ثمینہ بشیر (وہاڑی)

سال کے آخری تین مہینے میری روح میں بستے ہیں۔ اگرچہ جنوری کا فسوں بھی ان سےکچھ مختلف نہیں مگر اکتوبر، نومبر، دسمبر کا تو نام بھی ازحد رومانوی لگتا  ہے۔ بلاشبہ ان تینوں کا تعلق رومانس اور نوسٹیلجیا  کے ساتھ وابستہ ہے۔ ستمبر کا تعلق شدید اداسی کے ساتھ منسلک ہے۔  اداسی سے  لبریز  تو اکتوبر بھی ہے مگر ستمبر اپنے دامن میں زیادہ اداسی سموئے ہوئے مجھے  محسوس ہوتا ہے۔ یوں تو سال کاہر مہینا اپنے اندر میرے لیے کچھ دلکشی کا ساماں رکھے ہوئے  ہے اور اس ساری دلکشی کا تعلق میرے ماضی کے ایام سے ہے۔ جون ، جولائی کی تپتی دوپہریں ہوں یا اپریل میں شاخ بادام پہ کھلتے شگوفے ہوں۔ مئی میں آم پہ آتا بُور اور کوکتی کوئل ہو، مارچ میں بہار کی رنگینی اور دھنک رنگ ہو یا فروری میں سرسوں کا عروج ہو۔ یہ سب میرے لیے اپنے اندر بے پناہ رنگ سمیٹے ہوتے ہیں۔

تو بات کرتے ہیں اکتوبر کی۔ یہ اکتوبر کی نزعی ساعتیں ہیں۔ اسے بچھڑنے میں محض ایک ہفتہ کی کہولت باقی ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے اکتوبر کے دل کش رنگ مجھے حیران کیے ہوئے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں میں اکتوبر کی اداسی سمیٹے ہوائیں چاروں اور آوارہ پتوں کو اڑائے پھرتی رہیں۔  میں نے ان ہواؤں کی لطافت کو  اپنی روح تک محسوس کیا  ہے۔ دن بھر تو ہوائیں تند و تیز اور شوریدہ سر ہوتیں مگر شام سمے ہلکی سی خنکی لیے ٹھہراؤ والے لطیف جھونکوں میں بدل جاتیں۔ دھندلی صبحوں میں بھی ان ہواؤں کی لطافت اور خنکی اپنے پورے وقار کے ساتھ یونہی براجمان رہتیں۔

پچھلے دو دن میں موسم نے انگڑائی بدلی، پہلے 2 ڈگری ٹھنڈا ہوا پھر سیدھا 4 ڈگری۔۔۔ اور آج موسم کی یہ انگڑائی اپنے ساتھ بادلوں کو سمیٹ لائی،  جس سے صبح و شام دونوں ہی دھندلے ہو گئے۔ جانے کیوں مگر مجھے ملگجی و دھندلی صبحیں اور شبنمی شامیں پسند ہیں۔ یہ اکتوبر کے وہ ایام ہیں جب اوپر شمال میں خزاں نے اپنے ڈیرے جمالیے ہیں۔ وادیاں پیلی پڑ گئی ہیں۔ آب رواں جم رہا ہے۔ ندیاں، جھیلیں اور آبشاریں سفید لباس زیب تن کر رہی  ہیں۔ اوپر وادیوں میں ان دنوں تندوتیز یخ بستہ ہواؤں کا راج ہے۔ وادیوں اور پہاڑوں کے مکین تیزی سے مال مویشیوں کےلیے چارہ اور سردیوں کےلیے اپنا گزارہ جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ قطب شمالی سے مہاجر پرندے ہجرت کر رہے ہیں۔ جبکہ وادیوں سے نیچے اور ہم سے قدرے اوپر بارشوں کا راج ہے  ۔ کہیں کہیں تو ژالہ باری بھی ہے۔ بالائی   پنجاب و خیبر پختونخوا میں سردیاں اپنی آمد کا بگل بجا رہی ہیں۔یہاں نیچے دھوپ کا سنہری پن قدرے ماند پڑنے لگا ہے۔ شامیں گلابی ہو رہی ہیں۔  اداسی اور سکوت کے ڈیرے ہیں۔

یہ وہ دن ہیں جب ہر مردو زن کام میں مصروف ہوتا ہے۔ مکئی کی فصل کٹ رہی  ہے۔ خالی زمین کو ہموارکر کے سیراب کیا جارہا ہے۔ جو زمین تیار ہوتی جارہی ہے  وہاں گندم کی بوائی تیزی سے ہو رہی ہے۔  نہریں سوکھ چکیں، سو اب ٹیوب ویلز اور ٹربائن کا سہارا ہے۔ جانوروں کےلیے چارے کی کاشت بھی عروج پر ہے۔ لوسن، برسیم اور جوار کاشت ہو رہی ہے۔ گنا بھی کھیتوں میں سربلند کھڑا  ہے۔ ادھر آلو کی فصل اٹھائی جارہی ہے۔ غرضیکہ رزق کے حصول کی گہما گہمی عروج پر ہے۔ ایک ایک دانے کے لیے ہر کوئی سرتوڑ کوششوں میں جُتا ہے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
1252
16