بڑے لوگوں کی چھوٹی باتیں

سلمیٰ فیصل (اوچ شریف)

ہمارا شہر ماشاء اللہ روز بروز ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر اور جگہ جگہ اونچے بنگلے دل خوش کر دیتے ہیں۔ آتے جاتے یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ جہاں بڑے بڑے گھر ہیں، ان کے آس پاس ایک آدھ بھکاری لازمی مستقل براجمان ہوتا ہے۔ دل ہی دل میں خوش بھی ہوتے ہیں کہ شاید ان بڑے گھروں میں رہنے والے بڑے لوگ خیال بھی رکھتے ہوں گے ان کمزور لوگوں کا، جو یہاں مستقل پڑے ہیں۔ ہمارے اندر کا تجسس پسند انسان ہمیں بھکاریوں کے پاس یا ان کے گھروں تک بھی لے جاتا ہے کہ ان کی اپنی ایک الگ زندگی ہوتی ہے۔ سوچ اور خیالات بھی الگ ہوتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو ہمارے گھر جو مانگنے والیاں آتی ہیں ہم ان کو بھی عزت کے ساتھ گھر کے اندر لے آتے ہیں۔ پانی پلاتے ہیں اور اس دوران حال احوال بھی جان لیتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ بھکاری ٹائپ لوگ ہمارے ڈولتے گرتے ملک کے لئے بہترین جاسوس ثابت ہو سکتے ہیں۔
خیر بات ہو رہی تھی بڑے گھروں میں رہنے والے لوگوں کی، تو بہاول پور میں ہمارے کچھ رشتہ دار مقیم ہیں۔ باتوں ہی باتوں میں ہم نے اپنی رشتہ دار آپا سے پوچھا کہ اللہ نے آپ کو دل کھول کے ہر نعمت دی ہے۔ ہمارے دین کی تعلیمات تو یہی ہیں کہ لوگوں کے مال واسباب میں ضرورت مندوں کا بھی حصہ ہے۔ تو ہماری رشتہ دار آپا فرمانے لگی: پتہ نہیں کیا بات ہے، ہم کام والی کو دل کھول کے دیتے ہیں بلکہ اس کی بیٹیوں کی شادی وغیرہ پر جہیز بھی مکمل بنا کے دیا لیکن جو ہمارے اپنے ضرورت مند ہیں، ان کو دینے کو دل نہیں کرتا بلکہ وہ مشکل میں ہو تو ہم پوچھتے بھی نہیں۔ سبحان اللہ، اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے لوگوں کے دل بہت چھوٹے ہوتے ہیں بلکہ قدرتی طور پر سکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔
ایک بھکاری جو شمس محل روڈ پر اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دیتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ بنگلوں اور کوٹھیوں میں رہنے والے لوگ ہم بھکاریوں سے بھی بدتر ہیں، ہمارے دل بڑے ہیں، ہمارے اندر ان سے کہیں زیادہ احساس ہے، ہم مقابلہ بازی نہیں کرتے۔ وہ کھانے پینے کی چیزوں کو کئی کئی دن فریج میں بند کر کے رکھ دیتے ہیں، تھوڑا تھوڑا کر کے کھاتے ہیں، کوئی بھوکا آئے تو کہتے ہیں بابا جی کما کر کھاؤ، ہم کاکں سے لائیں۔۔۔ باجی جی! آپ دیکھنا یہ بڑے لوگ قبر میں زیادہ عذاب دیکھیں گے۔
ایک اور آپا نے کہا کہ کمبل کو داغ لگ گیا تھا میں نے کام والی کو دے دیا۔ مگر آپا آپ کی ایک بہن بہت غریب ہے، آپ اس کو دے دیتی، وہ تو گرم کپڑے خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتی۔ ہم نے حیرت سے کہا۔ ارے بھئی۔۔۔ اتنی دور کون لے جائے، کام والی کو دیا ہے، آگے بھی بات کرے گی کہ باجی اچھی ہے، چار لوگ جان جائیں گے تو ہمارا فائدہ ہے ناں۔ آپا کے جواب میں ہم بے اختیار استغفراللہ کہہ کر رہ گئے۔
اس نفسانفسی کے دور میں اگر ہم عوام ایک دوسرے کا خلوص دل سے خیال رکھیں، کسی بھی لالچ اور نفع و نقصان کے بغیر ایک دوسرے کی مدد کریں تو یقینا معاشرے سے مسائل ختم ہونے میں وقت نہ لگے گا۔ جب گھر کے افراد ہی میں مقابلہ بازی شروع ہو جائے تو آمدنی کے باوجود برکت ختم ہونے میں وقت نہیں لگے گا۔

شیشہ کیا ہے، پتھر پانی ہو جاتا ہے
قائم رہنے والا فانی ہو جاتا ہے
مرتے انسانوں کا قصہ پڑھنے والا
آخر خود بھی ایک کہانی ہو جاتا ہے

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
284
4