سکولوں میں طلباءوطالبات کی تربیت کے لیے ضروری اقدامات

جدید ترقی کے دور میں نئی نسل کے لیے معیاری اور بامقصد تعلیم و تربیت کا حصول نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے ۔نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر مامور اساتذہ کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔استاد اور شاگرد کے درمیان عزت و احترام کے وہ اصول اپنانا ہوں گے جس کی ہمیں دین اسلام درس دیتا ہے .تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور اقتدار کا خیال رکھ سکے۔ تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوارتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ہے۔ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے ۔
میں گورنمنٹ سکول میں بحثیت استاد اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہا ہوں ۔ میں نے پہلا قدم بحثیت استاد گورنمنٹ سکول میں رکھا ، سکول میں بہت سی اچھی چیزیں دیکھی، سیکھیں مگر کچھ کمی بھی پائی جو کہ درج ذیل ہیں۔
طلبا ء میں نظم وضبط کی کمی
طلباء میں عزت و اکرام کی کمی
طلبا ء کا بات کرنے کا انداز، لب ولہجہ
طلبا ء کا آپس میں باہمی میل جول
طلباء میں اردو زبان کا فقدان
ضروری اسلامی تعلیمات کا نہ ہونا
یہ کچھ چیزیں ہیں جو میں نے دیکھی ہیں جن کی طلباء کو بہت ضرورت ہے۔ سکولوں کا اور تعلیم کا ماحول بہت اچھا ہے۔اساتذہ اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہیں ۔ گورنمنٹ بہت اچھے اقدامات کر رہی ہے۔
ساری باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء کی بہترین تربیت اور شخصیت کے لیے درج بالا نکات کاسدباب ہو نا ضروری ہے جیسے اب ہفتہ وار ایک پیریڈ شجرکاری کے حوالے سے مختص کیا گیا ہے اسی طرح روزانہ کی بنیاد پر ایک پیریڈ مختص کرنا چاہیے جس میں بچوں کی بہترین تربیت، اصلاح،لب ولہجہ، باہمی میل جول اور ضروری اسلامی تعلیمات اور دیگر اصلاحات کی کمی کو پورا کیا جائے۔ ہمارا مقصد بچوں کو بہترین تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت اور شخصیت مزین کرنا ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے طلبا و طا لبات کی بہترین خطوط پر تعلیم و تر بیت کر نی ہے تاکہ وہ پا کستان کا پوری دنیامیں نام روشن کر سکیں اور ملک کی ترقی میں اہم کر دا ر ادا کر یں۔ اللہ ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں بہترین طریقے سے سرانجام دینے کی توفیق دے۔ آمین۔
شکوہ ظلمت سے توکہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •