طیبہ شریف (لیہ)

پرانے وقتوں کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک لڑکا اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔لڑکا محنت مزدوری کرکے گزر بسر کرتا تھا۔والد کا انتقال ہو چکا تھا۔لڑکے کو جانور پالنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن لڑکا چھت پر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک اس کو ایک طوطا نظر آیا۔ اس نے اس طوطے کی طرف دیکھا تو وہ اس کے قریب آ گیا،جیسے وہ اس سے دوستی کرنا چاہتا ہو۔اس نے طوطے کو آسانی سے پکڑ کر پنجرے میں محفوظ کر لیا۔اگلے دن جب لڑکا کام پر جا رہا تھا تو اس نے سنا کہ بادشاہ کی بیٹی پر کسی نے جادو کر دیا ہے اور وہ بہت بیمار ہے۔ ایک جادوگر کو علاج کے لئے بلایا گیا تو اس نے بتایا کہ اس کا جادوئی طوطا اُڑ گیا ہے، وہ مل جائے تو اس کے ذریعے شہزادی کی جان بچ سکتی ہے۔ بادشاہ نے اس طوطے کو پکڑنے والے کے لیے منہ مانگے انعام کا اعلان کر دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ طوطا صرف دن کی روشنی میں نظر آتا ہے۔

لڑکا کام سے فارغ ہو کر گھر گیا تو رات ہو چکی تھی۔جب وہ کھانا کھا کر اوپر سونے کے لئے گیا تو اس نے دیکھا کہ اس کا طوطا پنجرے میں نہیں ہے۔جب کہ پنجرے کا دروازہ بھی بند تھا۔لڑکا بہت اُداس ہو گیا۔ جب  وہ صبح اُٹھا تو دیکھا کہ طوطا پنجرے میں ہی موجود ہے۔ اسے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ اچانک اسے وہ اعلان یاد آگیا جس کے بارے میں اعلان کیا گیا تھا کہ طوطا رات کو نظر نہیں آتا۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ اس طوطے کو لے کر محل گیا۔ جادوگر جو پہلے سے شہزادی کے پاس موجود تھا ، لڑکے کو دیکھ کر اس سے اپنا طوطا لیا اور اس کا ایک پَر توڑ کر گیندے کے پھول میں لگایا اور شہزادی کے سرہانے رکھ دیا۔ کچھ ہی دنوں میں شہزادی جادو کے اثر سے آزاد ہو گئی۔ بادشاہ نے اعلان کے مطابق لڑکے کو مالا مال کر دیا اور ایک شاہی نوکری بھی عطا کر دی، لڑکا اور اس کی ماں خوشی خوشی رہنے لگے۔

شیئر کریں
1388
22