پروفیشنل بھکاری سے ملاقات

عمارہ شفیق ملک (اوچ شریف)

ایک دن میں اپنی امی اور بہنوں کے ہمراہ خالہ کے گھر گئی۔ ہمیں عشاء کی نماز کے بعد وہاں سے اپنے گھر جانا تھا۔ عشاء کی اذان ہوئی تو ہم نے نماز پڑھی اوراس کے بعد میں ٹیلی ویژن چلا کر بیٹھ گئی جبکہ میری امی اور بہنیں وغیرہ بیمار ہمسائی کی عیادت کے لئے اس کے گھر چلی گئیں، لہذا گھر پر صرف میں اور میری خالہ موجود تھیں۔ ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے اچانک ہمارے کانوں میں کسی فقیر کی طرف سے خیرات مانگنے کی صدا پڑی۔ خالہ نے مجھے کہا کہ دروازے پر جا کر فقیر کو خیرات دے آؤ۔ میں اٹھی اور باورچی خانہ سے آٹا لے کر فقیر کو دینے کی غرض سے دروازے پر جانے لگی۔
میں حیران تھی کہ رات کے اس وقت فقیر آتے تو نہیں ہیں۔ پھر میں دروازے پر جا کر کھڑی ہوئی۔ میں نے سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں دیکھا کہ خیرات لینے والا فقیر ایک صحت مند اور نوجوان شخص تھا۔ میں اسے آٹا دے رہی تھی کہ اس نے مجھ سے کہا کہ وہ آٹے کی خیرات نہیں لیتا صرف پیسے لیتا ہے لہذا پانچ یا دس روپے ہوں تو دے دو۔ میں نے آٹا باورچی خانہ میں رکھا اور خالہ کو فقیر کی فرمائش بیان کی تو انہوں نے دس روپے دے دیے۔ میں نے پھر دروازے پر جا کر فقیر کو دس روپے کی خیرات دی اور پھر میں واپس مڑنے ہی والی تھی کہ اچانک میرے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔
میں نے مڑ کر اس فقیر کو رکنے کا کہا۔ وہ حیران سا ہو کر رک گیا۔ میں کچھ آگے آئی اور بولنا شروع کیا: تم ایک ہٹے کٹے انسان ہو، تم خود کما کر کیوں نہیں کھاتے؟ اس طرح گھر گھر جا کر بھیک مانگنا اچھا لگتا ہے تمہیں؟ اللہ تعالیٰ نے جسمانی طور پر تمہیں مضبوط بنایا ہے تو تمہیں بھی چاہئے کہ اس مضبوطی کو کام میں لاؤ اور کوئی کام، بھلے سے وہ چھوٹا موٹا ہی کیوں نہ ہو، کرو اور حلال کی روٹی کھاؤ۔ بھیک صرف اپنے اللہ سے مانگنا کیونکہ وہ تمہیں یہ نہیں کہے گا کہ کسی اور کے پاس جاؤ۔ وہ تمہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا۔
یہ سنتے ہی فقیر نے کہا: باجی! تمہاری باتوں نے مجھے صحیح راستہ دکھایا ہے۔ کل سے میں کوئی چھوٹا موٹا کام ڈھونڈوں گا۔ میں نے اسے کہا: سیدھا راستہ دکھانے والی اللہ کی ذات ہے۔ تم پانچ وقت کی نماز پڑھا کرو اور اپنے لئے دعا کیا کرو۔ یہ کہتے ہوئے میں گھر چلی گئی اور ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے سوچنے لگی کہ آج کل بھیک مانگنا پروفیشن بن چکا ہے۔ جسے اپنی عزت نفس پیاری ہوتی ہے وہ یہ کام نہیں کرتے اور جو کاہل اور کام چور ہوتے ہیں وہ تو بھیک مانگنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ میری آپ سب سے بھی یہ درخواست ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی ایسا فقیر یا بھکاری نظر آئے تو اسے سمجھا دیں۔ کیا پتہ آپ کی باتوں سے اس کی باطنی آنکھ کھل جائے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
1292
21