محمد بلال احسان (وہاڑی)

کیا آپ مجھے پہچان سکتے ہیں؟ مجھے خدا نے آپ انسانوں کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ لوگ مجھے بے جان سمجھتے ہیں حالانکہ میں سانس لینے والا ایک جان دار ہوں۔ سانس خارج بھی کرتا ہوں تو آپ کے لیےتازہ اور آکسیجن سے بھرپور ہوا کا انتظام کر دیتا ہوں۔ اب تو آپ نے مجھے پہچان لیا ہو گا؟ جی ہاں۔۔۔ میں ایک درخت ہوں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ میں ایک ننھے سے بیج سے پیدا ہوتا ہوں۔ یہ بیج زمین کو پھاڑ کر نکلتا ہے پھر کچھ ہی سالوں میں یہ پودا درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ میں دوسرے جان داروں کی طرح چل پھر نہیں سکتا بس اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہوں لیکن میں نکما اور بے کار نہیں، میں گرمی کے موسم میں سب کے لیے ٹھنڈی چھاؤں کا انتظام کرتا ہوں۔ میرے سائے میں چرند پرند اور انسان سب آرام پاتے ہیں۔ میری شاخوں میں پرندے گھونسلے اور شہد کی مکھیاں اپنے چھتے بناتی ہیں۔ بہار کے موسم میں مجھ پر پھول کھلتے ہیں جس سے موسم دل کش اور سہانا ہو جاتا ہے۔ میں آپ کے لیے ہر موسم میں طرح طرح کے پھل اور میوے لے کر آتا ہوں جیسے آم، سیب اور انگور وغیرہ۔ آپ کے گھر میں جو میز، کرسیاں، دروازے اور کھڑکیاں ہیں یہ کس چیز سے بنی ہیں؟ جی ہاں! یہ میری ہی لکڑی سے بنائی جاتی ہیں۔ میری لکڑی فرنیچر بنانے  کے لیے بھی کام آتی ہے اور بہت سے لوگ اسے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ میری شاخوں پر رسی باندھ کر بچے جھولا بھی لیتے ہیں یہاں تک کہ میں گرمی میں سکول کے بچوں کے لیے آرام دہ ماحول بھی فراہم کرتا ہوں اور بچے میری چھاؤں  کا مزہ لیتے ہیں۔ میرے سائے تلے بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ اساتذہ بھی میری چھاؤں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ پیارے بچو! دیکھا آپ نے کہ میں آپ کے کتنے کام آتا ہوں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ بھی مجھے پسند کرتے ہیں۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
369
5