وہ میرا دشمن یا۔۔۔۔۔؟

ایک گاؤں میں شوکت نامی لڑکا رہتا تھا ۔اس کا باپ بچپن ہی میں فوت ہو گیا۔اس کی امی دوسروں کے گھروں میں کام کاج کرتی تھی۔اس نےاپنے بیٹے کو پالا اورپڑھایا۔اس کی امی کی محنت سے وہ ساتویں کلاس میں پہنچ گیا۔اس کے سکول کی فیس معاف تھی۔اس کی امی اسے پڑھاناچاہتی تھیں تاکہ وہ بڑا آدمی بن جائے۔وہ اپنا مستقبل سنوار سکے۔ وہ اپنی نئی کلاس میں آنے سے بہت خوش تھا۔ وہ اس لئے بھی خوش تھا کہ اس کی جان سر اکبر سے چھوٹ گئی کیونکہ سر اکبر بہت سخت مزاج تھے۔شوکت کو اس استاد سے بہت ڈر لگتا تھا۔ وہ اس سے شدید نفرت کرتا تھا۔ دل ہی دل میں سوچتا کہ شکر ہے وہ اب ہمارے استاد نہیں رہے۔شوکت بڑا ہو رہا تھا اور وہ بگڑتا جا رہا تھا۔ اس کو اپنی ماں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔وہ اپنی ماں سے نہیں ڈرتا تھا ۔وہ گندی فطرت والے دوستوں کے ساتھ بیٹھتا تھا ۔ آج شوکت کا نئی کلاس میں پہلا دن تھا ۔ سر اکبر صاحب آئے، انہوں نے کہا῎میں اب بھی آپ کا استاد ہوں῎شوکت اپنے دوستوں کی باتوں میں مصروف تھا۔ جب شوکت نے یہ سنا تواسے حیرت سے جھٹکا لگا۔ وہ اپنے گھر گیا تواپنی امی سے کہنے لگا کہ سر اکبر نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا وہ اب بھی ہمارے استاد ہیں۔ امی نےاسے سمجھایا کہ بیٹا استاد تو استاد ہوتا ہے، وہ باپ کی طرح ہوتا ہے۔ اسکے بارے میں ایسا نہیں کہتے۔ وہ غصے سے گھر سے باہر چلا گیا ۔ وہ جب سکول گیا تو اس نے کھڑکیوں سے دیکھنا شروع کر دیا ۔ سر اکبر صاحب نے اسے ڈانٹا اور کئی مرتبہ وہ سر سے مار کھا چکا تھا۔ وہ ساتویں جماعت میں فیل ہو گیا۔ سر اکبر صاحب بہت پریشان ہو گۓ۔ شوکت نے پڑھنا چھوڑدیا۔وہ سر اکبر کو پریشان کرنے کی ترکیبیں سوچتا رہتا تھا ۔ آخر کار گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد پتہ چلا کہ سر اکبر فوت ہو گئے ہیں۔ شوکت کو کوئی پریشانی نہ ہوئی۔ وہ بہت خوش تھا۔ اس بات کو دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ ایک مرتبہ ہیڈ ماسٹر نے شوکت کو بلایا اور کہا کہ اپنی امی کو کہنا کہ اگلے ماہ کی فیس ادا کرے۔ شوکت نے حیرت سے کہا میری فیس تو معاف تھی۔ ہہڈ ماسٹر نے کہا :
بیٹا پہلے تو سر اکبر اپنی جیب سے وقت پر غریب بچوں کی فیس ادا کرتے تھے، کیونکہ وہ آپ سے محبت کرتے تھے۔ یہ بات سن کر شوکت کو دھچکا لگا ۔ شوکت اپنے گھر گیا تو اس نے اپنی امی کو ساری بات بتائی۔ اس کی امی جانتی تھی ۔ لیکن شوکت کو پڑھائی چھوڑنی پڑی۔وہ کریانہ کی دکان پر کام کرنے لگا۔ اب اسے سر اکبر صاحب یاد آرہے تھے۔ اب کیا ہو سکتا تھا۔ اب وقت چلا گیا،گیا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔

نتیجہ: وہ میرا دشمن نہیں محسن تھا

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •