کتب خانہ

کتابیں اپنے آباء کی: رضا علی عابدی کی شاہکار تصنیف

نعیم احمد ناز

اپنی دل آویز آواز اور فکر انگیز تحریروں کے سبب نصف صدی کے زیادہ عرصے سے لوگوں کی ذہنی، فکری، تہذیبی اور جذباتی تربیت کرنے والے بے مثل صدا کار، صحافی، ادیب، محقق اور سفرنامہ نگار جناب رضا علی عابدی جب بولتے ہیں تو سماعت کے ساتھ ساتھ قرات کا گمان ہوتا ہے اور جب ان کی تحریر پڑھتے ہیں تو وہ خود بولتے سنائی دیتے ہیں۔ اردو میں معدودے چند ادیب ہیں جو نہایت سہل انداز میں گمبھیر بات کہہ جاتے ہیں۔ مجھ سمیت کتنی ہی نسلیں ریڈیو پر بی بی سی لندن کی اردو سروس کے شہرۂ آفاق پروگرام سیربین میں ان کی طرح دار اور خوب صورت آواز سن کر جوان ہوئیں۔ وہ کئی نسلوں کے نوسٹیلجیا میں ہمکتے ہیں۔ ”شیر دریا“ اور ”جرنیلی سڑک“ ان کے معروف سفر نامے ہیں۔ جبکہ ”کتابیں اپنے آباء کی“ کے علاوہ ”کتب خانہ“ ان کی محنت شاقہ اور تحقیق کا نچوڑ ہے۔

لندن کی انڈیا آفس لائبریری اور قومی برٹش لائبریری میں اردو کی نہایت پرانی کتابوں کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ برصغیر میں جب سے اردو کتب کی اشاعت شروع ہوئی ہے اور یہ بات 1803ء کی ہے، اس وقت چھپنے والی ہر کتاب کے کچھ نسخے سمندری جہازوں کے ذریعے برطانیہ لا کر یہاں محفوظ کر دیے جاتے تھے۔ رضا علی عابدی بی بی سی میں ملازمت کے دوران ان لائبریریوں میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سارا خزانہ وہاں محفوظ پڑا ہے۔ ان کے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ ان کتابوں پر ایک پروگرام شروع کیا جائے۔ تعارف کے ساتھ ساتھ ان کتابوں سے منتخب حصے پڑھ کر سامعین کو سنائے جائیں۔ بی بی سی پر ان کے اس پروگرام نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دیے۔ ملازمت سے سبک دوشی کے بعد عابدی صاحب سارے مسودے اپنے ساتھ لے آئے اور عمر عزیز کے 70 برس بیت جانے کے بعد ان کو خیال آیا کہ کیوں نہ ان مسودوں کا ازسرِنو جائزہ لے کر انہیں کتابی شکل میں شائع کیا جائے۔

سن 1803ء سے 1899ء کے درمیان شائع ہونے والی تقریباً ایک سو قدیم کتابوں کے تعارف، اقتباسات اور تبصرے پر مشتمل ایک نایاب اور خوبصورت کتاب ”کتابیں ہمارے آباء کی“ علمی و ادبی تاریخ کے طلبہ، پرانی کتب کے مطالعے کے شوقین لوگوں اور ”خوب سے خوب تر کی جستجو“  میں پھرنے والے سرپھروں کے لیے ایک عمدہ انتخاب ہے۔

کتابیں اپنے آباء کی دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ”نثر کے معمار“ کے عنوان سے ہے اور اس میں 47 دلچسپ کتابوں کا احوال شامل ہے جبکہ کتاب کا دوسرا حصہ ”سخن ور بہت اچھے“ ہے اور اس میں شاعری کی 33 کتابوں کا تعارف و تذکرہ شامل ہے۔

بقول مصنف، اس میں زیربحث آنے والی کتب ساری کی ساری اعلیٰ ادبی شہ پارے نہیں، یہ تمام عمدہ کلاسیکی شاہکار نہیں، یہ سب اپنے اپنے وقت کے ذوق و شوق کی نمائندہ کتب ہیں۔ اہل ہند نے جس لگن سے ”دیوان غالب“ پڑھا اسی دل چسپی سے ”نور نامہ“ یا ”شریعت کا لٹھ“ بھی پڑھا۔ گھر سے قدم نکالتے ہوئے جنتریاں بھی دیکھی اور فال نامہ تو سرہانے رکھ کر سوئے۔ آج تک لوگ میر امن کی ”باغ و بہار“ بھی پڑھ رہے ہیں اور ”مرنے بعد کیا ہو گا“ اور ”زنجانی جنتری“ بھی ان کے مطالعے میں ہے۔

 گنتی کے  540 صفحات پر مشتمل اس گراں قدر اور خوب صورت کتاب کی قیمت محض 1500 روپے ہے۔ اسے ملک کے ممتاز اشاعتی ادارے سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے، الغرض ”کتابیں اپنے آباء کی“ ایک ایسی کتاب ہے جو ہر باذوق شخص کے کتب خانے میں موجود ہونی چاہیے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •