سویرے جو کل آنکھ میری کھلی

عجب تھی بہار اور عجب سیر تھی

خوشی کا تھا وقت اور ٹھنڈی ہوا

پرندوں کا تھا ہر طرف چہچہا

یہی جی میں آئی کہ گھر سے نکل

ٹہلتے ٹہلتے ذرا باغ چل

چھڑی ہاتھ میں لے کے گھر سے چلا

اورپھر باغ کا سیدھا رستہ لیا

وہاں اور ہی جا کے دیکھی بہار

درختوں کی ہے ہر طرف اک قطار

کھلے پھول ہیں اس قدر جا بجا

کہ خوشبو سے ہے باغ مہکا ہوا

کہیں آم ہیں اور کہیں ہیں انار

کہیں کھٹے میٹھے ہیں دیتے بہار

خدا نے ہماری خوشی کے لیے

یہ سامان سارے ہیں پیدا کیے

سویرے ہی اٹھے گا جو آدمی

رہے گا وہ دن بھر ہنسی اور خوشی

نہ آئے گی سستی کبھی نام کو

کرے گا خوشی سے وہ ہر کام کو

رہے گا وہ بیماریوں سے بچا

یہ ہے سو دواؤں سے بہتر دوا

(محمد حسین آزاد)

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
926
14