ماں کی خدمت کی قیمت

وسیم سجاد (مظفرگڑھ)

ایک عورت کا خاوند شادی کے دو سال بعد فوت ہو گیا۔ اس کا ایک بچہ تھا جسے اس نے پال کر بڑا افسر بنانے کا عزم کر لیا۔ وہ سلائی کڑھائی جانتی تھی۔ اس نے اپنا اور بچے کا پیٹ پالنے کے لیے گھر پر ہی لوگوں کے کپڑے سینے شروع کر دیے۔ بچہ جب بڑا ہوا تو اسے سکول داخل کروا دیا۔ جب بچہ ہائی سکول چلا گیا تو اخراجات بڑھنے کی وجہ سے اسے زیادہ کام کرنا پڑا۔ رات کو وہ دیر تک لوگوں کے  کپڑے سیتی رہتی۔ آہستہ آہستہ بچہ کالج سے انجینئرنگ یونیورسٹی میں چلا گیا۔ خو ش قسمتی سے جوں ہی اسے انجینئرنگ کی ڈگری ملی اسے ایک بہت مشہور کمپنی میں اعلیٰ ملازمت بھی مل گئی۔ اب ماں کو گھر بسانے کی فکر لگ گئی۔ اس نے دوڑ دھوپ کے بعد ایک اچھا سا رشتہ اپنے بیٹے کے لیے ڈھونڈ لیا۔ بیٹے کی شادی ہو گئی اور دلہن گھر آ گئی۔ چونکہ بیٹا اعلیٰ افسر تھا اس لیے ان سے ملنے ملانے والے بھی امیر کبیر تھے. ایک دن اسی عورت کی بہو نے اپنے شوہر سے کہا کہ اماں سادہ کپڑوں میں ہوتی ہے، اس لیے مجھے ان کا تعارف مہمانوں سے کرانا اچھا نہیں لگتا، مہمان کیا کہیں گے کہ میری ساس ان پڑھ ہے۔ بیٹا کچھ دن خاموش رہا پھر ایک دن اسے بھی احساس ہوا کہ بیوی سچ کہہ رہی ہے چنانچہ ایک دن موقع پا کر اس نے اپنی ماں سے کہا: اماں! میں اب اس قابل ہو چکا ہوں کہ آپ کا ادھار اتار سکوں، آپ ایسا کریں کہ میرے اوپر آپ کا جتنا خرچہ ہوا ہے وہ بتا دیں میں آپ کو ادا کر دوں گا، آپ علیحدہ سکون سے رہیں گی، یہاں ہر وقت شور شرابا ہوتا ہے، آپ کا سکون برباد ہوتا ہے۔ ماں تھو ڑی دیر تک بیٹے کا منہ تکتی رہی اور پھر کہا کہ حساب لگانے میں کچھ وقت لگے گا۔ بیٹے نے جواب دیا کوئی بات نہیں مجھے بھی کوئی جلدی نہیں۔ آپ دو چار دنوں میں حساب لگا کر بتا دیں میں ادائیگی کر دوں گا۔ ایک دن بعد رات کو ماں نے ایک لوٹا پانی کا بھرا اور بیٹے کے کمرے میں گئی، وہ سو رہا تھا۔ اس نے بیٹے کے بستر پر پانی ڈال دیا۔ بیٹا دوسری طرف خشک جگہ پر کروٹ بدل کر سو گیا۔ ماں نے وہاں بھی پانی ڈال دیا۔ بیٹا غصے میں اٹھ بیٹھا اور کہنے لگا کہ یہ کیا کر رہی ہو اماں! میرا سارا بستر گیلا کر دیا ہے۔ ماں نے جواب دیا کہ بیٹا! یہ ابھی پہلی رات کی بے آرامی ہے۔ میں نے تمہارے لیے کئی برس اسی طرح گزارے تھے۔ جب تو بستر گیلا کرتا تو میں تمہیں سوکھی جگہ لٹا دیتی اور خود گیلی جگہ پر لیٹ جاتی تھی۔ تُو تو ایک رات میں بلبلا اٹھا۔ بیٹا بہت شرمندہ ہوا اور ماں سے معافی مانگ لی۔ سچ ہے کہ ماں کی خدمت کی قیمت کبھی بھی ادا نہیں ہو سکتی۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
173
10