اب ہے مرا زمانہ

ہربات ہے نرالی

گھر تو بھرا پڑا ہے

پر زندگی ہے خالی 

اک بھاگ دوڑ ہردم

جیون کا حال ایسا

اپنی خبر نہیں ہے

مایا کا جال ایسا

پیسہ ہے،مرتبہ

جاہ و وقار بھی ہے

نوکر ہیں اور چاکر

بنگلہ ہے،کار بھی ہے

زر پاس ہے،زمیں ہے

لیکن سکوں نہیں

ابا کا وقت آیا

تعلیم گھر میں میں آئی

تعلیم ساتھ اپنے

اک انقلاب لائی

اونچا،روایتوں سے

اٹھنے کا دھیان آیا

مٹی کا گھر ہٹا تو

پکا مکان آیا

دفتر کی نوکری تھی

تنخواہ کا تھا سہارا

مالک پہ تھا بھروسا

ہوجاتا تھا گزارا

پیسہ اگرچہ کم تھا

پھر بھی نہ کوئی غم تھا

دادا حیات تھے جب

مِٹی کا ایک گھر تھا

چوروں کا کئی کھٹکا

نا ڈاکوؤں کا ڈر تھا

کھاتے تھے روکھی سوکھی

سوتے تھے نیند گہری

شامیں بھری بھری تھیں

آباد تھی دوپہری

سنتوش تھا دلوں کو

ماتھوں پہ بل نہیں تھا

دل میں کپٹ نہیں تھی

آنکھوں میں چھل نہیں تھا

تھے لوگ بھولے بھالے

لیکن تھے پیار والے

ظفر گورکھ پوری

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •