علماء کرام کے مطابق علم نافع کی تین نشانیاں ہیں۔

1: وہ علم جو انسان کے اندر اللہ سْبحانہ و تعا لٰی کا خوف پیداکر دے وہ علم نا فع ہے.

حضرت حسن بصریؒ سے جب سوال کیا گیاکہ علم نافع کی تعریف کیا ہے تو آپؒ نے فرمایا کہ
“جس کےاندر اللہ سْبحانہ و تعالٰی کا خوف آگیا ہےاس کے پاس علم آگیا ہے”
جس کےاندر اللہ سْبحانہ و تعالٰی خوف نہیں اس کا علم ناکارہ ہے
2: وہ علم جو انسان کو درست عمل کرنے پر مجبور کر دے وہ علم نا فع ہے۔
سعیدبن عبدالعزیز جب ان کی نماز باجماعت رہ گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے رونا شروع کردیا آپ سے پو چھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں تو آپ نے جواب دیا کہ نقصان ہو گیا ہے جو پورا نہیں ہو سکتا پو چھا گیا کیا نقصان ہو گیا ہے جو پورا نہیں ہو سکتا آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میری نماز باجماعت رہ گئی ہے یہ میرا ایسا نقصان ھے جو پورا نہیں ہو سکتا۔
یہ علم نافع ہی تھا جس نے ان کواچھے عمل پر خوش دلی سے پابند کر رکھا تھا۔

3: وہ علم جو انسان کےاندر خیرخواہی کا جذبہ پیدا کردے وہ بھی علم نا فع ہے
ایسا انسان جس کے پاس علم نافع ہو تو وہ
حسد
بغض
عداوت
لالچ
جھوٹ
اور انتقام
جیسی بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •