پرندے چوہے اور چمگادڑ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بہت بڑا پیپل کا ایک درخت تھا اس کی چھاؤں بہت گھنی تھی گرمیوں کی تپتیی دوپہر میں سارے چوپائے اس درخت کے نیچے آ بیٹھتے تھے کچھ سو جاتے اور کچھ آرام سے بیٹھے جگالی کرتے رہتے ان کے بچے ان کے آس پاس کھیلتے رہتے یا پاس ہی گزرنے والی ایک ندی میں نہاتے رہتے
اوپر درخت پر پرندوں کے جھنڈ بیٹھے رہتے مجھے وہ مل کر گانا گاتے کبھی اڑ کر ندی کے اوپر کا چکر لگاتے اور پھر درخت کی ٹہنیوں میں چھپ جاتے ایک دن بہت سے کوے درخت پر بیٹھے تھے وہ بار بار بیٹ کرتے تو اور یہ درخت کے نیچے جو گالی کرتے جنگلی بھینسوں کے اوپر آ گرتی جنگلی بھینسوں کے بار بار منع کرنے کے باوجود کوؤں نے بیٹ کرنا بند نہ کی تو بھینسوں کو بہت غصہ آیا انہوں نے کوؤں سے خوب لڑائی کی دوسرے چوپائے بھی کوؤں اور دیگر پرندوں کے بیٹوں سے تنگ تھے انہوں نے بھینسوں کا ساتھ دیا لڑائی اس قدر بڑھ گئی ہے چوپائے ایک طرف اور پرندے دوسری جانب ہو گئے پرندے غول کے غول چوپایوں پر حملہ کرتے ان کے سروں پر چونچ مارتے اور پھر وہ ہوا میں اڑ جاتے تھے چوپایوں نے ان جانوروں کو اپنی لڑائی میں آگے رکھا تو درختوں پر چڑھ سکتے تھے یہ جانور رات میں درخت پر بنے پرندوں کے گھونسلے پر حملہ کرتے ہیں اور ان کے انڈے اور بچے کھا جاتے اور گھونسلوں کو نیچے گرا دیتے دونوں طرف سے اچھے اچھے جانوروں نے صلح کی کوشش کی مگر لڑائی جاری رہی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ لڑائی کون جیتے گا اس صورتحال میں چمگادر نے کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا وہ کہنے لگی میں چوپایہ ہوں اور نہ پرندہ میں لڑائی میں کسی کا ساتھ نہیں دوں گی کچھ دنوں کے بعد چوپایوں کے حملوں میں اضافہ ہوگیا بلیوں اور چیتوں نے رات کو پرندوں کے گھونسلوں پر بڑے زور دار حملے کیے سب کو لگا کے چوپایوں کی فتح ہونے والی ہے چمگادڑ کو جب چوپایوں کی فتح کا پتہ چلا تو وہ کہنے لگی میں اپنے جسم میں چوپائے جیسی ہو اگرچہ میری ٹانگیں دو ہی ہیں میں چوپائوں کی طرف سے لڑائی میں شامل ہو گئی کچھ دنوں میں لڑائی کا سن کر دور دراز کے علاقوں سے دور دراز کے علاقوں سے باہر عقاب اور شکرے پرندوں کی طرف سے لڑائی میں شامل ہوگئے انہوں نے چیتوں اور بلیوں کی آنکھیں نکال دیں دوسرے چوپائے ان کے ڈر سے کانپنے لگے ان کے پرندوں پر حملہ نہ ہو نے کے برابر رہ گئے سب پرندے خوش تھے کہ وہ بہت جلد لڑائ جیت جائیں گے چمگادڑ کو جب پرندوں کے جیت کا اندازہ ہوا تو وہ پرندوں کے پاس آئی اور کہنے لگی میرے پر دیکھو میں اصل میں تو پرندہ ہی ہوں یہ بات بڑے یقین سے کہہ سکتی ہو کچھ بھی ہو میں پرندوں کی طرف سے لڑائی میں شامل ہونے کا اعلان کرتی ہوں آخرکار فاختہ اور اور برینو کی کوشش سے لڑائی ختم ہوگئی اور پرندوں اور چوپایوں نے اس بات کو سمجھا کہ لڑائی سے سوائے ایک دوسرے کے نقصان کے کچھ نہیں ہونے والا ندی کے اس طرف ایک بڑے درخت پر پرندوں نے بیٹھنا شروع کر دیا اب جنگل میں سکون ہوگیا سب جانور خوش رہنے لگے صلح کے بعد سب جانور اور پرندے سب چمگادڑ سے نفرت کرنے لگے اسے بیٹھنے سے منع کرنے لگے یہی وجہ ہے کہ اب چمگادڑ رات کو باہر نکلتی ہے جب پرندے اور جو پائے سو جاتے ہیں

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •