نظمینہ نیاز (لیہ)

کسی جنگل میں تتلیوں کا ایک خاندان رہتا تھا۔ سب تتلیاں رنگ برنگی اور بہت ہی خوب صورت تھیں لیکن ان میں سے ایک تتلی بے رنگ اور بدصورت تھی، جس کی وجہ سے کوئی اسے پسند نہیں کرتا تھا۔ سب تتلیاں باغوں میں گھومنے پھرنے نکلتیں تو اس کو ساتھ نہ لے کے جاتیں۔ اس نے ان تتلیوں سے اس بے التفاتی کا سبب پوچھا تو انہوں نے منہ بناتے ہوئے کہا کہ تم ہماری طرح خوب صورت نہیں ہو، اس لیے تم ہمارے ساتھ نہیں جا سکتی ۔ تتلی یہ سن کر بہت اداس ہوئی اورایک درخت کے نیچے بیٹھ کر رونے لگی۔ اس کے رونے کی آواز سن کر ایک خوب صورت اور نرم و نازک پھول اس کی طرف متوجہ ہوا ۔ اس نے تتلی سے پوچھا :تم اتنی اداس کیوں ہو؟ تتلی نے اپنی بد صورتی اور اپنی ساتھی تتلیوں کے برے رویے کاسارا واقعہ بیان کر دیا ۔ وہ پھول بہت نیک دل تھا۔ اس نے اس تتلی کی مدد کرنے کے لیے اسے اپنی پتی پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرنے کو کہا ۔ تتلی نے پھول کی پتی پر بیٹھ کر آنکھیں بند کر لیں ۔ پھول کی آواز پر جب اس نے آنکھیں کھولیں تو کیا دیکھتی ہے کہ خوب صورت پھول کے سارے رنگ غائب ہو چکے تھے۔ اس نے اپنے پروں کی جانب نظر دوڑائی تو یہ دیکھ کر اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا کہ وہ خوب صورت رنگوں کے ساتھ چمکیلے ہو چکے تھے ۔ اس نے نیک دل پھول کا شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ وہ روز اسے دیکھنے اور اس سے باتیں کرنے آئے گی۔ روپ بدلنے کے بعد تتلی خوشی خوشی گھر واپس گئی تو باقی تتلیاں اسے دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ انہوں نے اس سے خوب صورتی کا راز پوچھا تو اس نے ساری حقیقت بیان کر دی۔ وہ سب اپنے رویے پر شرمندہ تھیں اور انہوں نے اس تتلی سے معافی مانگ کر اسے اپنی مہارانی بنا دیا۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
2087
42