سعدی شیرازی 1210ء میں ایران کے شہر شیراز میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کی وفات آپ کے بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ اپنی جوانی میں سعدی نے غربت اور سخت مشکلات کا سامنا کیا۔ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے سعدی بغداد تشریف لے گئے۔ مدرسہ النظامیہ میں داخل ہوئے۔ جہاں سے آپ نے قانون،سائنس،تاریخ،حکومت،اورعربی ادب میں تعلیم حاصل کی۔ سعدی نے فارغ التحصیل ہونے کے بعد متعدد ممالک کی سیاحت کی۔ آپ نے شام، مصر،انتولیا اورعراق کا سفر کیا۔ جہاں آپ نے علماء اور فنونِ لطیفہ کے ماہرین سے ملاقات کی۔ آخر کار وہ جہادی صوفیاء کے ایک گروہ میں شامل ہو گئے۔ یہ گروہ صلیبی جنگجو کا گروہ تھا اس گروہ کے ساتھ مل کر سعدی نے جنگیں بھی لڑیں اور جنگی قیدی بنے۔ اور سات سال جنگی قیدی کے طور پر زندگی گزارتے رہے۔ ایک غلام کی حیثیت سے وہ خندقیں کھودنے کے کام سر انجام دیتے رہے۔ مملوکوں نے تاوان ادا کیا توان کو قید سے رہائی ملی۔ اس کے بعد شیرازی یروشلم چلے گئے۔ وہاں سے طویل مسافت طے کر کے مکہ مدینہ کا رخ کیا اور آخر کار بیس سال کے بعد اپنے آبائی وطن ایران پہنچے، جہاں انہیں پرانے رفقاء سے ملاقات میسر ہوئی۔
ان میں ان کی ملاقات ایک ترک امیر طغرل سے ہوئی، جن سے بہت جلد گہری دوستی ہو گئی۔ وہ سعدی شیرازی کو ساتھ لیے سندھ گیا، جہاں انہیں پیر پتر سے ملنے کا موقع ملا، جو ایرانی صوفی شیخ عثمان مروندی کے پیروکار تھے۔ اس سفر میں وہ برصغیر بھی آئے اور وسطی ایشیا کے ممالک کی بھی سیر کی، جہاں وہ منگول حملوں سے بچے رہنے والے مسلمانوں سےملے۔ طغرل نے بعد میں سلطنت دہلی کی ملازمت اختیار کی اور سعدی شیرازی کو بھی یہاں آنے کی دعوت دی جس پر سعدی نے لبیک کہا اور ہندوستان تشریف لائے۔

تصانیف۔
سعدی کی تصانیف میں گلستان اور بوستان نے بہت شہرت حاصل کی۔ گلستان نثر کی صورت میں ہے جبکہ بوستان نظم کی صورت میں لکھی۔ ابن آدم کی وجہ سے سعدی شیرازی کو اقوال زریں کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی۔جن میں سب سے زیادہ مشہور بنی آدم ہے جو گلستاں کا حصہ ہے۔
بنی آدم اعضای یک پیکرند
کہ در آفرینش ز یک گوهرن
چو عضوى بہ درد آورَد روزگار
دگر عضوها را نمانَد قرار
تو کز محنت دیگران بی‌غمی
نشاید کہ نامت نهند آدمی
آپ کا انتقال سو برس کی عمر میں ایران کے شہر شیراز میں ہوا۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •