اقوال زریں

   * جس امت کو قبرستان سے گزرتے وقت مردہ کو سلام کرنے کا حکم ہے وہ اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ زندہ کو بھی بغیر مطلب سلام نہیں کرتے

کڑوی زبان والے کا شہد نہیں بکتا جبکہ میٹھی زبان والے کی مرچیں بھی بک جاتی ہیں *

مہرمہ خان، دہم، کوٹ سلطان ،لیہ

.کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ دل دکھانا ہے  

.علم وہ نہیں جو آپ نے سیکھا ہے علم تو وہ ہے جو آپ کے عمل اور کردار سع واضع ہو۔

توکل وہ ہے کہ آدمی اللہ کے سوا کسی سے اُمید نہ رکھے

ایسی خوشی سے بچو جو دوسروں کو دکھ دینے سے حاصل ہوتی ہو۔

دل میں اُترنے کے لیے سیڑھی نہیں بلکہ اچھے اِخلاق کی ضرورت ہوتی ہے

علم ایک روشن چراغ ہے جو اندھیرے میں روشنی دِکھاتا ہے۔

اپنے اخلاق کو پھول جیسا بنا لو تاکہ پاس بیھٹنے والا خوشبو حاصل کر لے

تین چیزوں کو ہمیشہ حاصل کرو یعنی علم ، اخلاق اور شرافت

محمد ثقلین، کلاس دہم، گورنمنٹ ہائی سکول ،لیہ

حکا یات سعد ی

۔ زندگی  کی درازی کا راز صبر میں پوشیدہ ہے۔
۔ا گر تم چاھتے ہو کہ تمہارا نام با قی رہے تو اولاد کو اچھے ا خلا ق سکھا  وّ۔
۔اگرچہ ا نسا ن کو مقدر سے زیاد ہ رزق نہیں ملتا ۔لیکن رزق کی تلا ش میں سُستی نہیں کر نی چا ہیے ۔
۔جو شخص دو سرو ں کے غم سے بے غم  ھے آ د می کہلا نے کا مستحق نہیں۔
۔دشمن سے ہمیشہ بچو اور دوست سے اُس وقت جب وہ تمہا ری تعر یف کر نے لگے

اریج شاہین ، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، ٹی،ڈی، اے، لیہ

۔احمق کی دوستی سے احتراز لاز م ہے۔

۔رشتے خون کے نہیں ،احساس کے ہوتے ہیں اگر احساس ہوتو اجنبی بھی اپنے ہو جاتے ہیں ۔اگر احساس نہ ہوتو اپنے بھی اجنبی ہوجاتے ہیں ۔

۔انسان جب تک اپنا مو ل نہیں لگاتا ،انمو ل کہلاتا ہے۔

۔وقت کی ایک عادت بہت اچھی ہے جیسا بھی ہو ، گزر جاتا ہے ۔

۔دوسروں کو نصیحت کے پھول دیتے وقت خود ان کی خوشبو لینا نہ بھولیں ۔

۔غلطی ماننےاور گناہ چھوڑنے میں کبھی دیر مت کریں ۔

۔امید آدھی زندگی ہے او ر مایوسی آدھی موت ہے۔

۔ان لوگوں سے محتاط رہو جو باتوں میں مٹھاس اور دل میں زہر رکھتے ہیں

: پرویز اقبال جماعت: دہم گورنمنٹ ہا ئی سکول چک نمبر 116اے ٹٰی ڈی اے لیہ

عذاب کی تلخی گناہ کی شیرینی کو بھلا دیتی ہے۔

جس طرح شبنم سے کنواں نہیں بھر سکتا اسی طرح حریصوں کی آنکھ کا کاسہ دنیا سے نہیں بھر سکتا.

اچھی تعلیم تو ضروری ہے ہی، اچھی تربیت اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

علماء کی صحبت اور کتب حکمت کے مطالعہ سےمسرت بخش زندگی حاصل ہو سکتی ہے۔

اگر تم غلطیوں کو روکنے کے لیے دروازے بند کر دو گے تو سچ بھی باہر رہ جائے گا

آمنہ کنول ، کلاس پنجم، گورنمنٹ گرلز سکول، جھگڑہ ماہنڑہ

جو ایمان رکھتا ہے۔اُسے کہ دو پڑوسی پر کرم کرے۔ ( حدیث شریف )
اللہ تعالیٰ کو توبہ کرنے والے کی آواز زیادہ محبوب ہے۔ ( حدیث بُخاری )
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے دل مسجد میں اٹکے رہتے ہیں۔
مسلمان بوڑھے کا ادب کرنا ایسا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ کا ادب کرنا۔ ( مفہوم حدیث )
-گناہ سے پرہیز کرنا ثواب حاصل کرنے سے بہتر ہےزیادہ۔ (حضرت علیؓ )
-بیماری میں گناہ پت جھڑ میں پتوں کی طرح جھڑتے ہیں۔
-جہالت عیب ہے۔علم کے باوجود عمل نہ ہوناسب سے بڑا عیب ہے۔
-گناہ کا موقع نہ ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔
-جب زبان کی اصلاح ہو جاتی ہےتودل بھی صالح ہو جاتا ہے۔
-دل کو روشن کرنا ہو تو غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرو۔ (امام شافعی)

محمد اعظم، جماعت نہم، گورنمنٹ ہائی سکول ،جھلاریں شمالی، مظفر گڑھ

 دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔ (لاہور30 اکتوبر،1947)۔

انصاف اور مساوات میرے رہنماء اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔ (قانون ساز اسمبلی 11 اگست ، 1947)۔

 دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے انسانیت کے مجرم ہیں۔ (مسلم یونیورسٹی یونین 1944)۔

 پاکستان کی داستان ، اس کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول، رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے رہنماء رہے گی کہ کس عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔ (چٹاگانگ 23 مارچ ، 1948)

عائشہ بی بی، کلاس ہشتم، گورنمنٹ گرلز ایلیمنٹری سکول ،ٹبہ سلطان پور

 اگر آپ میں جذبہ ہے تو آپ ایک فرد ہو کر بھی ادارے کے برابر کام کر سکتے ہیں۔
آپ کی امامت میں بننے والی صفیں اور آپ کے جنازے میں بننے والی صفیں یہ بتاتی ہیں کہ آپ کتنے بڑے انسان ہیں۔
 اللہ کریم سے وہ عقل مانگیں جو آپ اور آپ سے وابستہ لوگوں کے کام آسکے۔
 کبھی سوچیں چلے کہاں سے تھے اور پہنچ کہاں گئے۔۔۔۔۔۔پھر شکر ادا کریں۔
 جڑیں مضبوط ہوں تو بلندی نصیب میں لکھ دی جاتی ہے۔
 گذشتہ سے پیوستہ رہنے والا انسان ،امید بہار نہیں رکھ سکتا۔
 وہ استاد کمال کا انسان ہے ،جواپنے اخلاق اور کردار سےآپ کی زندگی کو بدل کر رکھ دے۔
 اندھی عقیدت سوال چھین لیتی ہےاور سوال ہی علم تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
 بچوں کوشعور دیں۔۔۔۔۔۔۔انتخاب وہ خود کر لیں گے۔
 دکھ یہ نہیں کہ ہمارے نظام میں امامت اچھی نہیں ہے . . . . . دکھ یہ ہے کہ یہ نظام اچھا امام پیدا نہیں کر رہا۔

محمد ذوالکیف، کلاس نہم، گورنمنٹ ہائی سکول کھڑکن، عزیز آباد نمبر 1
شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •