جنگل میں ایک بوڑھے درخت

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک جنگل میں ایک بوڑھے درخت کے ساتھ دو چھوٹے درخت بھی رھتے تھے۔ایک روز بوڑھا درخت بیمار ھوگیا۔ایک چھوٹے درخت نے دوسرے سے کہا ”بوڑھے دادا کو دوا دے دو”۔دوسرے درخت نے اسکی بات نہ مانی اور دوا دینے سے انکار کر دیا۔ جس پر پھلا چھوٹا درخت بیزاری سے خود ہی دوا دینے لگا کہ اسکے ذھن میں ایک شیطانی خیال ابھرا ”کیوں نہ بوڑھے کو غلط دوا دے کر ایک ہی دفعہ اس روز روز کی مصیبت سے جان چھڑوالی جاۓ”۔اس نے بوڑھے درخت کو غلط دوا دے دی جس سے اس بیچارے کی حالت اور بھی بگڑنے لگی۔ تبھی دوسرے چھوٹے درخت کو احساس ھوااور وہ پہلے چھوٹے درخت سے جھگڑنے لگا۔ مگر اب کوئ تدبیر کارگر نہ ہو سکتی تھی۔بوڑھے درخت نے دونوں کو جھگڑتے دیکھا تو بولا ”چھوڑو یہ سب باتیں میرا آخری وقت آن پہنچا ہے۔ میرے پاس تمھا رے لیے کچھ لے” یہ کھ کے بوڑھے درخت نے ان دونوں کو اپنی جڑوں میں دبے ایک صندوق کا بتایا او کہا”اس میں ھیرے چھپے ہوۓ ھیں ۔اگر تمھیں کوئ خریدنے آۓ تواسے ایک ھیرا دے کر کہنا اسکے بدلے مجھے چار ھیرے لا دو تب مجھے خریدنا” اتنا کھ کر بوڑھا درخت گر پڑا۔

انھوں نے صندوق میں خوبصورت ھیرے دیکھے اور اسے بند کر کے وھیں رھنے دیا۔کچھ روز بعد وھاں ایک آدمی آیا۔ جو ایک درخت کو خریدنا چاھتاتھا۔لیکن چھوٹے درخت نے نصیحت پر عمل کیا اور اسے کہا یہ ھیرا لے جاؤ اور اسکے بدلے مجھے چار لا دو۔تو مجھے خرید لینا۔وہ آدمی ھیرا لے کر چلا گیا۔کئ سال گزر گۓ لیکن وھ آدمی نہ لوٹا۔پھر ایک اور آدمی درختوں کو خریدنے آیا۔مگر دونوں درختوں نے اسے بھی وہی پیشکش کی اور وھ بھی ایک ھیرا لے کر چلا گیا۔ یونہی کچھ سال اور گزر گۓ۔اس پر پہلا چھوٹا درخت خفا ھونے لگا کہ یونہی ہم نے بوڑھے کی باتوں میں آ کر دو ھیرے گنوا لیے اب ھمیں تو کوئ خطرہ ہی نھیں۔میں اب اپنے حصے کا ھیرا کسی کو نہ دونگا۔ دوسرا چھوٹا درخت نہ مانا کہ میں تو نصیحت پر عمل کرونگا۔پھلے ھی تمھاری وجہ سے بوڑھے دادا کی جان گئ۔

کچھ روز ہی گزرے تھے کہ ایک آدمی درخت کاٹنے کیلیے آیا۔ایک چھوٹا درخت جو اب بہت بڑا تناور درخت بن چکا تھا۔اس نے بوڑھے کی نصیحت پر عمل کرتے ھوۓ ھیرا دے کر خود کو چھوڑ دینے کو کہا۔آدمی نے اسکی بات مان لی اور اب وھ دوسرے درخت کے پاس آیا۔ درخت جو کہ اپنے بہت بڑے پھیلؤ سے غرور میں آچکاتھا اور بوڑھے کی نصیحت پر عمل کر ھیرا بھی نہ گنوانا چا ھتا تھا،خاموش رھا۔ آدمی نے مذدور بلواۓ ۔اور درخت کاٹنے کو کہا۔ مذدوروں نے کچھ ہی دیر میں بجلی سے چلنے والے آرے سے درخت کو کاٹ گرایا۔ درخت چلاتا رھا مگر پھر کسی نے اسکی ایک نہ سنی۔اور اسے کاٹ کر شھر بھیج دیا گیا۔یوں اس نے اپنے غرور، لالچ اور سالوں پھلے بوڑھے درخت سے کیے گۓ ظلم کا بدلہ پا لیا۔ جب کہ دوسرے درخت نے اپنی فرمانبرداری سے لمبی عمر پائ۔نتیجہ:جیسا کرو گے ویسا بھرو گے

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •