علی ذوالقرنین (کہروڑ پکا)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بہت ظالم اور سخت مزاج تھا۔ اس کے ظلم کی وجہ سے لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے تھےاور اکثر بستیاں ویران ہو گئی تھیں۔ایک دن بادشاہ اپنے وزیروں کے ساتھ چہل قدمی کے لیے نکلا۔راستے میں ان کا گذر ایک ویران بستی سے ہوا۔بادشاہ نے دیکھاکہ ایک درخت پر دو پرندے آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں سے پوچھا کہ یہ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ ان میں سے ایک وزیر جو کہ پرندوں کی زبان جانتا تھا ،آگے بڑھ کر کہنے لگا: باد شاہ سلامت! ان کے یہاں شادی کی بات پکی ہو رہی ہے۔ایک پرندے کا بیٹا ہے اور دوسرے کی بیٹی۔ان دونوں کی آپس میں شادی ہو رہی ہے۔ بیٹی والوں کی طرف سے مطالبہ ہے کہ ہمیں دس اجڑی ہوئی بستیاں چاہئیں،جبکہ بیٹے والےکہہ رہے ہیں کہ ابھی پانچ بستیاں لے لو، اگر موجودہ بادشاہ کی حکومت اگلے چھ ماہ مزید رہی تو باقی بستیاں بھی اجڑ جائیں گی۔ پھر جتنی چاہے لے لینا۔ بادشاہ پرندوں کی یہ بات سن کر بہت شرمندہ ہوا اور اسی وقت سچے دل سے توبہ کر لی۔ساتھ ہی جو لوگ اس کے ظلم کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ گئے تھے، انہیں بھی واپس آنے کا حکم جاری کیا۔بادشاہ کی اس سچی توبہ سے لوگوں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا اور پھرسب ہنسی خوشی امن سے زندگی بسر کرنے لگے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
2095
28