہے۔ جب نظر کمزور ہوتی ہے تو پڑھتے ہوئے آنکھوں پر دباؤ پڑتا ہے، جس سے سر میں اور آنکھوں میں درد محسوس ہوتا ہے۔ درد کی ایک اور وجہ اعصابی و دماغی کمزوری بھی ہوسکتی ہے۔ آپ فوری طور پر ڈاکٹر سے مشورہ کیجیے۔ اگر عینک کی ضرورت ہے تو عینک لگائیے۔ خوراک کا خیال رکھیے۔ موسمی پھل ضرور کھائیے۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آتی ہے کہ عدم دلچسپی کے باعث بھی کسی کام کے کرنے سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے۔ کیا آپ کے ساتھ تو ایسا معاملہ نہیں؟ جب کام میں دل چسپی ہوتی ہے تو پھر بوجھل پن محسوس نہیں ہوتا۔ جب سبق پڑھنے میں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اپنی ٹیچر سے مدد لیجیے۔ ایسا کرکے دیکھیے اور پھر بتائیے کہ سر کا درد ختم ہوا یا نہیں۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھے اپنی انگلیاں چٹخانے کی عادت ہے۔ اس عادت سے کس طرح چھٹکارا حاصل کیاجاسکتا ہے؟

(خدیجہ بی بی، گورنمنٹ ہائی سکول خانیوال)

جواب: اکثر لوگوں کو انگلیاں چٹخانے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ اکیلے بیٹھے ہوں یا محفل میں، غیر شعوری طور پر ان سے یہ کام سرزد ہوتا ہے۔ انگلیاں چٹخانے کی آواز سن کر آس پاس بیٹھے لوگ متوجہ ہوتے ہیں۔ محققین کے مطابق انگلیاں چٹخانے سے پیدا ہونے والی آواز جوڑوں میں دباؤ کے منتقل ہونے سے گودے میں چھوٹے ببلز (بلبلے) پھٹنے کی وجہ سے پیداہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق انگلیاں چٹخانے کو عادت بنا  لینے  سے ہاتھوں کی گرفت کمزور جبکہ ہاتھوں کی سوجن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح انگلیوں کی ہڈیوں کی شکل میں تبدیلی کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیے، کسی عادت کو چھوڑنااتنا آسان نہیں ہوتا، اس کے لیے مضبوط قوت ارادی کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ آپ خود سے عہد کیجیے کہ آپ نے انگلیاں چٹخانے کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ جب بھی انگلیاں چٹخانے کو دل چاہے،اپنے آپ سے کیے گئے عہد کو یاد رکھیے اور اس بات کا اعادہ کیجیے کہ میں اب ایسا نہیں کروں گی۔ یہ عمل دہراتی رہیے۔ ان شاء اللہ یہ عادت ختم ہو جائے گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: سکول میں پڑھائی کے دوران مجھے ایک شرارتی کلاس فیلو کے ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے مجھے سبق یاد نہیں ہوتا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ اس مسئلے کاکوئی حل بتائیے۔

(محمد عثمان، گورنمنٹ ہائی سکول ٹوبہ بلوچاں)

جواب: اس کا سادہ اور آسان حل یہ ہے کہ اپنی جگہ بدل لیجیے۔ اگر کمرۂ جماعت میں رول نمبر کی ترتیب سے بیٹھنے کی وجہ سے جگہ تبدیل کرنا ممکن نہ ہو تو اپنے استادصاحب  سے بات کیجیے۔ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ آپ کے سوال میں یہ جملہ کہ میں بہت پریشان ہوں،  پڑھ کر ہمیں بھی پریشانی لاحق ہوئی ہے، مگر یہ اطمینان بھی ہوا ہے کہ آپ سبق یاد نہ ہونے سے اپنے ہونے والے نقصان کے باعث پریشان ہیں۔ ایک اچھا طالبِ علم ایسا ہی سوچتا ہے یا اُسے ایسا ہی سوچنا چاہیے۔ آپ اپنے شرارتی کلاس فیلوکو بھی سمجھا سکتے ہیں۔ممکن ہے آپ کی بات اس پر کوئی اثر چھوڑ جائے۔ کوشش ضرور کیجیے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال: نماز پڑھنے کے دوران مجھے چکر آنے لگتے ہیں۔ آپ اس مسئلے کا حل بتائیے۔

(فوزیہ بی بی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بکھری احمد خان)

جواب: بظاہر تو لگتا ہے کہ ایسا جسمانی کمزوری کے باعث ہو رہا ہے۔ پیاری بیٹی! ڈاکٹر کے پاس جائیے اور اپنا مکمل چیک اپ کروائیے۔ دوا کے ساتھ ساتھ اپنی خوراک کا بھی خیال رکھیے۔ اگر آپ کے لیے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر نماز اداکر لیجیے۔ جب چکر آنا ختم ہو جائیں تو معمول کے مطابق کھڑے ہو کر نماز پڑھیے۔ اس معاملے سے اپنی والدہ صاحبہ کوبھی ضرورآگاہ کیجیے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں اپنی سہیلیوں سے کئی مرتبہ دھوکا کھا چکی ہوں۔ کیا پھر بھی اُن کے ساتھ اچھّا سلوک کروں؟

(ریحانہ نظیر، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول لیہ)

جواب: آپ نے سہیلیوں سے دھوکا کھایا ہے تو آپ کو اُن سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔ لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ سہیلیوں نے کس طرح دھوکا دیا ہے۔ ایسا اگر سکول میں ہوا ہے تو اُن سے روزانہ میل ملاپ ہوتا ہوگا۔ انھوں نے جو کرنا تھا کر دیا، اب آپ اُن سے محتاط رہیے۔ اُن کی باتوں میں مت آئیے۔ اچھّاانسان وہی ہوتا ہے جو کانٹے کے جواب میں کانٹا نہیں بلکہ پھول پھینکتا ہے۔ اگر کانٹوں کے جواب میں کانٹے ہی پھینکے جائیں تو ہر طرف کانٹے ہی کانٹے نظر آئیں گے۔ آپ اپنی دھوکے باز سہیلیوں سے دُور ضرور رہیے مگر جب بھی اُن سے کوئی معاملہ کرنے کا موقع آئے تو ان سے اچھّا سلوک کیجیے۔ عین ممکن ہے اس طرح اُنھیں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے۔

٭٭٭٭٭

سوال: پیپر یاد ہونے کے باوجود جب سوالات کے جوابات لکھنے لگتی ہوں تو سب کچھ بھول جاتی ہوں۔ براہ مہربانی اس مسئلے کا حل بتائیے۔

(مصباح غلام علی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول صادق آباد)

جواب: بہت سے طلبا و طالبات کو یہ مسئلہ درپیش رہتاہے۔ وہ یاد تو کرتے ہیں مگر لکھتے ہوئے بھول جاتے ہیں۔ ایسا تبھی ہوتا ہے جب بغیر سمجھے کسی سوال کا جواب رٹّا جاتا ہے۔ اُس وقت لگتا یہی ہے کہ جواب اچھّی طرح یاد ہو گیا ہے مگر لکھتے ہوئے جواب یاد نہیں رہتا۔ اس کا آسان حل یہ ہے کہ جوکچھ بھی یاد کیا جائے اُسے پہلے اچھّی طرح سمجھا جائے۔ ایک ایک جملے پر غور کیا جائے۔ اہم نکات ذہن نشین کر لیجیے۔ جو لکھا جائے اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کیجیے۔جو کچھ یاد کریں، کسی کو ضرور سنائیں۔ اس طرح غلطیوں کی نشان دہی بھی ہو جائے گی اور سوالات کے جوابات لکھتے ہوئے آپ روانی سے لکھ پائیں گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں گھرپرزیادہ وقت ٹیلی ویژن دیکھتی رہتی ہوں۔ میرا پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ آپ کے پاس میرے اس مسئلے کا کوئی حل ہے؟

(طیبہ ریاض، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بکھری احمد خان)

جواب: ہم آپ کو ٹیلی ویژن دیکھنے سے منع نہیں کرتے کیونکہ یہ معلومات اور تفریح کا ذریعہ ہے۔ لیکن آپ کواپنی پڑھائی اور ٹیلی ویژن دیکھنے میں اعتدال پیدا کرنے کی  ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ کواپنی قوتِ ارادی کو مضبوط بناکر اپنے آپ سے عہد کرناہو گا۔ بہتر ہوگا کہ آپ اپنا ایک شیڈول ترتیب دے دیں کہ کب پڑھائی کرنی  ہے، کب ٹیلی  ویژن  دیکھنا  ہے اور کب گھر  کے  دیگر  کاموں پر  توجہ  دینی ہے۔ اپنے اس شیڈول اور عہد کو اپنے گھر کے کسی بڑے کے ساتھ شیئر کرکے سختی سے اس پر عمل کیجیے۔ شیڈول کی بابت بڑوں کو اعتماد میں لینے سے آپ میں ذمّہ داری کا احساس، بڑوں کی نرم گرم ڈانٹ اور جواب طلبی کا خوف پیدا ہوگا۔ یہ حقیقت بھی آپ کے پیش نظر رہنی چاہییے کہ زمانہ طالب علمی نہایت قیمتی وقت ہوتا ہے۔ اس وقت کو برباد کرنے والے عملی میدان میں ہمیشہ مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ پھر تو وقت گزر چکا ہوتا ہے، گیا وقت بھلا کب ہاتھ آتا ہے۔ بس آپ سے یہی کہنا ہے کہ ٹیلی ویژن دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی پر بھی بھر پور توجہ دیں۔ یہ وقت پھر میسر نہ ہوگا۔

٭٭٭٭٭

سوال: پڑھتے  ہوئے  ذہن  منتشر  رہتا ہے۔ ایسے  خیالات آتے  ہیں کہ  میں  فیل ہو جاؤں  گی۔ کیا کروں؟

جنت فردوس، گورنمنٹ  گرلز  ہائی سکول  ٹوبہ  بلوچاں، ضلع  بہاول نگر

جواب: پیاری بیٹی! پہلے  تو  اس پر غور کرنے  کی  ضرورت  ہے کہ  آخر ذہن  منتشر کیوں  رہتا ہے؟ کیا جماعت  میں پڑھائے  گئے اسباق  اچھی  طرح  سمجھ   میں نہیں  آتے  یا  جماعت کے ابتدا میں  آپ نے  پڑھائی پر زیادہ وقت  صرف نہیں  کیا۔ اکثر  اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ طلباء  و طالبات تعلیمی  سیشن  کے آغاز  میں اپنے  اسباق پر زیادہ توجہ  مرکوز نہیں  کرتے اور آج کا کام کل پر ٹالتے رہتے  ہیں، جس  کا  نتیجہ  یہ  نکلتا ہے  کہ  کام اتنا بڑھ  جاتا ہے کہ  ان سے  سنبھل نہیں  پاتا۔  امتحانات  قریب آنے  پر  نصاب انہیں کاٹ کھانے  کو  دوڑتاہے۔ ان حالات میں جب وہ  پڑھنے  کے لیے  بیٹھتے  ہیں تو ان کا  ذہن منتشر  ہو جاتا ہے۔ وسوسے انہیں  آگھیرتے  ہیں۔ ایسی  صورت  حال میں گھبرانے کی  بجائے  ہمت  و  حوصلے  سے کام لینا  چاہیے۔ پڑھتے ہوئے  کسی اور طرف  دھیان نہ  دیا  جائے۔ آپ یہ طریقہ اپنائیے کہ  پڑھنے  کا آغاز  اپنے  پسندیدہ  مضمون سے  کیجیے۔ ساتھ ہی  ساتھ اپنے   آپ  کو  سمجھائیے کہ  پہلے  تو  جو ہوا  سو ہوالیکن اگر  ان دنوں میں، میں  نے توجہ  نہ  دی  تو  یقیناً فیل ہو  جاؤں  گی۔ ذہن کے انتشار  سے  بچنے  کا ایک  طریقہ  یہ  بھی ہو سکتا ہے کہ   اپنے تمام  اہم کاموں سے  فارغ  ہو  کر  پڑھنے  کے لیے بیٹھیں  تاکہ  توجہ  بٹنے  کے امکانات  کم ہو سکیں۔ گھر  کے کسی  ایسے  فرد  سے جس سے  ذہنی ہم آہنگی  ہو،  اپنے ڈر اور  وسوسے   بیان کر دیا کیجیے۔ اس  سے ایک طرف تو ذہن ہلکا ہو جائے  گا تو  دوسری  طرف اس فرد  کے حوصلہ بڑھانے  سے  بھی  آپ بہتر محسوس کرنے  لگیں  گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھے  پڑھتے  پڑھتے  نیند آجاتی  ہے۔ ایسا  کرنے سے میری پڑھائی  متاثر  ہو رہی ہے۔ کام  مکمل  نہیں  کر  پاتی۔  اس مسئلے  پر قابو  پانے کے لیے  کوئی  حل بتا دیجیے۔

معافیہ  یٰسین، گورنمنٹ  گرلز ہائی  سکول ٹوبہ بلوچاں، ضلع  بہاول نگر

جواب: پڑھتے وقت  اکثر  طلباء  وطالبات غنودگی محسوس کرنے  لگتے ہیں،  اس  کی ایک  وجہ  یہ ہو سکتی  ہے کہ  رات کو  دیر سے سونے  کی وجہ سے  نیند پوری  نہیں  ہو پاتی۔ اپنے  سونے  کے لیے  ایک وقت مخصوص کیجیے  اور پھر سختی  سے  اس پر  عمل کیجیے۔ طبعی ماہرین کے مطابق ایک صحت مند  انسان کے لیے  روزانہ چھ  سے  آٹھ گھنٹے کی  نیند لینا  ضروری ہوتا ہے۔ دوپہر  کے  وقت  آدھ گھنٹے  کا  قیلولہ  بھی  بہت مفید  ہوتا  ہے۔ پڑھائی کے دوران نیند کا  غلبہ  محسوس کریں تو  اپنی  جگہ سے اٹھ کر  ٹہلنا شروع  کر  دیجیے اور اپنے منہ  پر  پانی کے  چھینٹے  ماریں، پھر دوبارہ   اپنی جگہ  پر بیٹھ  کر  پڑھائی  شروع  کر  دیجیے۔ بہت  سے  مضامین کی  تیاری اور دہرائی  تو ویسے بھی  چل  پھر  کر  کی  جا سکتی  ہے سو  ایسا  بھی  کر  کے دیکھیے۔ اگر  موزوں جگہ  میسر  ہو  تو  کمرے  کے  بجائے  برآمدے  یا چھت پر  بھی  پڑھنا نیند  کو  بھگانے  کا  سبب  بن  سکتا ہے۔ ایک اور  احتیاط  یہ  بھی  کرنا لازم ہے کہ  آپ ان اوقات  کا  تعین کیجیے  جن میں  آپ  زیادہ  نیند یا غنودگی  محسوس  کرتی  ہیں۔ ان اوقات میں  آپ  ایسے مضامین پڑھنے کو ترجیح دیجیے  جن  میں  آپ  دل چسپی محسوس کرتی ہیں  نہ کہ  ان مضامین  کو ، جن  کو  پڑھنا آپ کو  مشکل  یا  اکتا دینے والا  لگتا ہے۔  ایسا  کرنے  سے نیند  آپ سے  کوسوں دور بھاگے گی  اور  آپ  باآسانی  پڑھ سکیں  گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: دنیا مطلبی  ہے۔ ہر کوئی ہمیں اپنے مطلب  کے لیے استعمال کرتا ہے  حتیٰ  کہ اپنے  دوست  بھی مطلب کے لیے استعمال کرتے  ہیں۔ یہ  بات مجھے  بہت  پریشان  کرتی  ہے؟

شعیب  احمد، گورنمنٹ ہائی سکول  جہانیاں، ضلع  خانیوال

جواب: آپ نے  درست  کہا کہ دنیا  مطلبی  ہے۔ لیکن اس مطلبی  دنیامیں جہاں مطلبی  دوست  قدم قدم پر  ملتے ہیں وہیں مخلص  ، بے لوث  اور  محبت  کرنے  والے  دوستوں کی بھی  کمی نہیں۔ دوسروں کو ٹھیک  کرنا تو شاید  ہمارے بس میں  نہیں لیکن  اپنے  آپ کو بہتر  بنانا  تو کُلی طور  پر ہمارے اختیار  میں  ہے۔ آپ  خود  درد  دل  رکھنے  والے  ہمدرد اور مخلص انسان بن جائیے، ہم امید  کرتے  ہیں  کہ  آپ کو  اپنے  جیسے  دوسرے  بھی  ملنا شروع ہو  جائیں  گے۔ بہت سے تو شاید  آپ کو  دیکھ کر  بھی  اخلاص اور بہتری  کا  راستہ  چن لیں۔ یاد  رکھیے،  دوستی   ایک  خود  پیدا  کردہ  رشتہ ہے۔ اگر آپ کو مخلص دوست  نہیں ملتا   تو  آپ کسی کے مخلص  دوست  بن جائیے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میرا  گاؤں ٹوبہ بلوچاں بہاول نگر  سے  14 کلومیٹر کے  فاصلے پر ہے۔ ہمارے  گاؤں میں  موبائل  فون کے  سگنلز کا مسئلہ ہے، جس کی  وجہ  سے  کسی  سےرابطہ  نہیں ہو  پاتا۔ گاؤں کے مکینوں کو  اس حوالے  سے پریشانی  کا سامنا  ہے۔ اس کا حل  بتائیے۔

عبدالمقدم، گورنمنٹ  ہائی سکول  ٹوبہ بلوچاں، ضلع  بہاول نگر

جواب: یہ مسئلہ  صرف  آپ کے  گاؤں کا نہیں  ہے، اس مسئلے سے  آج کل گاؤں کے  ساتھ  ساتھ شہر  والے  بھی  دوچار ہیں۔ وقت  کے ساتھ  ساتھ  موبائل  فون کمپنیوں  نے اپنے بوسٹر کی تعداد  میں اضافہ  نہیں  کیا۔ جو بوسٹر لگائے گئے ان پر بھی لوڈ بہت زیادہ  ہے جس  کی  وجہ سے  سگنل  کمزور آتے ہیں  اور  فون پر  بات     تعطل کا شکار ہو  جاتی ہے۔ اس مسئلے کا آسان حل  یہ  ہے کہ  گاؤں کے  مکین موبائل فون کمپنیوں کے نام  درخواست  لکھ کر انہیں اپنے مسئلےسے  آگاہ کریں  اور فوری  حل  کے لیے استدعا کریں۔ امید ہے کہ کمپنیاں  اس سلسلے میں  ضرور  عملی اقدامات  بروئے کار  لائیں  گی۔ اسی  حوالے سے  پی ٹی اے  نامی سرکاری ادارے میں بھی  شکایت کا اندراج  کروایا  جا سکتا  ہے، جس  کا طریقہ  کار ان  کی ویب سائٹ  پر  بھی دیا گیا ہے۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھے  غصہ  بہت  آتا  ہے لیکن  میں  اس پر قابو نہیں سکتی۔ میں  کیا کروں کہ  غصہ  جاتا  رہے۔

اریبہ  رشید،  گورنمنٹ  گرلز ہائی سکول  جہانیاں، ضلع  خانیوال

جواب: غصے  کا  سب سے  بڑا  علاج  خاموشی ہے۔ اگر  آپ  کو  اس بات کا ادراک ہوہی  چکا  ہے کہ  آپ غصہ  بہت  کرتی ہیں اور  اس  عادت سے نجات پانا چاہتی ہیں  تو اس امر  کا  عزم  بھی  کر لیں  کہ  اب جب بھی مجھے  غصہ آئے  گا میں  خاموشی  اختیار  کر  لوں  گی۔ آپ  دیکھیں  گی  کہ کچھ دیر بعد نہ صرف غصہ  رفع ہو گیا  ہو گا بلکہ وہ  بات کہ  جس پر  آپ  کو  بہت غصہ آ  رہا  تھا وہ بھی  اب  کچھ ایسی  بڑی  نہ  لگ  رہی ہو  گی۔یہ کام اگرچہ مشکل  ضرور  ہے  لیکن  ناممکن نہیں۔ غصہ کرنے  سے  بہت سے لوگ  آپ سے  دور ہو  جاتے  ہیں  لہذا غصے  کو  خود  سے دور کیجیے  اور  لوگوں  کو  اپنے قریب کیجیے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں کوئی بھی  کام  کرنے سے پہلے  سوچتی  نہیں  ہوں، بعد  میں  مجھے  بہت  سی مشکلات کا  سامنا کرنا پڑتا  ہے

مبرا ناصر، گورنمنٹ  گرلز  ہائی  سکول جہانیاں،  ضلع  خانیوال

جواب: چلیے ، مقام شکر  ہے کہ  آپ نے  یہ تو  سوچا کہ  آپ   کسی کام  کے  کرنے سے قبل  کچھ  سوچتی  نہیں ہیں۔ یاد  رکھیے  کہ جو  کام بھی بغیر سوچے  سمجھے  کیا جائے اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ جس  طرح  یہ کہا جاتا ہے کہ پہلے  تولو پھر بولو، اسی طرح  پہلے  سوچو پھر  کرو۔کسی کام کے  کرنے  سے پہلے  اس پر خوب  غور  کیجیے اوراس کے  تمام پہلوؤں پر  نگاہ  ڈالیے۔ اگر کوئی  اہم کام  کرنے کا ارادہ ہے  تو اس کے حوالے  سے  مثبت  و منفی  نکات  کاغذ پر لکھ  کر  غوروفکر کیجیے۔ ضرورت محسوس کریں تو بڑوں  سے  مشورہ  کیجیے۔ ایسا کرکے دیکھیے آپ کا  ہر  کام  خوب سے خوب تر ہو گا اور آپ کو  کسی  پریشانی کا سامنا نہیں کرنا  پڑے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال : میں جماعت نہم کی  طالبہ ہوں۔ نہم کے  امتحان  میں زیادہ  اچھے نمبر نہیں  لے سکی تھی، اس کی  بنیادی  وجہ موبائل  فون کا  بہت  زیادہ  استعمال  ہے۔ پریشان  ہوں۔ بتائیے کیا کروں؟

حمنہ محمود، گورنمنٹ گرلز ہائی  سکول  جہانیاں، ضلع  خانیوال

جواب: یہ بات  قابل ستائش    ہے کہ  آپ  کو  اس بات  کا  احساس  ہے  کہ  آپ  نہم جماعت  کے امتحان میں اچھے نمبر نہیں لے  سکیں اور اس کی  بنیادی وجہ موبائل فون کا  بے تحاشا استعمال ہے۔ سیانے  کہتے  ہیں  کہ  انسان کی  حالت اس وقت  بہتری کی طرف  جاتی  ہے   جب اسے اپنی غلطی  کا احساس  ہو  جائے۔ طلباء   و  طالبات  کے  ساتھ ساتھ دیگر لوگ بھی  آج  اپنے موبائل  فون  پر  وقت  ضائع  کرتے  نظر  آتے  ہیں۔ کسی  جگہ  بھی  چلے  جائیں ، ہر کوئی  موبائل  فون  میں  مصروف نظر  آتا ہے۔ بچے  تو  بچے، بڑے  بھی  موبائل  فون کے سحر میں  گم ہو جاتے  ہیں۔  اک  ذرا سکرین  کو  چھوا  اور آن کی  آن میں کسی  اور جہان جا  پہنچے۔ پھر تو  آس  پاس کی  بھی  خبر  نہیں رہتی۔ موبائل فون کی  ضرورت  و  اہمیت  سے انکار نہیں ہے۔ اس کے  فوائد  بہت زیادہ  ہیں۔ کورونا وباء کے  دوران بھی موبائل  فون  کی  افادیت واضح طور پر نظر  آئی۔  اسی موبائل  فون کے  باعث  طلبہ  کی  آن لائن کلاسز تک رسائی  آسان ہو ئی۔  آج کل طلبہ  پڑھائی کے ساتھ  ساتھ  موبائل فون کو  دیگر سرگرمیوں  کے  لیے  بھی  استعمال کر  رہے  ہیں اور بلاضرورت  اس  کا  استعمال  بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔  آپ کے مسئلے  کا  ایک حل یہ  ہے   کہ  موبائل  فون گھر میں  کسی بڑے  (امی،  ابو، آپی ، بھیا) کے  پاس رکھوا  دیا جائے اور  ضرورت  کے  وقت  ان  سے لے  لیا جائے۔ اکثر تعلیمی  اداروں میں موبائل  فون   کے  استعمال  پر پابندی ہوتی  ہے۔  اگر  آپ موبائل  فون  سکول  لے  کر جاتی  ہیں  تو  آئندہ  سے  اسے  گھر   رکھ کر  جائیے۔ ویسے  بھی  پڑھائی کے  اوقات میں موبائل فون سے بچنا  چاہیے۔ ایسا کرنا  مشکل تو  ہے مگر  ناممکن نہیں۔ اگر  آپ کے لیے  موبائل  فون کا  استعمال اشد ضروری  ہے  تو  اس  کے  لیے  دن میں  کچھ  اوقات مقرر  کر لیجیے اور  انہی میں  ہی  موبائل  فون کا  استعمال کیجیے۔ ایسا  کرنے  سے  آپ کی  پڑھائی متاثر نہیں ہو گی۔ ان طریقوں پر  عمل کیجیے۔  ان شاء  اللہ  آپ کی  پریشانی جاتی  رہے  گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: میرا سکول سے  چھٹیاں کرنے  کو  بہت  دل کرتا ہے۔  اساتذہ  بھی مجھ  سے  تنگ آ جاتے ہیں۔ مجھے  اپنے دوستوں  پر بہت حیرت  ہوتی ہے جو باقاعدگی  سے  سکول جاتے ہیں۔

محمد  ارسلان،  گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول بہاول نگر

جواب: یہ اچھی بات  نہیں۔ سکول  نہیں جائیں گے  تو آپ کی  پڑھائی  متاثر  ہو  گی اورآپ بہتر  اندازمیں امتحان  کی  تیاری  نہ کر  پائیں گے۔ اگر  آپ سکول  سے زیادہ  چھٹیاں  اس لیے کر رہے ہیں  کہ  پڑھائی  میں کچھ  مسائل  کا  شکار  ہیں تو اپنے  اساتذہ  سے  بات  کیجیے، وہ یقیناً آپ کی مدد  کریں گے۔ اپنے   ان دوستوں  کو جو  باقاعدگی  سے  سکول  جاتے ہیں،  حیرت  کی  نظر  سے  نہ  دیکھیے، وہ  تو  قابل تعریف  اور  قابل  رشک ہیں۔ طالب علم کا  اپنے سکول  سے جتنا  گہرا تعلق  ہو گا، وہ اپنے تعلیمی مدارج  اتنی  ہی  خوش  اسلوبی  سے طے کرتا جائے  گا۔ اپنے دل کو  سمجھائیے۔  سکول  نہیں جائیں گے  اور  زیادہ چھٹیاں  کریں گے تو اپنی  تعلیم  میں  پیچھے رہ  جائیں  گے۔ باقاعدگی  سے سکول  جائیے اور آگے  بڑھتے  جائیے۔

سوال: میں پڑھنے کے لئے ٹائم ٹیبل بناتی ہوں مگر عمل نہیں کر پاتی، کوئی حل بتائیں ؟

عائشہ بانو، جماعت  دہم،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پھولڑہ، ضلع بہاول نگر

جواب: ٹائم ٹیبل میں ٹائم فکس نہ کریں،  مثلاً 3 بجے سے 4 بجے تک ریاضی کا مضمون پڑھنا ہے، لیکن اگر خدانخواستہ اس دوران آپ کو ایمرجنسی کام پڑ گیا تو آپ کا اگلا سارا لائحہ عمل بیکار جائے گا، آپ یہ کریں کہ لکھیں کہ آج میں نے ریا ضی کی مشق لازمی کرنی ہے پھر وہ ہر صورت کرکے چھوڑیئے، چاہے کتنا بھی وقت لگے، اپنی سستی پر قابو پائیں ، دو چار دن سختی برداشت کیجیے، عادی ہو جائیں گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں  سبق یاد کرتی ہوں لیکن جب سنانا شروع کرتی ہوں تو بھول جاتی ہوں،  میں اپنےاس مسئلے پر کیسے قابو پاؤں؟

سعدیہ پروین، جماعت دہم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پھولڑہ، ضلع بہاول نگر

جواب: جب سبق یاد کریں تو زبانی لکھ کر دیکھیں اور دو تین مرتبہ اونچی آواز میں اپنے آپ کو سنائیں، سبق کو سمجھ کر یاد کیجیے، الفاظ بدل بھی جائیں تو کوئی مسئلہ نہیں ،مفہوم وہی ہونا چاہیے۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں وقت کی پابندی کو اپنانے کی کوشش  کرتی ہوں لیکن اس کو کسی بھی طرح اپنا نہیں پاتی، مہربانی فرما کر مجھے کوئی اس مسئلے کا کوئی حل بتائیں؟

رابعہ شفیق، جماعت ہفتم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول  303، ضلع بہاول نگر

جواب: اپنے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے سب سے  پہلے تو آپ ایک اوقات نامہ تیار کریں جس میں آپ اپنے ہر کام کو ایک مقررہ وقت پر کرنے کے لیے درج کریں تاکہ آپ متعلقہ وقت میں اپنا ہر کام سر انجام دے سکیں، اس کے علاوہ پڑھائی کے لیے آپ اپنا ایسا ٹائم ٹیبل بنائیں کہ آسان مضمون کو تھوڑا اور مشکل مضمون کو زیادہ وقت مل پائے۔

٭٭٭٭٭

سوال: مجھے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق ہے، میں بڑا ہو کر قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونا چاہتا ہوں لیکن سب میرا مذاق اڑاتے ہیں اور میرا دل توڑتے ہیں۔

محمد عمر شاہین، جماعت فرسٹ ایئر، گورنمنٹ  سید شمس الدین ایسوسی ایٹ  کالج اوچ شریف، ضلع بہاول پور

جواب: ارے بچے شاہین بنیں شاہین۔ دوسروں کی ان باتوں کو دل میں رکھتے ہیں جو اچھی ہوں، دل کو اتنا آزاد نہیں چھوڑنا چاہیئے کہ کوئی بھی توڑ دے۔ مذاق کو مذاق میں ٹال دیا کیجئے۔ کھیل اچھی چیز ہے مگر پہلے تعلیم۔ دل لگا کر پڑھیں۔ اچھے نمبروں سے اور اچھی قابلیت سے آگے بڑھیں اور کرکٹ کی پریکٹس بھی جاری رکھیں۔ جب آپ کے انٹر سکولز مقابلوں میں آپ کی ٹیم دوسری ٹیم سے کھیلے پھر تحصیل اور ضلعی سطح پر۔۔۔ پھر اپنی محنت اور قابلیت سے ملکی ٹیم میں بھی پہنچ جائیے گا۔

٭٭٭٭٭

سوال: سبق سنانے میں روانی نہیں ہے، حالانکہ زبان میں کوئی نقص نہیں ہے۔ کیا کروں؟ احساس کمتری کا شکار ہوں۔

عمارہ شفیق ملک، جماعت  سکینڈ ایئر، کیمبرج ہائیر سکینڈری سکول اوچ شریف، ضلع  بہاول پور

جواب: آپ نے ضرور روانی سے سنانا ہے؟ ٹھہر ٹھہر کر آرام سے پڑھا اور سنایا کیجئے۔ احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔ روانی سے سبق تبھی یاد کیا جاسکتا ہے جب آپ اس سبق کو سنانے سے پہلے خوب مشق کریں۔اس طرح سبق بھی اچھے سے یاد ہوجائے گا اور روانی بھی آجائے گی۔

٭٭٭٭٭

سوال: میں تین چار دوستوں سے دھوکے پہ دھوکا کھا چکا ہوں۔ کیا میں پھر بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کروں؟

محمد آصف سرکی، جماعت نہم، شان اکیڈمی سرکی تحصیل علی پور، ضلع مظفر گڑھ

جواب: بالکل۔۔۔ اچھا اور بہت اچھا سلوک کیجئے۔ وہ برا کرتے ہیں تو ان کا عمل ان کے ساتھ۔ ہاں ان کے مزید دھوکوں کے انتظار میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس ملیں تو اچھی طرح اور دل سے ملیں۔ اللہ پاک کی خوشی کے لئے اور ان کے لئے دعا کیجئے۔ جن کی محفل نقصان دہ ہو وہاں مت جائیں مگر جب ملیں تو اچھے رہیں۔

٭٭٭٭٭

سوال: نماز کے دوران بہت زیادہ خیالات آتے ہیں، جس کی وجہ سے میں بہت زیادہ پریشان ہوں۔
شعیب احمد علی، جماعت سکینڈ ایئر، گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول چنی گوٹھ، ضلع بہاول پور
جواب: شعیب صاحب! زیادہ پریشانی کی بات نہیں، یہ فطری بات ہے۔ آپ نماز کا ترجمہ یاد کر لیجیے اور جو جو لفظ ادا کرتے جائیں اس کا ترجمہ سامنے لاتے جائیے۔ ذہن میں اپنے سامنے یہ تصور کر لیا کیجیے کہ اللہ جی آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ جتنی یکسوئی سے آپ ان کے آگے جھکیں گے، ویسے ہی محبت اور پیار سے وہ قبول کریں گے۔ خیال آتے ہیں تو آنے دیں۔ نماز مت چھوڑیں، اپنے آپ کم ہو جائیں گے۔
٭٭٭٭٭
سوال: مجے فزکس اور کیمسٹری کے مضامین پڑھنے میں بہت مشکل لگتے ہیں۔
احمد علی خان، جماعت نہم، گورنمنٹ کمپری ہینسیو بوائز ہائیر سکینڈری سکول ملتان
جواب: واہ جی حضرت، اگر یہ آپ کو مشکل لگتے ہیں تو سب سے پہلے آپ یہ سوچنا چھوڑ دیجیے کہ یہ مشکل ہیں۔ پھر خود کو چیلنج کر کے محنت کیجیے۔ کوئی کتاب کبھی خود انسان سے مشکل نہیں ہوتی۔ خود کو ذہنی طور پر تیار کر لیجیے کہ آپ نے کرنی ہے۔ پھر اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر مختلف گیمز اور کوئز کی صورت اسے یاد رکھیے۔ ہاں اگر آپ کی دلچسپی ان مضامین میں نہیں، طبیعت کے خلاف ہے تو فوراً تبدیل کر کے دوسرے مضامین رکھ لیں۔
٭٭٭٭٭
سوال: میری یہ عادت نہیں جاتی کہ میں ناخن دانتوں سے کاٹتا ہوں۔
شاہد علی، جماعت دہم، گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف ضلع بہاول پور
جواب: شاہد صاحب! خیر سے اب آپ بڑے ہو گئے ہیں۔ ناخن چبانا احساس محرومی کی علامت ہوتا ہے۔ کوئی بھی بری عادت اس وقت چھوٹتی ہے جب آپ اسے چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیں۔ خود کو ہمت دلائیں کہ ایک انسان ہو کر اتنی معمولی اور بری بات کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہی احساس کرنے اور خود کو خود ہی روکنے سے ہر غلط کام کرنے سے بچ جائیں گے۔ یہ کلیہ عمر بھر کام آتا ہے۔ جو غلطی کرتا ہے سدھارتا بھی خود ہے، کوئی دوسرا سدھارنے نہیں آتا۔
٭٭٭٭٭
سوال: مجھے یہ دنیا خود غرض لگتی ہے۔ گھٹن ہونے لگی ہے۔
شبیر احمد، جماعت فرسٹ ایئر، گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ نواب صاحب، ضلع بہاول پور
جواب:واہ جی حضرت، دنیا خود غرض تو لگے گی جب آپ اس کو خوب صورت بنانے میں اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے۔ دوسروں سے توقع رکھنے کی بجائے خود ایک امید بنیں۔ سب سے پہلے اپنے آپ کے لیے ایک اچھے دوست بنیں، پھر دوسروں کے لیے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا باعث بنیں۔ اللہ جی نے ہر انسان کو دوسرے کی خوشی اور تکمیل کے لیے ہی بنایا ہے۔ صرف اپنے لیے سوچنے والے اور دوسروں سے اچھائی کی توقع رکھنے والے تو خالق کی دنیا کے منصوبے کے بھی خلاف چلتے ہیں اور اسے یہ کب پسند ہو گا۔
٭٭٭٭٭

سوال: بہت سے  رسالوں اور اخباروں میں قرآنی آیات یا ان کا  ترجمہ  باقاعدگی  سے شائع ہوتا ہے۔ ساتھ  یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ  قرآنی آیات  کا احترام آپ پر  لازم ہے۔ مگر  بہت کم لوگ اس ہدایت  پر عمل  کرتے  ہیں اور  اخبار کو  تو  پڑھنے  سے  زیادہ  دوسرے کاموں میں استعمال کیا  جاتا ہے۔ اخبار  الماریوں میں  بچھانے، لفافے بنانے،  گوشت  وغیرہ لپیٹنے  اور کتابوں کی جلدیں بنانے، کسی چیز کو  صاف کرنے ، جوتوں اور بیگوں میں ٹھونسنے  اور نجانے  کس کس کام آتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ  قرآنی  آیات  کی  بے  ادبی  ہونے  سے  بچانے کے لیے ہم کیا  کر  سکتے ہیں؟

محمد شاہد، جماعت نہم، گورنمنٹ  ہائی سکول علی پور،ضلع مظفر گڑھ

جواب: اخباروں، رسالوں میں تبلیغ  اور اشاعت  کے مقصد سے قرآنی آیات کا ترجمہ  چھاپا جاتا ہے اور یقیناً جو  کوئی اسے اور ساتھ دی  گئی  ہدایت کو پڑھتا  ہو گا وہ  اسے احترام سے رکھتا بھی ہو گا۔  آپ کا  یہ  کہنا درست ہے کہ اخبار پڑھا  کم اور استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ اپنے طور پر آپ یہ کر سکتے ہیں جہاں کہیں کوئی قرآنی آیات  پائیں، جس  رسالے یا اخبار میں قرآنی  آیات، ترجمہ یا  حدیث مبارکہ  چھپی ہوئی  دیکھیں اسے  احترام سے بلند جگہ پر رکھ دیجیے۔  اگر آپ سالم اخبار  یا رسالہ نہیں سنبھال سکتے تو اس آیت یا ترجمے کو وہاں  سے  کاٹ  لیں،  ایک فائل  بنائیں اور اس میں چسپاں کرتے جائیں۔  وقت ملے تو اسے  پڑھیں اور ہدایت حاصل کریں ۔ اگر اتنا بھی نہیں کر سکتے تو  گھر میں کوئی مرتبان ، کوئی ڈبہ  یا باسکٹ وغیرہ  مخصوص کر لیں  اور یہ تراشے اس میں اکٹھی کرتے جائیں۔  اس مقاصد کے لیے  مساجد، دینی مدارس اور عموماً کھمبوں وغیرہ کے  ساتھ ڈبے لگے ہوتے ہیں ۔  ان مقدس اوراق کو ان میں ڈال دیا کیجیے۔  لیکن یاد رکھیں کہ آپ اللہ  پاک  کے نام کا جتنا  بھی  احترام کریں گے، اللہ  پاک آپ کو بھی اتنی عزت  اور بلند مرتبہ  عطا کرے گا۔  حضرت بشر حافی رحمتہ  اللہ علیہ کا واقعہ تو  آپ نے سنا ہو  گا۔  وہ  شروع میں کوئی ایسے  نیک انسان  نہیں  تھے۔  نشے کی  حالت  میں ان کا  پاؤں ایک کاغذ پر پڑ گیا  جس پر  اللہ کا نام نامی اسم گرامی  درج تھا۔   آپ نے  فوراً اسے  اٹھایا  ، صاف کیا  ، چوما، خوشبو لگائی اور اللہ سے معافی مانگ  کر  کاغذکو احترام سے بلند مقام پر  رکھ دیا۔  اللہ پاک کو  ان کی یہ  ادا اتنی پسند آئی  کہ  انہیں فسق  وفجور  سے  نکال کر  ولی اللہ  کے بلند مرتبے پر فائز کر دیا اور اپنا پیارا بندہ بنا  لیا ۔  یوں سمجھیں کہ  ہماری  ذرا سی  احتیاط اور محبت ہمیں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بلند  کر  دیتی ہے۔

سوال: میری یادداشت بہت کمزور ہے۔ میں ہر بات  بہت جلد  بھول جاتا  ہوں۔ سبق بھی یاد نہیں رہتا۔  کیا کروں؟

محمد حمزہ، جماعت ہشتم، گورنمنٹ  ایلیمنٹری سکول اوچ بخاری، ضلع  بہاول پور

جواب: حمزہ  میاں! حالات  ایسے ہی خراب ہیں تو  پھر  تو یہ  حل بھی پڑھ کر آپ   بھول جائیں گے۔ سیانے کہتے ہیں کہ بھول جانا  ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔  اس کو سوچنا اور پریشان ہونا کم کر دیں تو مسئلہ  بھی  کم ہونا شروع ہو  جائے  گا۔  جس جس بات اور چیز کو ضروری یاد  رکھنا ہو، اسے نوٹ کر لیا  کیجیے۔ بار بار دہرائیے اور  سوچ  کر دہرائیے۔  بلکہ کچھ پڑھیں تو  کسی دوسرے  سے شیئر کیجیے۔  کمرہ جماعت میں استاد صاحب کا لیکچر سنیں  تو اپنے قریبی ہم جماعت کو  بتائیں۔  بتانے  اور دہرانے سے بہت فائدہ  ہوتا  ہے۔  نوٹس  لینے  سے بہت  آسانی ہوتی ہے۔  سب سے  اہم بات  یہ کہ  کچھ بھی  پڑھیں یا  سنیں تو دل  و  دماغ کی موجودگی  کو  یقینی بنائیے۔  دل و دماغ ہی  حاضر نہ  ہوں تو پھر کون یاد رکھے  گا۔  توجہ بٹی ہو  تو  کسی  کی ذرا  سی  بھی بات  یاد نہیں رہتی۔  تو اب تک جان گئے  ہوں گے کہ یہ مسئلہ صرف  آپ کی  توجہ  طلبی ہے۔  ایک فوری  اور  آسان نسخہ نوٹ کیجیے ۔  روشنی میگزین کی  تحریریں پڑھیئے اور پھر  گھر  میں، کسی دوست سے جا  کر ذکر کیجیے کہ اس بار فلاں فلاں موضوعات پر  تحریریں ہیں۔   فلاں فلاں موضوعات پر  کہانیاں ہیں۔  وغیرہ  وغیرہ۔  بات  پڑھنے  اور  کسی  کو  سنانے سمجھانے  میں اس کو  دہراتے رہیئے ۔  آپ کو  ہر بات  فر فر یاد آ جایا کرے  گی۔   خرچہ  کرنا ہو تو اماں بی سے  کہیئے کہ  بادام کی سات  گریاں رات کو پانی میں ڈال دیا کریں، صبح اٹھ  کر مکھن اور شکر ملا کر  کھا  لیا کیجیے۔  فائدہ دو چند ہو جائے  گا۔

شیئر کریں