ڈاکٹر سائرہ ارشاد ملک (بہاول پور)

تعلیم کی غرض سے مجھے اکثر و بیشتر سفر کرنا پڑتا ہے۔ وہ جو کہتے ہیں کہ سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے، تو اس محاورے میں مجھے سفر انگریزی کے اور ظفر کسی لڑکے کے معنوں میں نظر آتا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ کہنے والے نے لڑکیوں پہ چوٹ کی ہے۔ یہ تو بعد میں مجھے اس محاورے کا مفہوم سمجھ میں آیا۔ اوچ شریف سے بہاول پور کے طویل مختصر سفر میں کئی بار ایک چیز کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ کاش یہ وین نما چیز ایئر کنڈیشنڈ ہوتی۔ ہماری جس طرح کی لوکل وین ہے، بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ایک ڈربے میں مختلف اقسام کے چرند پرند اکٹھے بند کر دیئے گئے ہوں۔ کوئی چہچہا رہا ہے۔ کوئی تلملا رہا ہے اور کوئی پھڑپھڑا رہا ہے۔ عجیب ہی منظر ہوتا ہے۔ سفر تو اگرچہ اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے مگر انجام مومن خان مومن کے بقول کچھ یوں ہو جاتا ہے کہ شب جو مسجد میں جا پھنسے مومن، رات کاٹی خدا خدا کر کے۔
وین میں موجود حرماں نصیب سواریاں مسجد کو وین شب کو دن دیہاڑے اور رات کو وقت کاٹنے کے مترادف قرار دے سکتی ہیں کہ نظریہ ضرورت کے تحت ترامیم کی گنجائش تو بہر حال ہر جگہ رہتی ہے۔ کئی بار مجھے وین کی حالت زار دیکھ کے خیال آیا کہ کاش یہ ٹرین کا ڈبہ ہوتی۔ کاش وین میں سیٹیں تبدیل کی جا سکتیں۔ کاش اگر ایسا ہو جائے۔ کاش اگر ویسا ہو جائے اور پھر اسی اگر مگر میں سفر تمام ہو جاتا ہے۔
گرمیوں کی تیز دھوپ تو مسافروں کو تپا کر رکھ دیتی ہے۔ ذرا سوچیں کہ وین میں اس طرح بیٹھنا پڑے کہ سانس لینے میں بھی رکاوٹ محسوس ہو اور لگے کہ سواریاں پیک کر کے رکھی گئی ہیں۔ شاید جرمنی کے نازی ڈکٹیتر ایڈوولف ہٹلر کے گیس چیمبرز (مکمل طور پر بند ویگن) بھی ہمارے ہاں کی لوکل ویگنوں کی طرح ہوں جس میں وہ یہودیوں کو ٹھونس کر زہریلی گیس سے ان کا کریا کرم کر دیا کرتا۔ ویسے ہماری لوکل ویگنیں اگر عظیم دوست ملک چین لے لے تو کتنی سہولت ہو گی انہیں۔۔۔۔۔ وہ اپنی جسامت کی وجہ سے باآسانی آ اور جا سکیں گے۔ کاش کہ ہم چینی ہوتے۔
یہ مسئلہ شاید بہت سے لوگوں کو مسئلہ نہ لگے ۔ پھر بھی ایک غور طلب بات ہے کہ جہاں ہم دوسرے مسائل کا شکار ہیں وہاں یہ بات بھی پریشانی کا باعث ہے کہ آمدو رفت کا ایک اہم ذریعہ جو روزانہ نجانے کتنے مسافروں کو خوار کرتا ہے، اسے بہتر جا سکتا ہے۔ ایسی ویگن جو مسافروں سے کچھا کھچ بھر کے روانہ کی جائے اور محمود و ایاز کا فرق بھی مٹا دے، اس سے بہتر ہے کہ ہم کوئی ایئر کنڈیشنڈ کوچ لے کے آئیں تاکہ سفر آرام دہ اور پرسکون ہو۔ یوں محسوس نہ ہو کہ اس ویگن کے سفر نے جوڑ جوڑ ہلا کے رکھ دیا۔ گر راستے میں عزرائیل بھی روح قبض کرنے آئے تو سانس روک کے بیٹھے ہوئے مسافر تڑپ کے کہیں مرے ہوئوں کو مارنا کہاں کی شرافت ہے؟
میری ارباب بست و کشاد سے گزارش ہے کہ اگر انہوں نے زندگی میں ایسی ویگن کا سفر نہیں کیا تو کم از کم ایک بار دل پہ بھاری پتھر رکھ کے ضرور آئیں اور پھر بتائیں کہ انہیں کیسا محسوس ہوا؟ ہو سکتا ہے کہ اس طرح مسئلے کا حل جلد ممکن ہو اور سفر وسیلہ سقر کی بجائے حقیقی معنوں میں سفر وسیلہ ظفر بن سکے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
269
1