اقبال اپنے خطوط کے آئینے میں

چاند لعل (ملتان)

دراصل خطوط ہی ایک ایسا آئینہ ہیں جس میں لکھنے والے کے صحیح خدوخال بالکل صاف اور نمایاں نظر آتے ہیں۔ انسان سرگوشیوں میں بار بار ایسی باتیں کرجاتا ہے جن کو مصلحت، تہذیب، دور اندیشی، اصول اخلاق یا کسی خاص کمزوری کی بناءپر شاید کھلم کھلا کرنے کی جرات نہ کرسکے۔ بعض اوقات اپنے کسی فعل کے اسباب عام لوگوں کے سامنے پیش کرنے سے ہچکچائے لیکن مخصوص احباب کی مجلس میں بے جھجک ہو کر بیان کردے اور ایسا کرنے میں اُسے کسی قسم کا حجاب بھی نہ ہو۔ ایسے میں اگر کسی کی افتادہ طبع کا اندازہ لگانا ہو اور اس کے اصلی اخلاق اور بے لاگ رائے معلوم کرنا ہو تو خطوط سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ نے ایک جگہ لکھاہے کہ شاعر کے لٹریری اور پرائیویٹ خطوط سے اس کے کلام پر روشنی پڑتی ہے اور اعلیٰ درجے کے شعراءکے خطوط شائع کرنا لٹریری اعتبار سے مفید ہے۔

مرزاغالب اور علامہ اقبالؒ دو ایسی شخصیات ہیں جن کے خطوط کثیر تعداد میں شائع ہوئے۔ غالب کی ابتدائی حیثیت شاعر کی ہے بعد از شاعری جدید اُردو نثر کے جد امجد کی ہے۔ مرزاغالب کا وسیع حلقہ احباب صرف ہندوستان میں تھا جبکہ علامہ اقبالؒ کا حلقہ ارباب واحباب بہت وسیع تھا۔ اُس میں اُن کے ملازم علی بخش سے لے کر والیانِ ریاست اور والیانِ ریاست سے لے کر عالمی علمی، ادبی وسیاسی شخصیات بھی شامل ہیں،اس لحاظ سے خطوطِ اقبال کو علمی، ادبی،سیاسی اور تاریخی حثیت حاصل ہے۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے اور ان کی ہمہ گیر شخصیت کے گو ناگوں پہلوﺅں کو سمجھنے کے لیے ان کے نجی خطوط دورِ جدید میں عظیم سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مکاتیبِ اقبال کی تحقیق و تدوین اورترتیب کا سلسلہ عرصہ سے جاری ہے اور یہ سلسلہ تحقیق کی حدود کی طرح وسیع تر رہے گا۔ علامہ محمد اقبال ایسے شاعر،استاد ،فلسفی،سیاستدان اور مفکر تھے جنھیں اپنی زندگی میں ہی محبوبیت کا بلند ترین مقام نصیب ہوا۔ ا نھوں نے شمع کی مانند اپنے گردوپیش میں اپنی بصیرت سے اجالا کیا اور خوابیدہ قوم میں خودی کی رو ح پھونک دی۔ خودی کی روشنی اورعلم کی بصیرت سے لوگوں کے تاریک دلوں کو منور کیا۔ وہ خود تو گوشہ نشیں تھے مگر دنیا کی بڑی بڑی شخصیات اور ہر فکروپیشہ سے منسلک لوگ اُن سے وابستہ رہے اور ان کی صحبت سے خورشید بنے۔ دنیا کے ہر مکتبہءفکر کی شخصیت سے اُن کی خط وکتابت رہی اور خطوط لکھ کر تبادلہ خیالات کرتے رہے۔

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے وصف میں سے ایک وصفِ خاص یہ تھا کہ وہ ہر شخص کے خط کا جواب نہایت مستعدی سے دیتے اور کسی کو جواب نہ لکھ کر مایوس نہیں کرتے تھے۔ علامہ محمد اقبال ؒ نے اپنی زندگی میں بے شمار خطوط لکھے، خط خود لکھتے تھے۔بیماری یادیگر بعض ناگزیر وجوہات کی بناءپرکچھ خطوط اُنھوں نے خود نہ لکھے لیکن خط لکھوا کر اُس کے آخر میں دستخط خود کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے خطوط کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اُن کے خطوط کا مضمون عام طور پر مختصر ہوتا تھا۔ وہ صرف کام کی باتوں پر مرکوز رہتے تھے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے خطوط میں خط نہایت پختہ اور پاکیزہ تھا۔ عام طور پر اُن کے خطوط میں پرانے منشیوں کے طرزِ کتابت کی جھلک نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی یہی تحریریں آج اہلِ ادب کے لیے تسکین وقرار کا باعث ہیں اور یہ تحریریں قابل قدر یادگار تصور کی جاتی ہیں۔

بیسویں صدی کے عظیم مفکر اور شاعر کی حیثیت سے علامہ اقبالؒ کے مکاتیب کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ علامہ اقبالؒ کے خطوط کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ہزار (1500) سے زائد ہے۔ ان خطوط میں ایک سو پچیس(125) کے قریب انگریزی خطوط ،سترہ(17) کے قریب جرمن زبان، فارسی کے دو خطوط آقائے سعید نفیسی کے نام ہیں، اس کے علاوہ عربی زبان میں ایک خط مصطفی المراغی کے نام ہے۔ مکاتیبِ اقبال میں مہاراجہ کرشن پرشاد شاد اور غلام قادر گرامی کے نام خطوط کی تعداد سو سو سے زائد ہے جو مختلف ادوار میں مختلف حیثیتوں سے شائع ہوتے رہے۔

خطوطِ اقبالؒ کا مطالعہ کرنے سے اقبال کی سوانح کا کام آسان ہو جاتا ہے اور اس سے اقبال کی زندگی کے بہت سے نیم روشن گوشوں کا پتہ چلتا ہے اور مطالعہ اقبال کے نئے نئے راستے کھلتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کی تحریر بڑی شگفتہ اور سادہ تھی، مضمون مختصر ہوتا تھا صرف کام کی باتوں پر اکتفا کرتے تھے۔ خطوط کی عبارت بھی عموماً بے تکلف ہوتی تھی۔ سیدھے سادے الفاظ میں اپنا مطلب بیان کرتے تھے۔ خط نہایت پختہ اور پاکیزہ تھا۔شدید رنج یا خوشی میں بھی اپنے جذبات کا غیر ضروری اظہار نہیں کرتے تھے۔ حضرت علامہ اقبالؒ کی مکتوب نویسی  سے  ان کے   روزانہ معاملات، شب وروز کی سرگرمیوں، ذہنی اور مزاجی کیفیتوں، ملکی سیاست کے اُتار چڑھاﺅ، ادبی اور کاروباری مشاغل، موسموں کے تغیر وتبدل، حوادث عالم کے اثرات، روحانی اور جسمانی عوارض، خوشی اور غمی، تفریحات اور مرغوبات کا حال معلوم کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور اس سے  اقبالؒ کی سلاست روی، ان کی رواداری، بے تکلف دوستوں سے اُن کی محبت اور نفرت، خوش طبعی، شگفتہ مزاجی اور بذلہ سنجی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
284