غریب سے بدسلوکی کا انجام

شانزا کنول (لیہ)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک فقیر ہاتھ میں کشکول لیے سٹرک کےکنارے بیٹھا بھیک مانگ رہا تھا۔ اس کی دونوں ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں۔ جس کی وجہ سے وہ کوئی بھی مزدوری کا کام نہیں کر سکتا تھا۔ وہاں سے ایک دولت مند آدمی کا گزر ہوا۔ فقیر نے اس سے بھیک مانگنے کے لیےکشکول آگے کیا تو اس نے غریب کے کشکول کو اس قدر زور سے دھتکارا کہ کشکول نیچے گر گیا۔ اس کے بعد اس نے اس فقیر کو برا بھلا کہا اور چل دیا۔ اس واقعہ کے چند دن بعد ایک دن اس دولت مند آدمی کے گھر کو چاروں طرف سے ڈاکوؤں نے گھیر لیا۔ ڈاکوؤں نے اسے اپنی جگہ پر رہنے کو کہا لیکن وہ اپنا مال بچانے کے لیے ان کے ساتھ دست درازی کرنے لگا اور ڈاکووُں کے لاکھ کہنے کے باوجود جب وہ نہ مانا تو اس پر ایک ڈاکو کو غصہ آیا اور اس نے اس کی دونوں ٹانگوں پر گولیاں چلا دیں جس سے اس کی دونوں ٹانگیں بے کار ہو گئیں۔ اس طرح اب وہ بھی غریب اور دوسروں کا محتا ج ہو گیا۔ سچ ہے کہ غریب کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ برا ہوتا ہے۔     

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
45
5