شائستہ پروین (مظفر  گڑھ)

نہایت عظیم ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف خلق خدا کی خدمت، فلاح اور بھلائی ہوتا ہے اور بہت عظمت والی ہوتی ہے وہ قوم جو انتہائی عظیم لوگ پیدا کرتی ہے۔ یہ لوگ زبان، ذات، علاقے اور مذہب کا  فرق کیے بغیر ہر ایک سے محبت اور ہر ایک کی خدمت کرنے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ چمکتے ستاروں کی مانند قوم کے لیے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز کی ایک ایسی ہی ہستی کانام عبدالستار ایدھی ہے۔ عبدالستار ایدھی 1928ء میں ہندوستان کی ایک ریاست گجرات کے گاؤں بانٹوا میں پیداہوئے۔ ان کے والد گرامی عبدالشکور ایدھی کا معمولی سا کاروبار تھا۔ غربت کی وجہ سے عبدالستار ایدھی زیادہ نہ پڑھ سکے۔ آپ کو بچپن میں دو پیسے خرچ کے لیے ملتے تھے۔ اپنی والدہ کی ہدایات کے مطابق ایک پیسہ وہ خود خرچ کرتے تھے اور ایک پیسہ کسی ضرورت مند کو دیتے تھے۔ جب وہ انیس برس کے  ہوئے تو آپ کی والدہ  اللہ تعالیٰ کو پیاری ہو گئیں ۔

قیام پاکستان کے بعد 4 ستمبر 1947ء کو عبدالستار ایدھی خاندان کے دیگر افراد کے  ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں سکونت اختیار کر لی۔ آپ کی طبیعت میں انتہا درجے کی سادگی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ زندگی بھر ایک ہی انداز کا لباس پہنا۔ کھدر کے کپڑے کا کرتا پاجامہ، جناح کیپ اور اسفنج کی چپلیں۔ ان کے پاس صرف تین جوڑے تھے۔ خوراک میں دال کھانا پسند کرتے تھے۔

عبدالستار  ایدھی کو 2009ء میں یونیسکو کے خدمت انسانیت ایوارڑ، 1992ء میں حکومت سندھ کی طرف سے سماجی خدمت گزار برائے پاکستان ایوارڈ، جامعہ کراچی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری اور حکومت پاکستان کےسب سے بڑے سول اعزاز نشان امتیاز سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ 8 جولائی 2016ء کو یہ عظیم انسان اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔ آپ کے انتقال پر سرکاری طور پر سوگ منایا گیا۔ آپ کے جسد خاکی کو آپ کی وصیت کے مطابق آپ کے قائم کردہ ایدھی ولیج میں سپرد خاک کیا گیا۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
144
2