رحیم یار خان کا پتن مینارہ

ایمان فاطمہ (رحیم یار خان)

رحیم یار خان شہر سے نکل کر اگر آپ لگ بھگ 20 کلومیٹر کا سفر طے کریں تو ایک چھوٹی سی پختہ سڑک آپ کو ریت کے ٹیلوں کے درمیان قدرے اونچائی پر کھڑے پتن منارہ تک لے جاتی ہے۔ دور ہی سے یہ عمارت پرکشش نظر آتی ہے۔ پتن منارہ تاریخ میں پتن پور کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعض محققین کے مطابق پتن پور 320 قبل مسیح میں سکندراعظم نے تعمیر کروایا تھا اور یہاں اک بہت بڑی درس گاہ تعمیر کرائی تھی۔ جبکہ کچھ کے نزدیک یہ شہر سکندراعظم کے زمانے سے بھی پہلے کا آباد تھا۔ اور صحرائے چولستان میں سے گزرنے والا ایک قدیم دریا ہاکڑا یا گھاگھرا پتن پور کے قریب سے بہتا تھا۔ سکندراعظم نے اس شہر کو فتح کرنے کے بعد کچھ عرصہ اپنی فوج کے ساتھ یہاں قیام کیا تھا۔ اسی قیام کے دوران سکندراعظم نے یہاں ایک مینار تعمیر کروایا۔ جس کا نام پتن منارہ تھا۔تاہم ملک کے  ممتاز تاریخ دان ڈاکٹر فرزند مسیح کے مطابق  پتن مینارہ ایک ہندو مندر کا حصہ تھا اور یہ لگ بھگ ایک ہزار سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ اس طرزِ تعمیر کو نیکڈ یا ایکسپوزڈ برک آرکیٹیکچر کہا جاتا ہے۔

پتن پور موہن جودڑواور ٹیکسلا کی تہذیبوں کا امین رہا ہے۔ اور تاریخ میں ہندومت، بدھ مت کا خاص مرکز رہا ہے۔ اس کے کنارے بہنے والا دریا ئے ہاکڑا موسمی تبدیلیوں کے باعث خشک ہو گیا۔ دریا خشک ہونے سے پتن پور کی عظمت رفتہ رفتہ ختم ہونے لگی اور ایک وقت آیا کہ پورا علاقہ ویران ہو گیا۔ بعض روایات کے مطابق پتن منارہ  میں خزانہ دفن ہے۔ ایک روایت ہے کہ انیسویں صدی  کے  وسط میں سابق ریاست بہاولپور کے انگریز پولیٹکل ایجنٹ جن کا نام لیفٹیننٹ کرنل منچن بتایا جاتا ہے، اُنھوں نے پتن منارہ کے ارد گرد کھدائی کروائی۔ روایت کے مطابق انھیں خزانے کی تلاش تھی۔ لیکن انھیں اس وقت مجبوراً کھدائی رکوانی پڑی جب ابتدائی کھدائی کے بعد زمین سے ایسا سیاہ مادہ برآمد ہوا جس پر پراسرار قسم کے کیڑے موجود تھے۔  کہا جاتا ہے کہ وہ کیڑے کھدائی کرنے والے جس بھی مزدور کو کاٹتے تھے اس کی موقع پر موت واقع ہو جاتی تھی۔ اس کے بعد کسی نے اس جگہ کھدائی کروانے کا نہیں سوچا۔

رحیم یار خان میں دریائے ہاکڑہ کے کنارے پر آباد پتن پور جو کبھی تہذیب و تمدن کا آئینہ دار تھا، آج یہ کھنڈر اس کی داستان بتانے سے بھی قاصر ہیں۔ دریائے ہاکڑہ نے اپنا رستہ بدلا تو لوگ پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے۔ آج یہ صرف اینٹوں کا مینار باقی رہ گیا ہے۔ جو کسی وقت بھی زمین بوس ہوسکتا ہے۔ قریبی گاؤں کے پچھلی طرف سے اس مینار کا راستہ ہے۔عمارت تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں تعمیر کی گئی ہیں جو حال ہی میں بنائی گئی ہیں اور اس کے طرزِ تعمیر سے مماثلت نہیں رکھتیں۔ عمارت کی انتہائی چوڑی بنیادوں کے اوپر ایک چھوٹا سے کمرہ ہے جو مغرب کی جانب کھلتا ہے اور اس میں داخل ہونے کے لیے بھی تین چار قدم کی ایک مختصر سیڑھی بنائی گئی تھی۔ اس کے اوپر ایک اور چھوٹا سا کمرہ ہے اور اس میں بھی مغرب کی جانب ایک محراب نما جھروکہ موجود ہے۔ نچلے کمرے کی چھت اندر سے گنبدی شکل میں بنی ہے تاہم اوپر سے برابر ہے۔ عمارت کی بیرونی دیواروں پر انتہائی مہارت سے نقوش بنائے گئے ہیں۔ عمارت کی اوپری منزل حصے کے چاروں بیرونی کونوں پر مینار ہی کے شکل کے چھوٹے چھوٹے نمونے بنائے گئے ہیں۔

پتن مینار اپنے اندر بہت سی کہانیاں چھپائے ہے جو کہ کھدائی کرنے پر سامنے لائی جا سکتی ہیں۔  حکومت کو چاہیے کہ وہ پتن مینارہ کو ایک ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کا جتنا بھی حصہ باقی ہے اس کو محفوظ کر لے۔ اس کے بعد کھدائی کروا کر مزید سائنسی بنیادوں پر پتا لگایا جا سکتا ہے کہ مندر کی یہ عمارت کب، کیوں اور کس نے تعمیر کروائی اور اس کے ارد گرد کی دنیا کیسی تھی۔

شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
123