ربیع الاول کی اہمیت و برکت

اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ابتدا میں اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت ربیع یعنی بہار کا آغاز تھا۔ یہ مہینہ اس لیے افضل ہے کہ اس میں حضرت محمدﷺ اس دنیا میں تشریف لائے ربیع الاول کی مبارک ساعتیں ہمیں سیرت نبی پر عمل پیرا ہونے کا پیغام دیتی ہیں برقی قمقوں سے دیواریں روشن کرنے والوں کو آفتاب فاران کی کرنوں سے دل کی بستی کو اجالنے کا اہتمام بھی کرنا چاہیے گلی کوچوں کو آراستہ کرنا بجا لیکن فکرو عمل کی دنیا کی آرائش اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے جب تک ہر مسلم گھرانے کا چولہا روشن نہیں ہوتا درودیوار کی جگمگاہٹوں سے غریبوں کا والی یتیموں کا مولئ لا وارثوں کا آقا اور بے کسوں کا ملجا اور ماوئ کیونکر خوش ہو سکتا ہے جب تک نعت خوانوں کی ریشمی قبا ؤں میں لپٹی ہوئ توندو مزید فربہ کرنے کے لیے قطار اندر قطار دیگیں لگانا نمود و نمایش ہی کہلاۓ گا نوٹوں کی بارش میں درودو سوز سے خالی تن ترنم کے مظا ہرے کو کسی صورت عشق رسول سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا اگر آسمان کی ہر کہکشاں ،کہکشا ں کے ہر ستارے،ستارے کی ہر لو،سمندر کی ہر موج ،دریا کی لہرلہر ،طوفان کے ہر دھارے ،بادل کے ہر ٹکڑے،با رش کے ہر قطرےجنگل کے ہر شجر ،شجر کی ہر ٹہنی،ٹہنی ہر پتے،پتے کے ہر ریشے ،پھولوں کی ہر پنکھڑی،صحرا کے ہر زرے اور ہوا کے ہر جھونکے کے منہ میں زبان رکھ کر اسے مدحت آقاۓ کا ئنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مامور کر دیا جائے اور وہ صبح ازل سے شام ابد تک یہ فریضہ ادا کرتے رہیں تو بھی آپ کی حیات پاک کے کسی پہلو کا اجمالی سا احاطہ کرنے سے بھی قاصر رہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مدحت رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ساتھ آقاۓ دو جہاں کی سیرت کو عملی طور پر بھی اپنایا جائے، عشق رسول ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن میں بھی بسا لیا جائے…

وہ مخزن کائنات، رسولوں کے سردار، رب کی رحمت، سب کا ملجأ و ماوا، فخر موجودات ان کی اتباع ہم سب پہ لازم اللہ پاک سے دعا ہے کہ اس پیارے مہینے کے صدقے ہم سب کو سچا اور اخلاص والا عشق رسول عطا فرما دے آمین

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •