قیصر عباس (ملتان)

کوٹھی  کی پہلی اینٹ اس نے اس وقت رکھی تھی جب اس کی عمر چودہ سال  تھی ۔تب وہ ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔وہ زمانہ ایسا تھا کہ چمڑی استاد کی اور ہڈیاں والدین کی ہوتی تھیں۔اس نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا کہ آج سبق سنانا نہیں ،سکھانا ہے۔ماسٹر نیئرپورے سکول میں دہشت کی علامت تھا ۔کئی دفعہ آگے پیچھے سے بچوں کے کپڑے گیلے کر اچکا تھا۔لڑکوں کے لیے نام ہی کافی تھامگر آج اس کا آخری اور شاکی کا پہلا دن تھا۔پچیس کی قطار میں شاکی کی تیرہویں باری تھی ۔ابھی  مار کھانے میں اس کا چوتھا نمبر تھا کہ شاکی گھوما اور دھڑام سےپاس بیٹھے ہوئے ہم جماعت پر گرا۔منہ سے جھاگ کے پھوٹے نکلنے لگے ۔ہاتھ مڑ گئے سینہ تن گیا ۔تھوڑے تھوڑے وقفے سے سینہ اوپر اٹھتا پھر پشت فرش پر جالگتی ۔کمرے میں وی، وی کی آوازیں بند ہو گئیں۔ باسٹھ آنکھیں شاکی پر مرکوز تھیں اور دو آنکھیں ادھر ادھر دیکھتی ہوئی آخر دروازہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئیں ۔ماسٹر نیئرفرار شد۔

ایک دم سکوت ٹوٹا ۔ اکتیس آوازوں سے کمرا گونجا:  شاکی مرگئے۔  آواز اتنی زور دار اور خوف ناک تھی کہ آس پاس کے کمروں میں موجود استاد اس کمرے کی طرف لپکے ۔شاید انہیں آج کی گھڑی کا کئی سالوں سے انتظار تھا۔چند لمحوں میں کمرہ استادوں اور گیلری بچوں سے بھر گئی ۔ہر ایک اپنے تئیں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے؟ استاد نام ور صاحب نے دوسرے استاد کی مدد سے بے ہوش شاکی کو فرش سے اٹھایا اور سکول چوکیدار کی چار پائی سائنس ہال میں رکھ کر شاکی کو لٹا دیا گیا ۔ ہیڈ ماسٹر درویش صاحب نے شاکی کی حالت دیکھی تو ان کی اپنی حالت غیر ہوگئی ۔انہوں  نے جلدی سے ایک ملازم کو ڈاکٹر کی طرف دوڑایا کہ ہیڈ ماسٹر بیمار ہے، جلدی سے آئے ۔دس منٹ میں ڈاکٹر راشد نے کچھ سمجھ میں آئے بغیر تین ٹیکے اٹکا کر گلو کوز کی بوتل لٹکا دی ۔

نا معلوم ہر کاروں نے پہلے دس منٹ میں دو کلومیٹر کی مسافت پر شاکی کے گھر اطلاع دے دی کہ شاکی کو ماسٹر نئیر نے مار مار کر مار دیا ہے۔ باپ نے اپنے اور ماں نے اپنے میکے والوں کو بتایا کہ ہمارے  شاکی کو ماسٹر نے مار دیا ہے ۔ایک کہرام مچا اور سبھی مامے ،چاچے، ملیر، مسات،سوتر بھرا، سب لاٹھیوں سے لیس ہو کر پندرہویں منٹ سکول میں نئیر نئیر  کی آوازوں کے ساتھ مختلف ذائقوں کی صلواتیں سناتے داخل ہوگئے ۔ ہیڈ ماسٹر درویش صاحب پہلے ہی بے تاب تھے،   اب ہجوم دیکھ کر ان کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں ۔قریب تھا کہ غم اور غصے سے لبریز ہجوم شاکی تک پہنچ کر اسے دیکھتا ، کسی نے زور سے آواز دی: شاکی  کوں  ہوش آ  گئے۔

پھر تو معلوم ایسا ہو رہا تھا کہ شاکی کے ساتھ پورا سکول اور شاکی کے گھر والے سب ہوش میں آگئے ۔اب ہیڈ ماسٹر کا کمرا کانفرنس روم میں تبدیل ہو گیا تھا۔ ہیڈماسٹر کے چہرے کی مردنی زیستنی میں بدلی اور انہوں نے تفتیش کا آغاز کیا تو پتہ چلا کہ ماسٹر نئیر کا پیریڈ تھا اور انہوں نے بچوں کو سزا دی مگر اس وقت ماسٹر نئیر ،جیندے پچھوں غرق شہر او شہر کنوں باہر کے مثل غائب تھے۔  عینی شاہدین یعنی بچوں میں سے تین چار کو بلا کر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ واقعہ  دہشت کا صدمہ ہے ورنہ استاد صاحب نے شاکی کو کچھ نہیں کہا۔اب ہیڈماسٹر کی جان میں جان آئی اور آنے والوں کو سکول اور استاد کی حرمت کا احساس ہوا ۔ اقوال اور افعال مذمومہ ومشمومہ پر نادم ہوئے ۔شاکی کے پاس گئے تو اسے دیکھ  کر کچھ آبدیدہ ہوئے ، کچھ نے اس کا سر ،ماتھا اور چہرہ چوما۔ لوگوں کا فرط جذبات اور اپنے ساتھ اپنائیت دیکھ کر شاکی نے آنکھوں سے آنسو گرا دیے۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
243
2