نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی

سائرہ بی بی (لودھراں)

افضل اور اکبر بہترین دوست تھے.وہ دونوں ایک دوسرے کا بہت زیادہ خیال رکھتے، اکھٹے پڑھتے اور کھیلتے تھے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ان دونوں کی دوستی  بھی گہری ہوتی گئی۔ افضل کا تعلق امیر گھرانے سے جب کہ اکبر کا تعلق غریب گھرانے سے تھا۔ اکثر  اوقات افضل اکبر کی مالی مدد کر دیتا تھا  تاکہ اس کا دوست اس کا ہم جماعت رہے اور ان میں جدائی نہ آئے۔

ایک دن وہ دونوں ایک ہوٹل پر کھانا کھا رہے تھے۔ اس وقت ان کے مخالف ہم جماعت آئے۔ انہوں نے اکبر اور افضل کو وہاں دیکھا تو طنز کرنے لگے  کہ اکبر افضل کی وجہ سے اچھے سکول میں پڑھ رہاہے اور اچھا لباس پہنتا ہے ورنہ اس کی کہاں اوقات کہ وہ ہم جیسے لوگوں کے درمیان بیٹھے۔ یہ سن کر افضل نے سوچا کہ اس سے اکبر کی دل آزاری ہو گی۔ اس نے فوراً جواب دیا کہ میرے پاس جو کچھ ہے، یہ سب وقت کا ہے۔ جب وقت میرےخلاف ہو گا تو دنیا میں کوئی میری پرواہ نہیں کرے گا۔ ان دونوں کی بات چیت کے دوران اکبر خاموش کھڑا رہا۔  

 میڑک کا امتحان پاس کرنے کے بعد افضل نے اپنا اور اکبر کا داخلہ اچھے کالج میں لے لیا۔ ان دونوں نے یہاں تعلیم مکمل کی اور اس  کے بعد افضل نے اپنا کاروبار شروع کر لیا اور اکبر فوج میں بھرتی ہو گیا۔ اکثر اوقات جب اکبر چھٹیوں پر گھر آتا تو افضل اور اکبر دوبارہ اکھٹے ہوتے اور اپنے بچپن کا وقت یاد کرتے اور مل بیٹھ کر خوشی محسوس کرتے۔ یہ دونوں سادگی پسند انسان تھے۔ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد اکبر واپس اپنی نوکری پر چلا جاتا تھا ۔

کچھ دن گزرنے کے بعد افضل کی شادی ہو گئی۔ جب افضل کے تین بچے ہو گئے تو اسے ایک بیماری نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسلسل بیماری سے ان کے گھر میں بڑی پریشانی آ گئی۔ ساری جمع پونجی افضل کے علاج پر لگ گئی، جب کہ اس کا سارا کاروبار اس کی مسلسل غیر موجودگی کی وجہ سے ختم ہو گیا ۔ جب اکبر نے یہ خبر سنی کہ افضل شدید بیمار ہے تو اس سے رہا نہ گیا۔ وہ  چھٹی  لے کر فوراً افضل کے گھر گیا۔ دروازے پر دستک دی تو ایک اجنبی شخص نے دروازہ کھولا جس سے اکبر کو معلوم ہوا کہ افضل اپنے تمام مکان اور بنگلے بیچ چکا ہے اور اس کی طبیعیت بہت خراب ہے۔

اکبر نے اس شخص سے  افضل کی نئی رہائش کا پتہ پوچھا اور فوراً گاڑی پر وہاں پہنچ گیا۔ دروازے پر دستک دی تو  افضل کی بیوی دروازے پر آئی اور پوچھا! کون؟ اکبر نے اپنا نام  بتایا ہی تھا کہ اس نے اسے فوراً پہچان لیا اور اندر آنے کا کہا۔ اکبر اندر آیا اور افضل کی صحت دریافت کی اور کافی دیر اس کے  پاس بیٹھ کر اس کو تسلی دیتا رہا۔ وہ اپنے دوست افضل اور اس کے بیوی بچوں کو اپنے گھر لے گیا، افضل کا شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں علا ج کروایا جس سے افضل جلد صحت یاب ہو گیا۔ اکبر نے افضل کے بچوں کو بھی اچھے سکول میں داخل کرا دیا تھا۔ اکبر نے اب افضل کو نوکری دلوائی تاکہ اس کے گھر کا گزارا اچھی طرح ہو سکے۔ افضل نے اسے یاد دلایا کہ وہ وقت میرا تھا  جب تم مجبور تھے اور یہ وقت تمہارا ہے جب میں مجبور ہوں۔ اب تم خوش رہو اور یہ کہہ کر وہ اپنی منزل کو چل پڑا۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
2104
22