محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان

رخسانہ ناز (علی پور)

قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کی مقبول ترین، ہمہ جہت اور دیوملائی شخصیت، عالمی سطح کے معروف ایٹمی سائنس دان، اعلی ادبی و شعری ذوق کے حامل ممتاز کالم نگار، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان 85 سال کی عمر میں 10 اکتوبر 2021ء کو اسلام اباد میں انتقال کر گئے۔ یکم اپریل 1936ء کو ہندوستان کے علمی و تہذیبی شہر بھوپال میں ایک سکول ہیڈ ماسٹر عبدالغفور خان کے گھر پیدا ہونے والے عبدالقدیر خان 1950ء کی دہائی میں ہجرت کر کے پاکستان کے شہر کراچی میں رہائش پذیر ہوئے۔ آپ نے اپنی زندگی کا آغاز انسپکٹر اوزان و پیمانہ جات کی حیثیت سے کیا تاہم کچھ عرصہ بعد اعلی تعلیم کے لئے ملک سے باہر چلے گئے۔ 15 برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر “انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز” کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا، بعدازاں اس ادارے کا نام صدر یاکستان جنرل محمد ضیاءالحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل کر کے “ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز” رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔
عبدالقدیرخان پر ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسروں نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں۔ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیاـ ڈاکٹر عبدالقدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان تھے جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
مئی 1998ء کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلے میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی،۔ وزیر اعظم کی طرف سے آمادگی ظاہر کرنے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے زیر قیادت سائنس دانوں کی ٹیم نے 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کئے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظر بند رہے۔ انہوں نے 185 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے۔1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔ 14 اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا اعزاز بھی ان کو عطا کیا گیا، آپ نشان امتیاز کا اعزاز 2 بار حاصل کرنے والی ملک کی واحد شخصیت تھے۔ آپ نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت کا دوسرا اور اہم پہلو ان کی سماجی خدمات ہیں جن کے بارے میں لوگ تفصیل سے نہیں جانتے حالانکہ ان کے ایسے درجنوں رفاعی کام ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں انہوں نے انجام دئیے ہیں، جن میں تعلیم اور صحت خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ میانوالی میں ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، کراچی یونیورسٹی میں ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جنیٹک انجینئرنگ، کراچی ہی میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ٹیکنالوجی اینڈ اکنامکس اور انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز اور اسی طرح کے بے شمار ادارے ہیں جو ڈاکٹر صاحب نے قائم کئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کے مختلف حصوں میں متعدد مساجد بھی تعمیر کرائیں۔ اس طرح انہوں نے ہندوستان کے پہلے مسلم بادشاہ سلطان شہاب الدین محمد غوری کا مزار جو سوہاوہ ضلع جہلم میں واقع ہے بہت ہی خستہ ہو چکا تھا، آپ نے ذاتی طور پر خرچہ کر کے اس کی تعمیر کرائی اور اس کے ساتھ ہی ایک پارک تعمیر کرایا جہاں اب لوگ سیر و تفریح بھی کرتے ہیں اور مزار پر فاتحہ خوانی کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔
الغرض ایسے بے شمار اہم کام ہیں جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کریڈٹ پر ہیں۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے رفاعی کاموں میں سب سے بڑا کام جو ان کی زندگی کا خواب تھا وہ لاہور میں ڈاکٹر اے کیوخان ہسپتال ٹرسٹ کا قیام ہے، جس کا سنگ بنیاد 29اکتوبر 2013ء کو انہوں نے اپنے دست مبارک سے رکھا اور 18ماہ کی قلیل مدت میں مینار پاکستان کے قریب تین منزلہ عمارت کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا اور 24 جنوری 2015ء میں یہاں نادار اور مستحق مریضوں کے علاج معالجہ کا آغاز ایک اچھے ماحول میں ماہر ڈاکٹرز کی زیر نگرانی شروع کر دیا گیا جہاں اب تک تقریباً اڑھائی لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان اعلی ادبی و شعری ذوق کے حامل اور ملک کے ممتاز کالم نگار تھے۔ معاصر روزنامہ “جنگ” میں ان کا اظہاریہ “سحر ہونے تک” کے نام سے شائع ہوتا رہا، اسی عنوان سے آپ کے کالموں کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں جبکہ اردو ادب کے عظیم کلاسیکی شعراء کی شاعری پر مشتمل آپ کا انتخاب “نوادرات” کے نام سے منصئہ شہود پر آ چکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نماز جنازہ ان کی وصیت کے مطابق 10 اکتوبر 2021ء فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی گئ اور ان کی تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ اسلام آباد کے ایچ8 قبرستان میں کی گئی۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
477
1