ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

سید کوثر حسین شاہ (مظفر گڑھ)

کسی محلے میں ایک امیر آدمی نے نیا مکان بنایا اور وہاں آ کر رہنے لگا۔ یہ امیر آدمی کبھی کسی کی مدد نہیں کرتا تھا۔ اسی محلے میں کچھ دکان دار ایسے تھے جو خود تو امیر نہیں تھے لیکن لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ وہاں ایک قصائی بھی تھا جو اکثر غریبوں کو مفت گوشت دے دیا کرتا تھا۔ وہاں ایک راشن والا تھا جو ہر مہینہ غریب گھرانوں تک مفت راشن پہنچا دیتا تھا۔ ایک دودھ والا تھا جو غریبوں کے بچوں کے لیے مفت دودھ پہنچاتا تھا۔ لوگ اس مال دار شخص کو خوب برا بھلا کہتے کہ دیکھو اتنا مال دار ہونے کے باوجود کسی کی مدد نہیں کرتا ہے اور یہ دکان دار خود سارا دن محنت کرتے ہیں لیکن غریبوں کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ اسی طرح گزر گیا اور سب نے مال دار آدمی سے ناتا توڑ لیا۔ ایک دن اس مال دار کا انتقال ہو گیا۔ محلے سے کوئی بھی اس کے جنازے میں شریک نہ ہوا۔ مال دار شخص کی موت کے اگلے روز ایک غریب نے گوشت والے سے مفت گوشت مانگا تو اس نے دینے سے صاف انکار کر دیا۔ دودھ والے نے مفت دودھ دینا بند کر دیا۔ راشن والے نے مفت راشن نہ پہنچایا۔ ان سب کا ایک ہی جواب تھا کہ اب تمہیں یہاں سے کچھ بھی مفت نہیں مل سکتا کیونکہ وہ شخص جو تمہارے پیسے ادا کیا کرتا تھا کل اس دنیا سے چلا گیا ہے۔ اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے ہمیں کبھی کسی کے بارے میں خود سے کوئی رائے قائم نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کس کا باطن کتنا پاکیزہ ہے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
1014
12