تحریر: عمارہ شفیق ملک (اوچ شریف)

پرانے وقتوں کی بات ہے  کہ  جب کوئی جھوٹ بولتا  تو  اس کی ناک لمبی  ہو  جاتی  تھی۔ ایک دن علی جو کہ سچ بولنے والا لڑکا  تھا، دریا کے کنارے بیٹھا مچھلیوں کے بارے  میں سوچ  رہا تھا۔ اس دوران وہاں سے ایک نیک  بزرگ گزرے۔ انہوں نے  پوچھا: علی  بیٹا!  کس چیز کے بارے  میں سوچ رہے ہو؟ علی نے بے دھیانی میں کہا: بابا!  کسی کے بارے میں  نہیں۔ علی کے  یہ  کہتے ہی  اس کی  ناک  لمبی ہو گئی۔ بابا حیران رہ گئے، کیونکہ انہیں  بھی پتہ تھا  کہ  علی جھوٹ  نہیں بولتا۔  علی روہانسا ہو گیا اور کہا: بابا! میں  مچھلیوں کے  بارے  میں سوچ رہا تھا لیکن یہ  اتنی بڑی بات تو  نہ تھی جو میں آپ کو  بتاتا۔  بابا مسکرانے  لگے  ۔ انہوں نے کہا  کہ  اس  کا ایک ہی  حل ہے  کہ تم خود  کو اتنی  زور سے تھپڑ لگاؤ ، جتنی  زور  سے  تم کسی اور کو جھوٹ بولنے  پر  لگاتے۔ علی اداس  سا گھر  کی طرف  چل دیا اور پہنچتے ہی  والدین کو سارا قصہ سنایا۔ والدین نے  اسے  تسلی اور حوصلہ دیا۔  وہ  آئینے کے سامنے جا کھڑا  ہوا۔ اس نے  خود کو  اتنا   زور  سے  تھپڑ  لگایا  کہ  اس کی  گال پر انگلیوں کے نشان ثبت  ہو گئے اور  اس کی ناک  ٹھیک ہو گئی۔ اس کی ماں اس کا  گال  سہلاتے ہوئے  اسے سمجھانے  لگی  : بیٹا! بعض اوقات  ہم جھوٹ  بولتے ہیں اور  ہمیں معلوم تک نہیں ہوتا۔ جیسا  کہ ہم کسی  کو کہتے ہیں کہ  ایک سکینڈ میں یہ  کام کر لوں، جبکہ  ایک سکینڈ میں کوئی کام نہیں  ہو سکتا، اس  طرح وہ جھوٹ  کے زمرے میں آ جاتا  ہے۔ ویسے تم اپنی ہی مثال لے لو،  تم  سے بابا  نے  پوچھا  کہ کیا  سوچ  رہے  ہو تو  تم نے  اتنی  چھوٹی سی  بات بتانا  غیر  ضروری  سمجھا اور  کہا  کہ کچھ نہیں،  جبکہ درحقیقت تم سوچ تو رہے  تھے۔ اس لیے سوچ سمجھ کے بولنا چاہیے تاکہ  ہماری  زندگی میں  جھوٹ کی گنجائش  ہی باقی نہ  رہے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
1637
31