عبدالحنان (بہاول پور)

حسن کے کمرے سے گھڑی کے الارم کی آواز آتی اور پھر خاموشی چھا جاتی۔ حسن نیند سے بیدار ہونے کی بجائے ہاتھ بڑھا کر گھڑی کا الارم بند کر دیتا اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتا۔ یہ الارم اس نے رات سونے سے پہلے خاص اہتمام سے لگایا تھا کیونکہ اسے صبح جلدی اٹھ کر اپنے امتحان کی تیاری کرنا تھی مگر اب الارم کی گھنٹی پر اٹھنے کی بجائے وہ کروٹ بدل لیتا تھا۔ اتنے میں اس کے دادا مسجد سے فجر کی نماز ادا کر کے واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ حسن ابھی تک سو رہا ہے۔ وہ اس کے کمرے میں گئے اور پیار سے سر پر ہاتھ پھیر کر حسن کو جگایا۔ حسن نے اٹھتے ہی گھڑی کو دیکھا تو ناراض ہونے لگا کہ مجھے جلدی اٹھ کر امتحان کی تیاری کرنا تھی مگر یہ الارم نہیں بجا، اب مجھے دیر ہو گئی ہے۔
اس کے دادا نے مسکرا کر کہا : بیٹا ! الارم تو بج رہا تھا مگر آپ نہیں اٹھے۔
حسن نے کہا : دادا جان ! میں کیا کروں؟ میں نے تو اسی لیے الارم لگایا تھا تاکہ میں صبح جلدی اٹھ سکوں مگر آج پھر دیر ہو گئی ہے۔
دادا جان نے حسن کو پیار سے اپنے پاس بٹھایا اور کہنے لگے : بیٹا ! یہ الارم آپ کو کیا بیدار کرے گا، میں آپ کو ایسی چیز بتاتا ہوں جو آپ کو وقت کی پابندی سکھا دے گی۔ حسن یہ سن کر بہت خوش ہوا اور بولا : کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے دادا جان؟ دادا جان نے جواب دیا جی بیٹا! تو پھر جلدی بتائیں۔ حسن پوری طرح اب دادا جان کی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔
دادا جان بولے: سنو بیٹا ! اللہ تعالیٰ نے وقت کی تقسیم بہت خوب کی ہے۔ وہ کیسے دادا جان؟ حسن نے سوال کیا۔
بیٹا !دن میں پانچ نمازیں پورے دن کو تقسیم کرتی ہیں اور انسان کو وقت کی پابندی سکھاتی ہیں۔ فجر کی نماز بتاتی ہے کہ لوگو ! اٹھو اور اللہ کو راضی کر کے اپنے دن کا آغاز کر لو۔ ظہر کی نماز پیغام دیتی ہے کہ ٹھہرو ،تھوڑا سانس لے لو ،سستا لو ، خود کو توانائی دو اور اپنے اللہ کی عبادت کر لو۔ عصر کا وقت اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے آغاز کرو اور اپنے کاموں میں لگ جاؤ، جو کام باقی ہیں ان کو پورا کرو۔ پھر آتی ہے مغرب کی نماز، جو کہتی ہے کہ اب بس کرو کام ، دن ڈوب گیا ہے ، اب گھر لوٹو، اپنے گھر والوں کے ساتھ دن کی تھکن کو بانٹو، کھانا کھاؤ اور توانائی کو بحال کرو۔ عشاء کی نماز اس بات کا پیغام ہے کہ اب ہر چیز اللہ کی عبادت کر کے سونے لگی ہے، اے انسان تو بھی اپنے اللہ کا شکر ادا کر اور میٹھی نیند سوجا۔
دادا جان! ایسا تو کبھی میں نے سوچا ہی نہ تھا ۔ حسن نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔ اب میں بھی اللہ کی اس وقت کی تقسیم پر عمل کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔
شاباش بیٹا! تم تو میرے سب سے پیارے بیٹے ہو۔ دادا جان نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔ اب اٹھو اور امتحان کی تیاری کرو۔ حسن نے دادا کو بوسہ دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور امتحان کی تیاری میں لگ گیا۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
2071
28