تعلیم نسواں اور ہمارا معاشرہ

انعمتہ زہرہ (ڈیرہ غازی خان)

تعلیم نسواں سے مراد خواتین  کی تعلیم ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ علم حاصل کرنا ہرمسلمان مرد اور عورت پر فرض  ہے۔ پیارے  نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مذکورہ فرمان کی روشنی میں  فرض کی ادائیگی ہر مسلمان پرلازم ہے کیونکہ  ایک عورت کی تعلیم ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک خاندان کی تعلیم ہے۔تعلیم نسواں ہمارے معاشرے کا توجہ طلب اور ضروری مسئلہ ہے۔اسلام میں جہاں مردوں کو بہت سے حقوق دئیے گئے وہاں خواتین کو بھی بہت  سے  حقوق حاصل ہیں، جن میں تعلیم  کا بنیادی  حق بھی شامل ہے۔ تعلیم نسواں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے  ہمارے معاشرے کی بہت سی خواتین اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔پاکستان کی مرکزی و صوبائی حکومتیں بھی تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ قائد اعظم محمد علی  جناح نے فرمایا  تھا  کہ تعلیم پاکستان کےلیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔  پاکستان میں  خواتین مردوں کے شانہ بشانہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ہمارا ملک خواتین کواپنی قابلیت  اور صلاحیتوں کے اظہار کے لیے کئی  مواقع فراہم کر رہا ہے۔ حکومت دور دراز  کے علاقوں میں بہت سے  رسمی و غیر رسمی تعلیم کے  ادارے کھول رہی ہے۔ ایک محب الوطن پاکستانی  اور ذمہ دار شہری کے  طور پر  ہمیں  ملکی ترقی اور باشعور معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
315
6