غصہ عقل کو کھا جاتا ہے

محمد احسن (مڈوالہ)

پرانے وقتوں کی بات ہے کہ کسی جنگل میں ایک شیر رہا کرتا تھا۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی جانور کو اپنا شکار بناتا۔ جس کی وجہ سے ہر جانور خوف زدہ تھا کہ خدا جانے کب باری آ جائے۔ ایک دن جنگل کے جانوروں نے مل کر فیصلہ کیا کہ جنگل کے بادشاہ شیر کو ایک جانور شکار کے لئے پیش کیا جائے تا کہ وہ بھی کھا پی کے سو جائے اور ہم بھی سکون سے چر پھر سکیں۔ لہذا جنگل کے جانوروں نے شیر کے ساتھ معاہدہ کیا۔ شیر نے کہا میں وعدہ کا پکا ہوں۔ وعدہ خلافی نہیں کرنے دوں گا۔ سب جانوروں نے تسلیم کیا کہ ٹھیک ہے۔ جانوروں میں سب سے پہلی قربانی ہرن نے پیش کی، پھر باری باری سب پیش ہوتے رہے اور شیر گھر بیٹھے شکار کرتا رہا۔ جب خرگوش کی باری آئی تو خرگوش بڑا ہوشیار اور چالاک بنا۔ اس نے دل میں سوچا کیوں نہ شیر سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ خرگوش نے شیر کے پاس جانے کے لئے جان بوجھ کر دیر کی جس کی وجہ سے شیر سخت غصے میں آ گیا۔ جب خرگوش شیر کے پاس گیا تو شیر  نے غصے سے پوچھا کہ دیر سے کیوں آئے ہو؟ مجھے تو سخت بھوک لگی ہے۔ خرگوش نے فوراً جواب دیا کہ جنگل کے بادشاہ! میں ایک معمولی جانور ہوں، میں نے ایک اور خرگوش کو ساتھ لیا، ہم دونوں آپ کے پاس آ رہے تھے کہ راستے میں ایک اور شیر مل گیا۔ اس نے ہم سے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ ہم نے کہا ہم اپنے بادشاہ کے پاس جا رہے ہیں۔ اس نے کہا میرے علاوہ اور کون بادشاہ ہے، بادشاہ تو میں ہی ہوں۔ اس نے میرے ساتھی کو پکڑ کر شکار کیا اور میں بھاگ کر آپ کے پاس آ گیا ہوں۔ شیر یہ سنتے ہی مزید غصے میں آ گیا۔ اس  نے کہا کہ چل میرے ساتھ میں دیکھتا ہوں۔ میرے علاوہ جنگل کا بادشاہ کون ہو سکتا ہے۔ خرگوش اسے ایک کنویں پر لے گیا۔ جس کا پانی صاف شفاف تھا اس میں شیر نے جھانک کر دیکھا تو اسے اپنا عکس نظر آیا۔ اس نے سمجھا شاید بات ٹھیک ہے۔ اپنے عکس کے ساتھ اسے خرگوش بھی نظر آیا تو فوراً اس نے کنویں میں چھلانگ لگائی اور ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی کا قصہ تمام کر دیا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
168
9