سائرہ شاہد (ڈیرہ غازی خان)

چُلبُل طوطے نے سنسنی خیز خبر دی کہ بونی میاں کی دکان سے شہد چوری ہو گیا ہے۔ یہ خبر سُن کر جنگل دوستاں کے سارے جانور اور پرندے پریشان ہو گئے۔

جنگل دوستاں صدیوں پرانا ایک عظیم جنگل تھا۔ اُس جنگل کے تمام جانور اور پرندے ایک دوسرے کے دوست تھے اور کسی کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ شیر ہرنوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ ہاتھی جنگل کے راجا اور طوطے مخبر سپاہی تھے۔

ایک دن بونی بھالو نے شہد کی مکھیوں سے معاہدہ کیا کہ وہ ان کا شہد بیچ کر رنگ برنگے پھولوں کا پتہ معلوم کرے گا، اس طرح مکھیاں جلدی سے پھولوں تک پہنچ سکیں گی اور بونی کو بھی تھوڑا سا شہد کھانے کے لیے مل جائے گا۔ یہ بات رانی مکھی کو بے حد پسند آئی اور جنگل دوستاں میں بونی بھالو کی نئی دکان کا افتتاح ہو گیا۔ 

بونی چچا! مجھے دو کٹوری شہد دے دیجیے۔ ببلی بندریا نے بونی کو دس پھولوں کی جگہ بتائے ہوئے شہد خریدنا چاہا تو بونی نے جلدی سے اُسے دو کٹوریاں بھر کر شہد دے دیا۔ ببلی کے جانے کے بعد بونی نے ہاتھوں پر لگے شہد کو اچھی طرح چاٹ لیا اور اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ اتنے میں لالی لومڑی اُس کے پاس آ کر اُداسی سے بولی: بونی بھیا! کچھ شہد ادھار ملے گا؟ آج مجھے کوئی پھول نظر نہیں آیا۔

اُس کی حالت دیکھ کر بونی ہنسنے لگا اور اسے تھوڑا سا شہد دے دیا۔ لالی نے منہ بناتے ہوئے شہد وصول کیا اور اپنے گھر کی جانب چل دی جب کہ بونی اب دوبارہ اپنے ہاتھوں کو چاٹنے میں مصروف ہو گیا۔ شام ہوتے ہی اس نے دکان بند کی اور گھر چلا گیا۔ 

اگلے دن بونی نے دکان کھولی تو شہد کے دو مرتبان خالی ہو چکے تھے جب کہ اس نے صرف ایک ہی مرتبان بیچا تھا۔ اس بات کو بونی نے اپنا وہم سمجھا اور خاموش ہو گیا لیکن اگلے دن دوبارہ کچھ مرتبان خالی تھے اور بونی کو لالی لومڑی پر شک تھا کہ اسی نے چوری کی ہو گی، اِس لیے بونی نے شور مچا دیا کہ شہد چوری ہو گیا ہے اور چُلبُل طوطے نے شہد کے چوری ہونے کی خبر ہر طرف پھیلا دی۔

جنگل دوستاں میں چوری ہونا حیرانی کی بات ہے، آخر ایسا کون ہے جو جنگل کا ماحول خراب کرنا چاہتا ہے؟ ہاتھی راجا نے سبز چڑیوں کی خفیہ فوج سے مخاطب ہو کر کہا اور انہیں بونی کی دکان کی نگرانی پر لگا دیا۔

رات کو جیسے ہی بونی نے دکان بند کی، سبز چڑیاں درختوں کے پتوں میں چھپ کر بیٹھ گئیں اور چور کا انتظار کرنے لگیں۔ رات کے آخری پہر کوئی دکان کی طرف آتا دکھائی دیا اور ایک چڑیا ہاتھی راجا کو بلانے کے لیے اڑی۔ راجا نے آ کر چور کو پکڑ لیا لیکن وہ ایسا انوکھا چور تھا کہ اس نے بھاگنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ منہ ہی منہ میں بڑبڑانے لگا۔ ہاتھی راجا نے اسے زور سے جھنجوڑا تو وہ جاگ گیا، اصل میں وہ چور بونی خود تھا جو نیند میں چلتے ہوئے آتا اور دکان کھول کر مزے سے شہد کھانے لگتا تھا۔ چور کے پکڑے جانے کی خبر پورے جنگل میں پھیل گئی اور سارا جنگل اس چور کو دبی دبی ہنسی سے دیکھ رہا تھا جب کہ وہ لالی لومڑی کے متعلق غلط سوچنے پر دل ہی دل میں شرمندہ ہو رہا تھا۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
643
13