اپنے حصے کی شمع جلائیے

تحریر: وجہیہ یاسمین (لودھراں)

فاطمہ نے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اس کے دو بھائی  اور ایک بڑی بہن تھی۔ اس کے  دونوں بھائیوں کو اس کی امی صبح سویرے صاف ستھرا یونیفارم پہنا کر تیار کرتی۔ اپنے ہاتھوں سے گرما گرم ناشتہ کرواتی۔ ان کے بستے میں ٹفن ڈالتی اور وہ دونوں بھائی بستہ بغل میں ڈال کر روتے منہ بسورتے سکول کی طرف روانہ ہوتے کیونکہ وہ سکول نہیں جانا چاہتے تھے اور انہیں زبردستی سکول بھیجا جاتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف فاطمہ حسرت بھری نگاہوں سے انہیں سکول جاتا دیکھتی رہتی۔ فاطمہ کی عمر سات سال ہو چکی تھی مگر اب تک اسے سکول نہیں بھیجا گیا تھا۔ وہ تو کیا اس کی بڑی آپا بھی کبھی سکول نہ گئی تھی کیونکہ ابا جی کو لگتا تھا کہ لڑکیوں نے کون سا نوکری کرنی ہے جو پڑھیں۔ بہتر ہے گھر کا کام کاج سیکھیں جو ان کے کام بھی آ سکے۔  فاطمہ چوری چھپے اپنے سے ایک سال بڑے بھائی اسد کی کتابیں اٹھا لیتی اور رنگین تصاویر دیکھ دیکھ کر خوش ہو لیتی۔ مگر  ابا جی اگر اس کے ہاتھ میں کتاب دیکھ لیتے تو جھاڑ دیا کرتے تھے اور وہ روتی ہوئی گھر کے کسی کونے میں جا دبکتی۔

اس کی پڑھائی کے شوق کو دیکھتے ہوئے اس کی امی  نے ابا جی سے چھپ کر اسے قریبی سرکاری سکول میں داخل کروا دیا۔ فاطمہ ابا جی کے کام پر جانے کے بعد سکول جاتی اور استانی صاحبہ سے سبق لے لیتی۔ استانی صاحبہ نے جب فاطمہ کی پڑھائی میں لگن دیکھی تو اس پر زیادہ توجہ دینے لگیں۔ کافی عرصہ یہ سلسلہ جاری رہا مگر ایک دن ابا جی نے فاطمہ کو سکول جاتے دیکھ لیا۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر لے گئے اور اسے  ایک کمرے میں بند کر دیا اور ماں جی کو بھی سخت صلواتیں سنائیں۔

سکول کی استانی جی نے جب دیکھا کہ فاطمہ چند دنوں سے سکول نہیں آ رہی تو انہوں نے اس کے گھر سے پتا کروایا۔ حقیقت کا پتہ چلنے پر کہ اب فاطمہ کبھی سکول نہ آ سکے گی،  انھوں نے اپنے سٹاف سے مشورہ کیا اور محلے کے ایک با اثر بزرگ کو بلایا جو بچیوں کی پڑھائی کے فوائد سے بخوبی واقف تھے۔  ان کے  ہمراہ سکول کی دو استانیاں فاطمہ کے گھر گئیں اور اس کے والد کو سمجھایا کہ بیٹیاں بھی بیٹوں جیسی ہی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی تعلیم پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ ایک بچی کو تعلیم یافتہ کرنا پورے خاندان کو تعلیم یافتہ کرنے کے مترادف ہے اور آپ کے تو گھر کے بالکل قریب سکول ہے۔ یہ تو چراغ تلے اندھیرے والی بات ہو گئی کہ  دور دراز سے بچیاں پڑھنے آئیں اور قریب والیاں جہالت کی تاریکی میں ڈوبی رہ جائیں۔

خیر استانی جی کے مدلل دلائل سن کر ابا جی قائل ہو گئے اور انھوں نے فاطمہ کو پڑھانے کی ہامی بھر لی۔ وقت گزرتا گیا۔ فاطمہ پڑھائی میں ہمیشہ اپنے بھائیوں سے زیادہ نمبر لاتی تھی اور اس کے دل سے ہمیشہ اپنی استانی صاحبہ کے لیے دعا نکلتی تھی، جن کی کاوش سے اسے پڑھنے کی اجازت ملی تھی۔ اگر تمام اساتذہ ڈراپ آؤٹ ہونے والے بچوں کے مسائل جاننے کی کوشش کریں اور ان کی کاوشوں سے اگر کسی ایک کا بھی مستقبل سنور جائے تو سمجھیں اس نے اپنا حصہ ڈال لیا اور ایک اور شمع روشن کر دی۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
1399
27