بھائی کی سمجھ داری

عروہ بتول محفوظ (بہاول پور)

سعد اور سعود دونوں بھائی تھے اور ایک زمین دار کی زمینوں میں کام کرتے تھے۔ ایک بار زمین دار شکار کرنے جنگل میں جانے لگا تو سعد کو بھی یہ سوچ کر اپنے ساتھ لے گیا کہ وہ جنگل میں میرا ہاتھ بٹائے گا اور مشکل میں میری مدد کرے گی۔ جنگل میں پہنچنے کے بعد پینے کا پانی ختم ہو گیا  تو اس نے سعدکو پانی لانے کے لیے بھیج دیا۔ انہیں کسی نے بتایا تھا کہ جو جنگل کا پانی پیتا ہے وہ جنگل کے دیو کا غلام بن جاتا ہے۔ زمین دار نے سعد کو حکم دیا کہ وہ پانی لائے، اگر پانی نہ لایا تو وہ دونوں بھائیوں کو اپنے کھیتوں میں کام نہیں کرنے دے گا ۔سعدپانی لینے کے لیے گیا تو وہ پانی میں ڈوب گیا۔کافی دیر  گزر جانے کے  بعد بھی جب سعد پانی لے کر نہ پہنچا تو  زمین دار  واپس اپنے کھیتوں میں چلا گیا۔ سعودکو اپنے بھائی سعد کے کنویں میں گرنے کا پتہ چلا تو وہ جنگل میں گیا ۔پانی کی طرف  منہ کر کے کہنے لگا۔ اے جنگل کے اچھے دیو! میں پیاسا ہوں کیا تم مجھے پانی دو گے۔ دیو نے اپنی تعریف سنی اور کہنے لگا ہاں اے لڑکے تم پانی لے سکتے ہو ۔سعودنے کہا کہ اےنیک صفت  دیو!کیا تم میرے ساتھ میرے گاؤں چلو گے تاکہ میرے گاؤں کے لوگ بھی اپنی پیاس بجھا سکیں ۔دیو اس کے ساتھ چلنے پر  تیار  ہو  گیا۔ سعود اسے لے کر صحرا میں پہنچ گیا۔صحرا میں گرم ریت کی وجہ سے دیو سے چلا نہیں گیا وہ چلایا کہ تم کیا کر رہے ہو ۔سعود نے ہنستے ہوئے کہا کہ میں تم سے بدلہ لے رہا ہوں ۔تم نے میرے بھائی  کو غلام بنا رکھا ہے ۔ گرم ریت میں دیو پانی پھینکتا گیا ، حتیٰ کہ اس کا پانی ختم ہو گیا ۔ وہ دیو صحرا میں دم توڑ گیا اور اس کی قید میں گرفتا ر تمام لو گ رہا ہو گئے ۔ سعدبھی اپنے بھائی  کے پاس لوٹ آیا۔ دونوں بھائی  مل کر بہت خوش ہوئے اور  لوگوں کو جنگل کے دیو سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ مل گیا ۔

شیئر کریں
489