اردو افسانے کا ارتقائی جائزہ​

تعارف
داستان اور ناول کے برعکس افسانہ جدید صنعتی اور مشینی دور کی پیداوار ہے۔ اس دور کے انسان کو تیزی سے بدلتے ہوئے زمانے کا ساتھ دینے اور زندگی کے نت نئے مسائل سلجھانے کے لئے شب و روز مصروف رہنا پڑتا ہے۔ اس مشینی دور کی تھکا دینے والی تیز اور مصروف زندگی میں اس کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ نچنت ہو کر فراغت سے بیٹھے اور بھاری بھرکم داستانوں اور ضخیم قسم کے ناولوں کا مطالعہ کرکے جذباتی تسکین یا ذہنی تفریح کا سامان کرسکے۔ چنانچہ وقت کی کم دامنی کا یہ احساس ہی مختصر افسانے کی ایجاد کا باعث بنا۔

افسانے کی تعریف بیان کرتے ہوئے ایک نقاد نے کہا ہے کہ
افسانہ ایک ایسی نثری داستان کو کہتے ہیں جس کے پڑھنے میں کم از کم آدھا اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے لگیں۔
اس سلسلے میں ایک اور نقاد کا کہنا ہے کہ
افسانہ ایک ایسی فکری داستان کو کہتے ہیں جس میں ایک خاص کردار، ایک خاص واقعہ، ایک تجربے یا ایک تاثر کی وضاحت کی گئی ہو۔ نیز اس کے پلاٹ کی تفصیل اس قدر منظم طریقے سے بیان کی گئی ہو کہ اس سے تاثر کی وحدت نمایاں ہو۔
افسانے کی بدلتی ہوئی قدروں کے پیشِ نظر یہ تعریف اتنی جامع نہ ہوتے ہوئے بھی کافی حد تک صحیح ہے۔
اردو کا موجودہ افسانہ دراصل داستان اور ناول کی ترقی یافتہ صورت ہے، جس کے کے لئے انگریزی میں Short Story کا لفظ مستعمل ہے۔ اس صنف نثر کی موجودہ ادبی اور فنی روایت پر انگریزی افسانے کی گہری چھاپ نمایاں ہے۔ اپنی مخصوص روایت کے اعتبار سے افسانہ، داستان اور ناول سے مختلف صنف ہے۔ ذیل میں اس کی چند امتیازی خصوصیات بیان کی گئی ہیں
اردو افسانے کی امتیازی خصوصیات
محدودیت
افسانہ نگار انسانی زندگی کے صرف ایک گوشے کی جھلک دکھاتا ہے۔ اس کی توجہ زندگی کے صرف ایک پہلو پر مرکوز رہتی ہے۔ وہ اس ایک پہلو مختلف گوشوں کی وضاحت کرکے کہانی مکمل کرتا ہے لیکن یہ سب گوشے ایک جمالیاتی توازن کے ساتھ آپس میں مربوط ہونے چاہئیں تاکہ افسانے میں تاثر کی وحدت قائم رہے۔
اگر افسانہ نگار افسانے میں زندگی کے ایک سے زیادہ پہلووں کو دکھانے کی کوشش کرے گا تو اس سے نہ صرف وحدت تاثر مجروح ہوگی بلکہ پلاٹ میں کئی قسم کی فنی خرابیاں بھی پیدا ہوجائیں گی۔
اختصار
اختصار افسانے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ افسانہ نگار کو اس اختصار میں جامعیت پیدا کرنے کے لئے اشارے اور کنائے کی زبان استعمال کرنی پڑتی ہے۔ ان اشاروں پر غور کرنے سے زندگی کے مسائل پر سوچ بچار کرنے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے۔
وحدتِ زمان و مکان
اتحاد زمان و مکاں بھی مختصر افسانے کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ افسانے کے واقعات اور وقت میں مطابقت ہو۔ واقعات اور وقت میں عدم مطابقت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ افسانہ تضاد کاشکار ہوجائے گا۔
وحدتِ کردار
عمل کی مطابقت بھی افسانے کی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ ایک ہی کردار سے مختلف موقعوں پر متضاد قسم کے اعمال کا ظاہر ہونا بھی خلاف فطرت ہے۔ ایک ایسا کردار جس کی فطرت نیکی ہے، ایک وقت میں رحمدل اور دوسرے وقت میں ظالم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح بدفطرت اور گھٹیا قسم کے کردار سے ایک وقت میں برائی اور دوسرے وقت میں نیکی ظاہر نہیں ہوسکتی۔ گویا افسانے کے کرداروں کے افعال میں ان کی فطرت کے مطابق یکسانیت ہونی چاہئے۔
موضوع کی عمدگی
افسانہ نگار کو موضود کے انتخاب میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ افسانے کا موضوع نیچرل، زندہ اور جاندار ہونا چاہئے تاکہ افسانہ نگار کو کہانی کے پلاٹ میں گردوپیش کے احوال اور معاشرتی مسائل کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کا موقع مل سکے۔
دلچسپی کا عنصر
دلچسپی ایک کامیاب افسانے کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اگر افسانے کے موضوع اور پلاٹ کی دلچسپی کے ساتھ اسلوب بیان بھی موثر اور دلچسپ ہو تو کہانی کے اخلاقی اور تعمیری پہلو میں بھی شروع سے آخر تک ایک خاص قسم کی دلکشی قائم رہتی ہے۔
مربوط انداز
افسانے کی ایک نمایاں خصوصیت ربط ہے۔ افسانے کے واقعات کا آپس میں زنجیر کی کڑیوں کی طرح مربوط اور منسلک ہونا ضروری ہے۔ یہ ربط بڑے فطری انداز میں نمایاں ہونا چاہئے۔
مشاہدے کا عنصر
مشاہدے کی گہرائی، انسانی نفسیات کا عمیق مطالعہ اور حقائق اشیاءمیں اتر جانے والی نگاہ نیز متوازن اور مرتب انداز فکر، افسانہ نگار کا قیمتی سرمایہ ہے۔
نظم و ضبط
افسانے کے پلاٹ میں نظم و ضبط اور موزوں ترتیب کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر افسانے کے واقعات اور کرداروں میں ایک متوازن ربط موجود ہو تو اسے منظم پلاٹ کہا جائے گا۔ کہانی کے واقعات اگر ربط اور ترتیب سے خالی ہوں تو ایسے پلاٹ کو غیر منظم پلاٹ کہا جائے گا۔ اگر افسانے میں ایک مرکزی کہانی کے ساتھ چند اور قصے بھی ایک خاص توازن اور ترتیب کے ساتھ مربوط ہوں تو اس قسم کے پلاٹ کو مرکب پلاٹ کہیں گے۔
کردارنگاری
ایک کامیاب افسانے میں کردار نگاری کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ افسانے کے کرداروں کو ہمارے گردوپیش چلتے پھرتے انسانوں کی خصوصیات اور اخلاق و عادات کا حامل ہونا چاہئے۔ اگر کردار مصنوعی ہوں گے توقاری کو متاثر نہیں کرسکیں گے۔ ایک کردار کو بلاوجہ مثالی کردار دکھانا اور دوسرے کو بلاسبب اخلاق کی پستیوں میں دھکیل دینا بھی افسانے کی ایک بہت بڑی خامی ہے۔ جس طرح عام انسان عادات و اطوار میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ، اسی طرح افسانے کے کرداروں میں بھی یکسانیت نہیں ہونی چاہئے۔ مثال کے طور پر ناپختہ نوجوانوں، پختہ کار اور جہاندیدہ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں میں ان کی فطرت اور نفسیات کے اعتبار سے فرق دکھانا چاہئے۔
افسانے کا مثالی کردار بڑا معیاری اور عام انسانوں سے بلند ہونا چاہئے لیکن اسے اس قسم کے غیر فطری اور ماورائی اوصاف سے بھی متصف نہیں دکھانا چاہئے کہ وہ ایک مافوق الفطرت انسان بن کر رہ جائے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افسانے کی کامیابی کا دارومدار بالعموم مثالی کرداروں کی کامیاب کردار نگاری پر ہوتا ہے مگر چند ایسے ذیلی کردار جو افسانے کو اختتام تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں ان کی اہمیت بھی اپنی جگہ کچھ کم نہیں۔
منظرکشی
حالات و اقعات کی کامیاب منظر کشی افسانے کی بہت بڑی خصوصیت ہے۔ افسانہ نگار کو چاہئے کہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے افسانے کا پلاٹ مقامی ماحول سے مرتب کرے تاکہ واقعات کی تصویر کشی میں اس سے کوئی فروگزاشت نہ ہوجائے۔ بعض اوقات افسانے میں غیر ملکی ماحول کی عکاسی کرنا پڑتی ہے۔ اس مقصد کے لئے افسانہ نگار کو متعلقہ ملک کے باشندوں کی معاشرت، عادات و خصائل اور جغرافیائی ماحول سے پوری طرح باخبر ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس غرض کے لئے دوسرے ملکوں کی تہذیب و معاشرت اور جغرافیائی حالات کا مطالعہ از بس لازم ہے۔ اس سلسلے میں غیر ممالک کے لوگوں سے میل جول کے مواقع پیدا کرتے رہنا بھی مفید ہوسکتا ہے۔
مقصدیت
ادب برائے زندگی کے مصداق افسانے کا مقصد بہر صورت تعمیری ہونا چاہئے۔ اچھا فنکار وہ ہے جو اپنے قلم کو مقدس امانت سمجھے، اسے صحت مند معاشرتی اصلاح کے لئے وقف رکھے، اور موقع بموقع ملک کے سیاسی، سماجی، اخلاقی، معاشی اور تعلیمی مسائل پر رائے زنی کرتا رہے۔
افسانے کے مراحل اور اجزاہ
افسانے کے ظاہری اور معنوی خدوخال کی تریب، تشکیل اور تہذیب کے لئے افسانہ نگار کو بالعموم ذیل کے فکر مراحل میں سے گزرنا پڑتا ہے۔
موضوع کا انتخاب
زندگی ان گنت موضوعات میں بٹی ہوئی ہے اس لئے افسانے کے موضوعات بھی بے شمار ہیں۔ اگر افسانہ نگار کو قدرت کی طرف سے دل بیدار اور دیدئہ بینا عطا ہوا ہو تو موضوع کا انتخاب کوئی مشکل بات نہیں۔ یہ موضوع مناظر قدرت، جاندار اشیاء ، حیات انسانی کے مختلف جذباتی پہلووں، اس کی سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تمدنی زندگی کے مختلف گوشوں سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ افسانہ نگار کو صرف وہی موضوع انتخاب کرنے چاہئیں جو اس کی افتاد طبع کے مطابق ہوں یا جن سے انہیں طبعی لگاو اور ذاتی دلچسپی ہو۔
عنوان
بعض اوقات افسانے کا عنوان ہیرو یا ہیروئن کے نام پر رکھا جاتا ہے۔ افسانے کے انجام کو بھی ایک حسین ترکیب کی صورت میں زیب عنوان بنالیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ افسانے کی سرخی قائم کرتے ہوئے موسم یا وقت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ کبھی پلاٹ کی مناسبت سے کسی شعر کے ایک مصرعے یا مصرعے کے ایک ٹکڑے کو بھی بطور عنوان کے لکھ دیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ افسانے کے مجموعی تاثر کو ذہن میں رکھ کر عنوان قائم کردیا جاتا ہے۔
تمہید
افسانے کے تمہیدی جملوں میں جادو کا اثر ہونا چاہئے تاکہ قاری ان ابتدائی جملوں سے پورے افسانے کے بارے میں ایک گہرا تاثر قبول کرے اور پورا افسانہ پڑھنے کے لئے مضطرب ہوجائے۔ بعض اوقات افسانے کا آغاز کہانی کے کسی آخری یا درمیانی واقعہ سے کیا جاتا ہے۔ اس سے قاری میں تجسس کا جذبہ ابھرتا ہے۔ کسی مؤثر کردار کے تعارف سے بھی افسانے کا آغاز ہوسکتا ہے۔ کسی دلچسپ اور موثر مکالمے کو بھی افسانے کی تمہید بنایا جاسکتا ہے۔ ہر نوع افسانے کی تمہید ایسی موثر، جاندار اور مسحور کن ہونی چاہئے جسے پڑھ کر قاری کی آتش شوق بھڑک اٹھے.
پلاٹ
افسانہ نگار خام مواد کو ترتیب دینے کے لئے واقعات کے ربط و تعلق کے مطابق کہانی کا جو ڈھانچہ تیار کرتا ہے اسے پلاٹ کہتے ہیں۔ افسانے کا پلاٹ ایسے احوال و واقعات اور تجربات سے مرتب کرنا چاہئے جو ہماری زندگی میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ زندگی کے روز مرہ واقعات میں کہانی کا چٹخارا اور جذباتی رنگ بھرنے کے لئے افسانہ نگاروں کو عبارت آرائی اور تصنع سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ ورنہ افسانے اور سپاٹ قسم کی واقعہ نگاری میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
مکالمے
افسانے کے مکالموں کا لب ولہجہ سادہ، فطری، برجستہ اور شگفتہ ہونا چاہئے۔ خوشی، غم، حیرت یا غیظ و غضب کے موقعوں پر لہجے کے آہنگ میں موقع و محل کے مطابق فرق کرنا لازم ہے۔ بچوں کا لہجہ معصوم اور سادہ، مردوں کا لہجہ موقع محل کے اعتبار سے جاندار، پختہ سنجیدہ اور بعض اوقات درشت، مگر تدبر آمیز، عورتوں کا لہجہ عام طور پر نرم و ملائم، اور شفقت آمیز ہونا چاہئے۔ افسانے میں باوقار سنجیدگی کی فضا کو قائم رکھنے کے لئے مکالموں میں تہذیب اور شائستگی کا پہلو نمایاں رکھنا چاہئے۔ کرداروں کا بازاری قسم کے متبذل اور غیر شریفانہ لب و لہجے سے مجتنب رہنا ضروری ہے۔ ایسی ظرافت جو ابتذال کی حدوں سے دور رہے، افسانے کو ناگوار قسم کی سنجیدگی سے محفوظ رکھتی ہے۔
کشمکش (Crisis)
افسانے میں ایک منزل ایسی بھی آتی ہے جب کہانی بعض پیچیدہ مسائل کے گرد گھومتی ہے۔ اس منزل میں افسانہ نگار کو کرداروں کی سیرت کے صحیح خدوخال نمایاں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس پیچیدہ مقام کو افسانے کی اصطلاح میں کشمکش کہتے ہیں۔
نقطہ عروج
کشمکش کی منزل سے گزر کر کہانی کے واقعات نقطئہ عروج (Climax) کی فضا میں پہنچ جاتے ہیں اور قاری اس سوچ میں پڑجاتا ہے کہ نہ جانے اب کیا ہوگا۔ اس موقع پر انجام بالکل غیر یقینی سا ہوتا ہے، اس لئے وہ بڑی بیتابی سے کسی فیصلہ کن موڑ کا منتظر ہوتا ہے۔
اختتامِ افسانہ
افسانے کے اختتام پر کشمکش اور تصادم کی فضا آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے اور افسانہ قاری کے ذہن پر کوئی طربیہ، حزنیہ یا حیران کن اضطرابی کیفیت چھوڑ کر اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ افسانے کا انجام کچھ ایسا فطری انداز میں ہونا چاہئے کہ قارئین کے دل یہ محسوس کریں کہ کہانی کا یہ انجام بڑا مناسب اور برمحل ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور انجام ممکن ہی نہیں تھا۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •