محمد یوسف وحید (رحیم یارخان)

وسیم تیسری جماعت کا ایک لائق طالب علم  تھا۔ وہ بڑا محنتی اور لائق بچہ تھا ۔ ہر کام وقت پر کر تا ۔  اسی وجہ سے وہ ہمیشہ زندگی کے ہر معاملے میں کامیاب ہو جاتا۔ اس کے والدین اور استاد بھی اس سے بہت خو ش تھے ۔ وسیم کے ابا شہر میں ایک کپڑے کی فیکٹری میں کا م کر تے تھے۔ وہ نہایت ایمان دار آدمی تھے  اور اپنی شرافت کی وجہ سے پوری فیکٹری میں ہر دلعزیز تھے ۔ آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھو ں اوروں کی طرح وہ بھی اکثر پر یشان رہتے۔ ایک دن وسیم کے ابا فیکٹری سے واپس آئے ۔ کھا نا کھا یا ۔ ابھی وہ کھا نے سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ وسیم گھر میں داخل ہوا ۔ اپنے ابا کو سلام کر کے کمر ے میں چلا گیا۔ جب وسیم کے ابا کھا نا کھا کر فارغ ہو چکے تو وسیم چارپائی پر آکر بیٹھ گیا ۔ وسیم نے اپنے ابا سے کہا: ابا جان ! میر ے جوتے بالکل پھٹ چکے ہیں۔ اب میرے پاس اور جوتے نہیں ہیں۔ ماسٹر صاحب مجھے روزانہ کلاس میں ڈانٹتے ہیں مجھے بہت شر مندگی ہو تی ہے ۔

وسیم کے ابا نے کہا : تمہاری بات تو بالکل درست ہے ، لیکن کیا کروں کہ ابھی تنخواہ ملنے  میں بہت دیر ہے ۔ کچھ دن اور انتظار کر نا پڑے گا ۔

ابو جان مجھے روز روزبہانہ بناتے ہوئے شر مندگی ہوتی ہے ۔ ماسٹر صاحب مجھ سے ہر روز کلاس میں پو چھتے ہیں ۔ وسیم نے دو بارہ اصرار کر تے ہو ئے کہا ۔

مجھے بخو بی احساس ہے بیٹا مگر میں کیا کروں کہ مجبوری ہے ۔ وسیم کے ابو نے اسے سمجھاتے ہو ئے کہا ۔

وسیم عصر کی نماز پڑھ کر جو نہی مسجد سے نکلا ۔ اس کی نظر گلی میں جاتے ہوئے ایک فقیر پر پڑی جو گھسٹ گھسٹ کر سڑک پر چل رہا تھا ۔ اس بیچارے کی دونوں ٹانگیں کٹی ہوئیں تھیں ۔ گھر کی جانب آتے ہوئے اس نے ایک جگہ دیکھا کہ ایک شخص لاٹھی  کو  ٹیکتے  ہوئے عجیب انداز سےلنگڑا  کر چل رہا تھا۔ قدم اُٹھاتے ہوئے وہ دائیں جانب کو اچھا خاصا جھکاؤ  لیتا اور بائیں گھٹنے پر ہاتھ کا دباؤ ڈال کر قدرے سیدھا ہو جاتا ۔ یہ منظر دیکھ کر وسیم نے جھر جھر ی لی ۔ نجانے کیوں اس نے بے ساختہ آسمان کی طرف دیکھا ۔ آگے بازار میں اسے ایک خو ش پو شاک آدمی اپنی بغل میں بیسا کھیاں دبائے سو دا سلف خر ید تا نظر آیا ۔ یہ دیکھ کر وسیم بے اختیار اللہ کا شکر ادا کر تے ہوئے سو چنے لگا کہ یا اللہ ! تیرا لا کھ لاکھ شکر ہے کہ میر ے دونوں ہاتھ اور پاؤں صحیح سلامت اور محفوظ ہیں ۔ وہ تیز قدموں سے گھر کی طر ف چلنے لگا۔

وسیم اپنے ابو کی گردن میں دونوں بازو ڈالتے ہوئے پیار سے بو لا ، اب میں آپ کو نئے جوتے لانے کے لیے تنگ نہیں کروں گا ۔

وسیم کے ابا نے پو چھا : کیو ں بیٹا ؟ کیا بات ہوگئی ۔

وسیم نے کہا : بس یو نہی ، کچھ نہیں ۔ اب میں انہی جو توں پر گزارا کر لوں گا ۔ وسیم کی بات سن کر ابا نے اسے گلے سے لگا لیا ۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
363
3