کچھ ہمارے بارے میں

مقام شکر ہے کہ روشنی کی صورت میں جنوبی پنجاب کے سکولوں کے طلبہ کا پہلا میگزین آج آپ کے ہاتھ میں ہے۔ روشنی کو چند ماہ بیشتر ملک اور شاید دنیا بھر  کے بچوں کے لیے اردو کے پہلے باقاعدہ آن لائن میگزین کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ اور اب ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے یہ کتابی شکل بھی اپنا چکا ہے اور ماہوار شائع ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ آن لائن میگزین کا سفر بھی  جاری و ساری ہے۔ ہم  نے ایسا کیوں کیا اور اس کا خیال ہمیں کیوں کر آیا؟

ہم شاید وہ آخری نسل ہیں جو کتابوں کے سائے میں پل کر  جوان ہوئی۔ ان کتابوں سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اگر یہ کہا  جائے کہ ہم میں سے بہت سوں نے زندگی میں جو کامیابیاں حاصل کیں، بہت حد تک، مطالعے کی اسی عادت کی مرہون منت ہیں  تو شاید غلط نہ  ہو گا۔

بڑھا  دیتی  ہیں  عمروں کو  نہ جانے  یہ کتابیں کیوں

میں  چھوٹا تھا  مگر  سر پر  کئی صدیوں  کا سایہ تھا

وہ کتابیں ایک طرف تو ہمیں اپنے ماضی سے جوڑتی تھیں تو دوسری طرف حال کا احوال بھی بتاتی تھیں اور سب سے بڑھ کر یہ  کہ مستقبل کے لیے تیار کرتی تھیں۔ اپنی ثقافت، اپنی معاشرت سے آگاہ کرتی تھیں، زبان وبیان کی باریکیاں سکھاتی تھیں، صحت مندانہ تفریح مہیا کرتی تھیں۔ افسوس صد افسوس ٹیکنالوجی کے اس دور میں کتاب کہیں کھو گئی اور اب عالم یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل ما فی الضمیر کو، کم از کم اردو کی حد تک، زبانی یا تحریری شکل میں بیان کرنے میں دِقت محسوس کرتی  ہے۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ اُردو زبان کو اپنی بقا کی جنگ لاحق ہے تو شاید یہ بھی غلط نہ ہو گا۔

اور پھر کتاب کیا ہاتھ سے چُھوٹی، ہماری تو معاشرتی و اخلاقی اقدار کا شیرازہ ہی بکھر کر رہ گیا۔ ہمارا آج کا نوجوان نہ تو اپنی  تاریخ سے واقف ہے، نہ ثقافت سے جڑا ہوا، معاشرت کے سبق پڑھتا ہے نہ قومی و بین الاقوامی ادب کے شہ پاروں سے مستفید ہوتا ہے۔ ہاں انٹرنیٹ تک رسائی ہے اس کی، لیکن جو معلومات انٹرنیٹ پہنچاتا ہے وہ وسیع تو ہیں، گہری نہیں۔ ہمیں اب کتاب اس کے  ہاتھ میں دوبارہ تھمانی ہے۔ مطالعے کی عادت پھر سے متعارف کروانی ہے۔ اسی ارادے کے ساتھ ہم نے چند ماہ قبل آن لائن اور اب طباعتی طور پر روشنی میگزین کی داغ بیل ڈالی کہ نوجوان کا انٹرنیٹ بھی نہ چُھوٹے اور مطالعہ بھی ہوتا رہے۔

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جنوبی پنجاب کے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں میں مطالعے کی عادت راسخ کرانے، قومی زبان کی ترویج اور طلبہ میں کتب بینی و تحریر نگاری کے ذوق کو اجاگر کرنے کے لیے ہم نے فروغ کے نام سے ایک جامع منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت جماعت ششم کی سطح پر چار چار بچوں پر مشتمل مطالعاتی حلقے (گروپ) تشکیل دیے گئے ہیں۔ مہینے  کی پہلی تاریخ کو ہر گروپ کے ایک بچے کو ماہنامہ روشنی کا شمارہ تھما دیا جاتا ہے۔ ایک ہفتے بعد یہ میگزین دوسرے بچے اور اسی طرح تیسرے اور چوتھے ہفتے میں، تیسرے اور چوتھے بچے  کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ ان 28 دنوں کے بعد، مہینے کے باقی بچ جانے والے دو تین دنوں میں اردو کا ٹیچر اپنی کلاس میں اس میگزین کی بابت بحث کرواتا ہے کہ کیا پڑھا، کیا اچھا لگا، کیا اچھا نہیں لگا، کیا نئی بات سیکھی۔ اس بحث و مباحثہ میں شرکت اگرچہ اختیاری ہوتی ہے لیکن اس کا مقصد ایک طرف بچوں میں میگزین کے مطالعے سے حاصل ہونے والے فوائد کو راسخ کرنا ہے تو دوسری طرف غیر محسوس انداز میں ان بچوں کو بھی احساس دلانا اور مطالعے کی طرف راغب کرنا ہے کہ جو میگزین پڑھنے میں کوتاہی برتنے کے سبب اس بحث میں یکسر یا خاطر خواہ حصہ  نہیں  لے پاتے۔ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ جب بچہ یہ میگزین گھر  لے کر جائے گا اور اس کا مطالعہ کرے گا تو لامحالہ اس کے  دیگر بہن بھائیوں میں بھی اس کو دیکھنے اور پڑھنے کی خواہش بیدار ہو گی۔ گویا ہماری اس کاوش کے نتیجہ میں ہمارے سکول کا  بچہ ہی نہیں بلکہ اس کے بہن بھائی بھی فیض پائیں  گے۔

اس کے پیچھے یہ سوچ بھی کارفرما ہے کہ جب بچے کو اس بات کا احساس ہو گا کہ یہ میگزین اس کے پاس محض ایک ہفتہ  رہے گا اور اس کے بعد کسی دوسرے بچے کے پاس چلا جائے گا اور یہ کہ کلاس کے دیگر بچے بھی اسے پڑھ رہے ہوں گے تو وہ بچہ میگزین کو گھر  لے جا کر اسے ایک طرف رکھنے کے بجائے، اسے پڑھنے کی کوشش کرے گا۔ چھٹی جماعت کے طلباء و طالبات جب سال بھر مطالعہ کی یہ لازمی سرگرمی کرتے رہیں گے تو ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ ان میں سے بہت سوں کو اس کی عادت پڑ جائے گی اور وہ بعدازاں بھی اسے قائم رکھیں گے۔

کسی کتاب پر میگزین کو ترجیح دینے کے پیچھے بھی ایک حکمت پوشیدہ ہے۔ اگر آپ کسی کو پہلے پہل مطالعہ کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہماری دانست میں اس مقصد کے لیے کتاب کی نسبت، ایک میگزین زیادہ موزوں ہے کہ وہ رنگارنگ اور دل کش ہوتا ہے، تحریریں بہت طویل نہیں ہوتیں اور آپ اپنے موڈ، رجحان اور میسر وقت کے مطابق نثر، نظم لطائف یا کسی دیگر  صنف سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔

ہم بچوں کو مطالعے کی طرف تو لا ہی رہے تھے کہ وہ زبان و بیان کی نزاکتوں کو سمجھ سکیں لیکن یہ کُلی طور پر اسی وقت ممکن تھا کہ جب ہم ان کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی طرف بھی راغب کر سکیں۔ ہنر سیکھنے کا بہترین طریقہ اسے استعمال کرنا ہے۔ کسی علم پر، کسی ہنر پر عبور اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب آپ اسے عمل میں لائیں، لاکھ صفحے پڑھ لینے سے کہ پانی  میں کیسے تیرا جاتا ہے وہ ایک چھلانگ زیادہ سکھلا دیتی ہے جو آپ کسی نہر میں لگاتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں خوشی ہے کہ  روشنی میگزین بچوں کو لکھنے  کے مواقع بھی فراہم کر رہا ہے، بلکہ اگر یوں کہیں کہ یہ انہی کی تحریروں سے مزین ہے تو بھی غلط نہ ہو گا۔ اس ساری کاوش کا حاصل یہ ہے کہ کمپیوٹر اور موبائل کی اسی سکرین پر کہ جس سے بچہ آنکھ اٹھانے پر  آمادہ نہیں ہوتا، یہ میگزین رکھنے کے ساتھ ساتھ اب ہم نے اسے اس  کے ننھے منے ہاتھوں کی زینت بھی بنا دیا۔ امید اور دعا ہے  کہ وہ اس سے مستفید ہو، اسے پڑھے بھی اور اس کے لیے لکھے بھی۔

احتشام انور

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •