انتخاب: سعد رحمان (خانیوال)

میری عمر لگ بھگ آٹھ نو برس کی ہو گی جب میں پہلے دن سکول گیا۔ اس سے قبل پہلے تین درجوں کی کتابیں میں گھر پر ہی پڑھ چکا تھا اور اس دن پہلے درجے میں نہیں، چوتھے درجے میں داخلے کے لیے تیاری تھی۔ شاید اسی سبب گھر کے سب لوگ مجھے سکول بھجوانے کے لیے ضرورت سے زیادہ اہتمام کر رہے تھے۔ اسکول ہمارے گھر سے ذرا فاصلے پر تھا۔ اس لیے اصطبل سے دو گھوڑوں والی فٹن نکلوائی گئی۔ یہ فٹن ہمارے ابا سال میں صرف دو بار عید گاہ جانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پھر میری بڑی بہنوں نے لاڈ میں آ کر مجھے بہت ہی بھڑکیلے اور پُرتکلف کپڑے پہنائے جو عام طور پر شادی اور بیاہ کے مواقع پر پہنائے جاتے تھے۔ سرخ مخمل کا کوٹ، سفید پاجامہ، پیازی رنگ کے موزے اور سفید جوتے۔ یہ سب کچھ مجھے آج بھی اس لیے یاد ہے کہ اس دن جو کچھ بھی اسکول میں میرے ساتھ گزری، اس میں زیادہ تر ہاتھ اسی لباس کا تھا۔ خیر اس براتیوں کی سی وضع قطع میں ہم گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ایک ملازم ہماری کتابیں اُٹھائے ساتھ ہوا اور ہماری سواری اسلامیہ پرائمری سکول کی کہنہ سال ایک منزلہ عمارت کے سامنے رُکی۔ جیسے ہی ہم اپنی فٹن سے نیچے اُترے تو کچھ لڑکے جو اسکول کے باہر اِدھر اُدھر گھوم پھر رہے تھے، ہمیں دیکھتے ہی زور زور سے غل مچاتے ہوئے اسکول کے اندر کی طرف بھاگے۔ لڑکوں کا شور سن کر ایک دو ماسٹر صاحبان ہڑبڑاکر باہر نکل آئے۔ یہاں پہلے ہی مارے خوف کے کلیجہ دھک دھک کر رہا تھا، اس شور اور ہنگامے کی وجہ سے اُوسان اور بھی خطا ہو گئے۔ ملازم کے پیچھے پیچھے بہت آہستہ اور مری ہوئی چال میں جب ہم نے اسکول کے اندر قدم رکھا تو ہر طرف سے بے شمار آنکھیں یوں گھورتی ہوئی نظر آئیں، جیسے کوئی چڑیا گھر کا جانور سکول میں آ گھسا ہو۔ تھوڑی دیر کے بعد چوتھے درجے کے ماسٹر صاحب مجھے کمرے میں ساتھ لے گئے اور کہا: جہاں جی چاہے بیٹھ جاوٴ۔ ہمارا شہر بھی غریب تھا اور یہ سکول بھی غریب، پڑھنے والے بھی غریب اور پڑھانے والے بھی غریب تھے۔ کمرے میں مٹی کے فرش پر کٹا پھٹا سا ٹاٹ بچھا ہوا تھا اور اس پر ویسے ہی کٹے پھٹے کپڑوں والے بہت سے لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں وہاں گیا تو میرا جی چاہا کہ کوئی جن یا پری آئے اور چپکے سے میرے سب کپڑے لے جائے اور مجھے اپنے ساتھیوں کا سا پھٹا پرانا کرتا اور پاجامہ لا دے۔ وہ سارا دن میں لڑکوں کے مختلف فقرے اور پھبتیاں سنتا رہا اور میرے ہم جماعت لڑکوں کی آنکھوں سے سارا دن طنز اور حقارت برستی رہی۔ جب مجھے محسوس ہوا کہ زرق برق لباس اور ظاہری ٹھاٹھ باٹھ سے اپنے یا اپنے گھر والوں کے مال اور دولت کی نمائش کرنا بہت ہی گھٹیا اور مہمل بات ہے تو تب سے ہی مجھے ان چیزوں سے نفرت ہو گئی۔ مجھے یہ بھی احساس ہوا کہ آدمی سکون سے تب رہ سکتا ہے، جب اپنے ساتھیوں، ہم جولیوں اور ہم وطنوں سے مل جل کر اور ان جیسا بن کر رہے۔ دوسروں سے الگ اور بڑھیا نظر آنے کا چاوٴ ناپسندیدہ اور تکلیف دہ بات ہے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
110
3