محمد عون، لیہ

ایک جنگل میں بہت سارے جانور رہا کرتے تھے ۔شیر جنگل کا بادشاہ تھا۔اس کا ایک بیٹا تھا جس کا نام تھا ٹوٹو ۔وہ بہت بہادراور سمجھدار تھا۔جنگل میں ایک بہت خوبصورت تالاب تھا لیکن اس تالاب میں مگرمچھ رہا کرتے تھے ۔اس تالاب میں مگر مچھ اپنی مرضی چلاتے اور کسی کو تالاب سے پانی نہیں پینے دیتے تھے ۔مگرمچھ کہتے تھے کہ پہلے ہمارے کھانے کو پھل وغیرہ لاؤ اور پھرپانی پیو۔بے چارے جانورجنگل سے پھل جمع کرتے اور مگرمچھوں کو لا کر دیتے پھرمگرمچھ ان کو پانی پینےدیتے۔سب جانور مگرمچھوں سے تنگ تھے لہٰذا سب نے مل کر سوچا کہ ہمیں جنگل کے بادشاہ شیر کو یہ بات بتانی چاہیے۔جانوروں نے کہا ابھی چلتے ہیں۔اسی وقت چالاک لومڑی بول پڑی۔اگر شیر بادشاہ اس معاملے میں پیچھے ہٹا تو اس کو جنگل کا بادشاہ قرارنہیں دیا جائے گا۔
لومڑی نے سارے جانوروں کوشیر کے خلاف بھڑکا دیا۔سب جانورمل کرجنگل کے بادشا ہ شیر کے پاس گئے اورسارا معاملہ بتایا اوریہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ان مگرمچھوں سے نجات دلائیں ورنہ آپ یہ جنگل چھوڑ کرجاسکتے ہیں۔ یہ کہہ کرسب جانوروہاں سے چلے گئے۔یہ ساراماجرا شیرکا بیٹا ٹوٹو سن رہا تھا۔جنگل کا بادشاہ شیرساری رات پریشان رہا۔ٹوٹو یہ سب دیکھ رہا تھا۔اس نے جنگل کے سارے جانوروں کو بلوایا اور ان سے کہا۔اس جنگل کے بادشاہ شیرتو بہت اچھے ہیں ، آپ لوگوں کا اتناخیال رکھتے ہیں اور آپ ہیں کہ مشکل وقت میں ان کا ساتھ چھوڑرہے ہیں۔چالاک لومڑی نے کہااس چھوٹے سے بچے کو کیا پتہ ان باتوں کے بارے میں، لیکن ٹوٹو کی یہ بات جانوروں کے دلوں میں جڑ پکڑ گئی اور ان سب جانوروں نے بادشاہ شیر کے پاس جاکر اپنے رویے کی معافی مانگی اور کہا کہ ”ہم سب مل کر مگر مچھوں کا مقابلہ کریں گے“۔سب سوچ رہے تھے کہ مگر مچھوں کا مقابلہ کس طرح کیا جائے ۔اتنے میں ٹوٹو بول پڑا کہ مگرمچھوں کوکھانے کا بہت شوق ہوتا ہےاوران کا سب سے پسندیدہ کھانا خرگوش ہے۔اب تو شامت خرگوش کی تھی ۔اتنے میں ہاتھی بول پڑا”ہم خرگوش کو مارتونہیں سکتے۔ ٹوٹو نے کہا ”نہیں ! ہم اسے ماریں گےتونہیں ہاں اس کو استعمال ضرور کریں گے۔“سارے جانور ٹوٹو کی شکل دیکھ رہے تھے کہ اس چھوٹے سے بچے کواتنی عقلمندی والی بات کیسے سوجھی۔خرگوش کو سب نے حوصلہ دیا اور کہا کہ تمہاری مدد سے سب جانور آرام سے زندگی بسر کرسکیں گے ۔سب کی حوصلہ افزائی پرخرگوش راضی ہو گیا۔سب نےایک بہت بڑا گڑھا کھودا اور اس کے اوپر پتے ڈال دیے تا کہ مگرمچھوں کو پتہ نہ چلے کہ ہم نے ان کے لیے جال بچھایا ہے ۔اب کام شروع ہوا۔خرگوش مگرمچھوں سے بغیر پوچھے پانی پینے لگا۔مگر مچھوں نے جب دیکھا تو انہیں بہت غصہ آیا اوران میں سے ایک نے کہا۔اس کی سزا یہ ہے کہ اسے کھاجائیں ۔دوسرے مگرمچھوں نے یہ سنا توا ن کے منہ میں پانی بھر آیا۔خرگوش نے مگر مچھوں کواپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ لیا۔خرگوش وہاں سے ہلکے ہلکے بھاگنے لگا۔مگرمچھ بھی لالچ میں اس کے پیچھے بھاگنے لگے۔مگرمچھ خرگوش کا پیچھا کرتے کرتے وہاں تک پہنچ گئے جہاں جال بچھا ہوا تھا۔خرگوش جال کے اوپر سے چھلانگ مار کر دوسری طرف گر پڑا اور سارے مگر مچھ گڑھے میں گر پڑے ۔اس طرح سارے مگر مچھوں کو ان کے کیے کی سزا مل گئی اور خرگوش نے سکون کا سانس لیا پھر سب نے ٹوٹو اور خرگوش کا شکریہ ادا کیا اور جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک بہت بڑی دعوت رکھی ۔اس طرح سارے جانور ایک بار پھر پہلے کی طرح ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •