رنگا رنگ

عجیب و غریب انعام

کسی شخص نے  خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں ایک حیرت انگیز کرتب دکھانے کی اجازت چاہی  ۔ اجازت مل گئی تو فرش کے بیچ ایک سوئی کھڑی کر دی اور کچھ فاصلے پر کئی سوئیاں  اپنےہاتھ میں لے کر کھڑا ہو گیا۔ پھر اُس نے ایک سوئی اٹھائی اور فرش پر کھڑی سوئی کا نشانہ کیا۔ حاضرین کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ دوسری سوئی پہلی سوئی کے ناکے میں داخل ہو کر باہر ہو چکی ہے ۔ اسی طرح اُس نے دس سوئیاں پھنکیں اور دس کی دس پہلے والی سوئی کے ناکے سے باہر ہو گئیں۔ ہارون الرشید نے یہ حیرت انگیز کمال دیکھا تو حکم دیا  کہ اس شخص کو دس دینار انعام میں دیےجائیں اور دس کوڑے لگائے جائیں۔ حاضرین نے جب اس عجیب و غریب انعام کی وجہ پو چھی تو ہارون الرشید نے بتایا  کہ دس دینار اس کی ذہانت اور نشانے کی سچائی کا انعام ہےاور دس کوڑے اس بات کی سزا ہے کہ اس نے اپنی صلاحیتیں اور اپنا قیمتی وقت ایسے کام میں ضائع  کیا جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں۔

ثریا فیض، جماعت ششم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چیلے واہیں، ضلع لودھراں

استاد کی عظمت اشعار کے آئینے میں

اقوام عالم کے عروج و زوال کی داستانوں کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہیں جو تعلیم و تدریس کے شعبے کو بنیادی اہمیت دیتی ہیں۔ تعلیم و تعلم کے پورے عمل میں استاد ایک مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ مہذب معاشروں کے تمام طبقات اپنے اساتذہ کو مثالی عزت و تکریم دیتے ہیں۔ دنیا کی تمام اہم زبانوں کی طرح اردو نظم و نثر نے بھی اساتذہ کی اہمیت اور فضیلت کو بخوبی اجاگر کیا ہے۔ اردو شعراء کی طرف سے اساتذہ کو پیش کیے گئے خراج عقیدت کے چند نمونے درج ذیل ہیں۔

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت

ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمھارے نعمت

(الطاف حسین حالی)

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا

وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

(چکبست برج نرائن)

وہی شاگرد پھر ہوجاتے ہیں استاد اے جوہر

جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں

(لالا مادھو رام جوہر)

محروم ہوں میں خدمات استاد سے منیر

کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا

(منیر شکوہ آبادی)

عبد الوہاب، جماعت دہم ، گورنمنٹ بخاری پبلک ہائی سکول، ولایت آباد نمبر 2 ملتان

حُسن معاشرت

انسان جس معاشرے میں رہتا ہے وہاں کے لوگوں سے اس کا تعلق قائم ہو جاتا ہے، اس تعلق کو اچھے طریقے سے انجام دینا حُسن معاشرت ہے۔ اس تعلق میں نہ صرف والدین، رشتہ دار اور دوست شامل ہیں  بلکہ اس میں محلہ، وطن، قوم کے لوگ حتیٰ کہ حیوانات اور نباتات بھی شامل ہیں۔ چنانچہ حُسن معاشرت یہ ہے کہ اپنے پورے ماحول اور اس کے تمام افراد کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں، ان کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے ، ہر انسان کا احترام کیا جائے، ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے اور ہر ایک کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے۔

منیزہ انور، جماعت ہشتم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 336 ٹی ڈی اے، ضلع لیہ

استاد کا مقام

استاد ایک ایسی شخصیت ہو تی ہے جس کے بارے میں   جتنالکھا یا بیان کیا جا ئے کم پڑجا تا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا  فرمان ہے کہ مجھے اس دنیا میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ استاد اپنے شاگرد کو اچھا انسان بنانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور شاگرد کی زندگی میں استاد کا بہت  اہم کردار ہو تا ہے ۔ استاد اپنے شاگرد کو ہمیشہ کامیاب دیکھنا چا ہتا ہے ۔  حضرت علی  کرم اللہ  وجہہ کا قول  ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میراآقا قرار پایا ۔ استاد ہی ہے جو ہمیں کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے ، ہمیں بھلائی ، سچائی اور اچھائی کا سبق دیتا ہے اور اس دنیا میں تعلیم کے میدان میں انسان جتنی کامیابی کر رہا ہے ، اس میں سب سے اہم کردار استاد کا ہے ۔ استاد کی عزت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ استاد ایک ایسی  ہستی ہے جس کے جوتے اٹھانے میں خلیفہ وقت کے  بیٹے بھی فخر محسوس کرتے تھے۔

اسماء خان،جماعت ہفتم، گورنمنٹ گرلز ایلیمنٹری سکول واں پتافی،مظفرگڑھ

پہلے تولو پھر بولو

ایک حدیث پاک کا مفہوم  ہے کہ  جو کوئی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیئےکہ یا تو اچھی بات کرے یا خاموشی اختیار کرے۔ہمارے الفاظ لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اچھے الفاظ ہمیشہ اچھا اثر چھوڑ تے ہیں۔ آپ کے کہے اچھے الفاظ کسی کو ساری زندگی تحریک دے سکتے ہیں۔ آپ کی کسی کے منہ پر دی گئی دعا کسی کے لیے  تا حیات ہدایت کا باعث بن سکتی ہے۔ ممکن ہے آپ کو اچھے الفاظ سننے کو نہ ملے ہوں مگر کوشش کریں کہ آپ خود دوسروں کے لیے باعث خیر اور باعث برکت بنیں،  کوئی معمولی سی اچھائی بھی کرے تو  اس کے منہ پر شکریہ ادا کریں۔ اسے دعا دیں۔آپ بھول جائیں گے مگر آپ کے مثبت الفاظ کسی کے دل پر ہمیشہ نقش ہو جائیں گے اور اللہ کے پاس سے آپ کو مسلسل اجر ملتا رہے گا۔اسی  طرح برے الفاظ کسی کو ہمیشہ کے لیے دل برداشتہ کردیتے ہیں، آپ کے طنزیہ الفاظ کسی کو ہمیشہ کے لیے دین سے یا الله سے یا خوشیوں سےیا زندگی سے دور کرسکتے ہیں۔ یہ  آپ کے لیے مسلسل گناہ کا باعث بنے رہیں گے حتیٰ کہ آپ کی موت کے بعد بھی کسی کے  کے دل پر لگے آپ کے لفظوں کے زخم آپ کو گناہ دلواتے رہیں گے۔

عاتکہ عامر، جماعت ہشتم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 281-83 ڈبلیو بی، دنیاپور، ضلع لودھراں

لائبریری

آج اتوار ہے۔ اسلم لائبریری کی طرف جا  رہا ہے۔ لائبریری اس کے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔ وہ ہر اتوار وہاں جانا پسند کرتا ہے۔ وہ وہاں اپنے دوستوں سے ملنے جا رہا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اچھی اور پرسکون جگہ پر پڑھنا پسند کرتا ہے۔ لائبریری میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ اسلم کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں پڑھنا پسند ہے۔ ایک گوشہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق کتابوں کے لیے مختص ہے۔ وہ کچھ کتابیں اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ چند گھنٹے پڑھنے میں صرف کرتا ہے۔ پڑھنا اچھی عادت ہے۔ یہ اسے ہمیشہ خوش کرتا ہے۔ حکومت نے جنوبی پنجاب میں لائبریریاں قائم اور اپ گریڈ کی ہیں۔ ہر طالب علم کو علم حاصل کرنے کے لیے لائبریری میں وقت گزارنا چاہیے۔

محمد شعیب، جماعت دہم، گورنمنٹ ہائی سکول جھوک لشکر پور، ملتان

مہمان نوازی

رحمت اللعالمین ،  حضرت  محمد مصطفیٰ  صلی اللہ  علیہ  وآلہ وسلم نے  ارشاد فرمایا کہ   جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔ مہمان کی خصوصی ضیافت (خاطر مدارت) ایک دن اور ایک رات تک ہےاور عمومی ضیافت تین دن اور تین راتوں تک ہے۔ تین دن بعد بھی ( اگرمیزبان بوجھ نہ سمجھے اور) مہمان کی ضیافت کرے تو یہ صدقہ شمار ہوگا۔

نمرہ بی بی، جماعت دہم، گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری سکول مون لائٹ، ملتان

ہدایت مانگنا شرط ہے

ہدایت سُننے میں لفظ بہت چھوٹا ہے لیکن معنی بہت وسیع رکھتا ہے ۔ ہدایت اُسی انسان کو ملتی ہے جو ڈھونڈتا ہے اور اسے پانے کی کوشش کرتا ہے اور جو پا لیتا ہے، وہ غنی ہو جاتا ہے۔ اس  لیے کچھ اور مانگیں یا نہ مانگیں ہدایت ضرور مانگا کریں ۔ یہ بھی صرف انہی  لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جنہیں ربّ العالمین اپنا قرب دینا چاہتا ہے ۔  دعا ہے کہ اللّٰہ  ہمیں بھی  اپنے  ان لوگوں میں  شامل کرے۔

عا ئشہ اقبال، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مہرآباد، لودھراں

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

احساس ایک خوب صورت جذبہ ہے اور اپنی ذات کا احساس انسان کاپہلاحق ہے مگرجو دوسروں کا احساس کرتے ہیں وہ عظیم تر ہوتے ہیں۔ احساس ہی انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتاہے۔ خواجہ میر درد نے کیا خوب کہا ہے کہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

کلثوم مختیار، جماعت نہم ، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نواں کوٹ، تحصیل خان پور، ضلع رحیم یار خان

علم روشنی  ہے

علم کے بغیر انسان اندھیرے میں ہوتا ہے۔ علم انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔ علم کے معنی جاننا  اورآگاہی حاصل کرنے کے ہیں۔ علم کا مطلب یہ نہیں کہ ہم چند کتابیں یاد کرلیں بلکہ علم کا مطلب ہے  یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی ہر طرح کے پہلوؤں سے آگاہی حاصل کی  جائے۔ ہر شخص اس معاشرے میں باعزت زندگی گزارنا چاہتا ہے لیکن باعزت زندگی علم کے بغیر ممکن نہیں۔ علم انسان کے اندر کچھ نیا جاننے کی لگن لاتا ہے۔ علم انسان کو  برے راستوں سے بچاتا ہے۔ اسلام نے بھی علم کی اہمیت پر زور ڈالا ہے۔ علم انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہوتا ہے۔  علم حاصل کرنا ہر  مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔  علم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ  وآلہ وسلم نے فرمایا کہ  علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

محمد ناصر، جماعت ہفتم، گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول کوٹ مبارک، ڈیرہ غازی خان

اسلام میں علم  کی اہمیت

اسلام نے علم کے حصول کے لیے بہت حوصلہ افزائی کی۔ سرور  کائنات  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترنے والی پہلی آیت اقراء تھی جس کا مطلب ہے پڑھنا۔ ۔ قرآن  پاک نے بنی نوع انسان پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے علم کے بارے میں سوچیں، غور کریں اور حاصل کریں جو انہیں خدا اور اس کی تخلیق کے قریب لے آئے۔  آنحضرت  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو علم حاصل  کرنے  کا حکم فرمایا  اور ان پر زور دیا کہ جہاں تک وہ پہنچ سکیں علم حاصل کریں اور ہر وقت اس کی تلاش کریں۔  حضرت  علی المرتضیٰ کرم اللہ  وجہہ  کا فرمان ہے کہ میں اس شخص کا غلام رہوں گا جو مجھے لکھنا پڑھنا سکھاتا ہے ۔ ان احکامات اور روایات پر عمل کرتے ہوئے  مختلف  ادوار میں  مسلم حکمرانوں نے اصرار کیا کہ ہر مسلمان سیکھنے کا حصول کرے اور انہوں نے علمی  اداروں  کی تشکیل میں نمایاں  کردار ادا کیا۔ 

ندا راشد، جماعت نہم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول خیابان سرور، ڈیرہ غازی خان

رات کو سورج کہاں چلا جاتا ہے

سورج رات کو بھی بالکل اسی جگہ ہوتا ہے۔ جہاں دن میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنی جگہ بدلتا ہے تو وہ ہماری اپنی زمین ہے۔ رات اور دن اس لیے  ہوتے ہیں کیونکہ ہماری زمین مستقل گھوم رہی ہے۔ یہ چوبیس  گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرتی ہےتو اس کا مطلب ہے کہ اس وقت ہم زمین کے اس زاویےپر کھڑے ہیں جہاں سورج کی روشنی نہیں پڑ رہی ہے۔ اسی لیے جس وقت ہم گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت  سورج زمین کی دوسری طرف چمک رہا ہوتا ہے اور وہاں کے رہنے والے صبح صبح اپنے  کاموں کے لیے نکل رہے ہوتے ہیں۔ اگر کراچی میں رات کے نو بجے  نیو یارک فون کیا جائے تو وہاں اسی  وقت چمکتی دوپہر ہوتی ہے۔ لوگ اپنے کاموں میں اور دفتروں میں مشغول ہوتے ہیں۔

عریشہ سہیل، جماعت ششم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول لودھراں سٹی

دلچسپ و عجیب

٭ انڈا وہ واحد مائع  چیز ہے جو گرم کرنے پر جم جاتی ہے۔

٭ شکرا وہ واحد پرندہ  ہے جو ہوا میں کھڑا ہو سکتا ہے۔

٭کولمبیا کا دریائے  رائیووفاگری  دنیا کا  وہ  واحد  دریا ہے جس میں کوئی  مچھلی نہیں۔

٭ نظام شمسی کے سیاروں میں سب سے چھوٹا سیارہ نیپچون ہے۔

٭ دنیا میں سب سے زیادہ پیدا ہونے والی سبزی آلوہے۔

٭ ہوا ایک ایسی   چیز ہے جو سورج کے سامنے ہوتی ہے مگر اس کا سایہ نہیں ہوتا۔

٭ کیلے کا  درخت  وہ واحد درخت ہے جس میں لکڑی نہیں ہوتی۔

وردہ جاوید، جماعت ہفتم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چک نمبر 363 ڈبلیو بی،لودھراں

کیا  آپ جانتے ہیں؟

٭ دنیا میں سب سے پہلے سورج جاپان میں طلوع ہوتا ہے اس لیے اسے چڑھتے سورج کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے۔

٭ مسجد الحرام دنیا کی واحد مسجد ہے جس میں کوئی محراب موجود نہیں ہے۔

٭ دنیا کا سب سے قدیم شہر دمشق ہے۔

٭ پاکستان کے پہلے صدر جنرل سکندر مرزا تھے۔

٭ پاکستان میں انسانی ہاتھوں سے لگایا گیا سب سے بڑا مصنوعی جنگل چھانگا مانگا لاہور میں ہے۔

محمد محبوب ، جماعت نہم، گورنمنٹ ہائی سکول بیلے والہ، مظفر گڑھ

پنجاب کا ثقافتی  دن

انسانی زندگی کے ارتقاء اور بقاء میں تہذیبی اقدار وتمدن کو بےحد اہمیت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کے دنیا میں ہر قوم کسی نہ کسی سطح پہ اپنی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیےکسی نہ کسی دن کا انتخاب کرتی ہے۔بالکل اسی طرح  پاکستان میں موجود مختلف قسم کی روایتوں کے بقاء اور تسلسل کے لیے قومی، صوبائی اور علاقائی سطح پر تہواروں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔آبادی  کے لحاظ  سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی ایسا ہی ایک دن منایا جاتا ہے۔پنجاب  کی زمین متنوع روایات کی امین ہے۔اس کے پانچ دریا  سیرابی کے ساتھ ساتھ انسانی تاریخ کے بہت  سے روشن پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں ۔   صوبہ  پنجاب میں ہر سال چودہ مارچ کو پنجاب  کا ثقافتی  دن بڑے جوش و جذبہ سے منایا جاتا ہے۔ اس دن پنجاب  میں بسنے والے لوگ اپنی قدیم ثقافتی اقدار جن میں  پنجاب لوک رقص،لوک موسیقی، جھومر ،کبڈی و دیگر  مقامی  کھیلوں کے  علاوہ  ساگ اور مکئی جیسے روایتی کھانوں کی نمائش کرتے نظر آتے ہیں ۔ گدا ، لڈی اور کوکلا چھپاکی جیسے مقامی کھیلوں کو بچیاں اپنی ہم جولیوں کےسنگ نہایت خوب صورت انداز میں پیش کرتی ہیں۔ہیر رانجھااور سوہنی  مہیوال  جیسے لازوال کرداروں کو پیش  کیا جاتا ہے۔الغرض پنجابی تہذیب و تمدن کوپر کشش انداز میں بیان کرنا اور اس کی قدیم روایات کی چھاپ کو برقرار رکھتے ہوئے پنجاب میں بسنے  والے لوگوں  تک اس ورثہ کی حفاظت کرنا ہی اس دن کو منانے کا اصل مقصد ٹھہرتا ہے۔

فاخرہ سلطان، جماعت دہم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چوبارہ، ضلع لیہ

دلچسپ معلومات

٭ چاند پر سب سے پہلے گالف کا کھیل کھیلا گیا۔

٭ فرانس کے بادشاہ لوئی چہاد دہم کے منہ میں پیدائش کے وقت دو دانت تھے۔

٭ جاپان کا شہر ٹوکیو وہ واحد شہر ہے جہاں کوئی فقیر نہیں۔

آفتاب حسین ، جماعت ششم، گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری سکول547 ای بی، ضلع وہاڑی

زندگی جسم ہے تو  جدوجہد  اس کی  روح

ہماری زندگی کی بھی ایک زندگی ہوتی ہے اور وہ ہے اس میں کی جانے والی جدوجہد۔ اگر جدوجہد کا پہلو زندگی سے نکال دیا جائے تو اسے ہم شرمندگی تو کہہ سکتے ہیں مگر زندگی نہیں۔ اور یاد رہے کہ جدوجہد کی ضرورت  ہمیں اپنے آپ کو صرف برے وقت سے نکالنے کے لیے ہی نہیں پڑتی بلکہ اس کی ضرورت ہمیں اپنے آپ کو اچھے وقت میں سنبھالنے کے لیے بھی پڑتی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر زندگی جسم ہے تو جدوجہد اس کی روح ہے اور روح کے بغیر جسم زندہ لاش کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

محمد ظہیر افضل چشتی، گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول اوچ موغلہ، ضلع بہاول پور

چیونٹی اور عقاب

اے عقاب ! مجھے ایک بات تو بتا۔ لوگ مجھے پاؤں کے نیچے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ میں ذلیل و خوار ہوں۔ دن رات کی محنت اور مشقت کے باوجود پریشان اور دکھی ہوں۔آخر اس کا سبب کیا ہے؟رزق کے لیے جدوجہد تو میں بھی کرتی ہوں اور تو بھی کرتا ہے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کے قدموں تلے پامال ہو کردن رات دکھ سہتی ہوں اور تیرا مقام و مربتہ ستاروں سے بھی بلند ہے؟

اے چیونٹی !اپنی پریشانی اور دکھ کا باعث تو خود ہے۔ تیر ی پامالی ، ذلت وخواری ، پریشانی اور دکھ درد کا باعث یہ ہے کہ تو اپنا رزق راستے کی خاک سے تلاش کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ ہر راہ چلنے والا تجھے روندتا ہوا گزر جائے اور تود کھ اٹھاتی رہے۔ جو بھی اپنا رزق راستے کی خاک میں تلاش کرے گا اور راستہ چلنے والوں کےپیروں تلے آکر اس طرح دکھ اور تکلیف اٹھائے گا۔ تیر ی طرح رزق کے لیے جدوجہد تو میں  بھی کرتا ہوں لیکن تیری جدوجہد  خاک تک محدود ہے جب کہ میں رزق کی تلاش کرتے ہوئے آسمانوں کو بھی نگاہ میں نہیں لاتا۔

علامہ اقبال ؒ نےا س نظم میں چیونٹی اور عقاب کی زندگی کا موازنہ کیا ہے۔ چیونٹی اور عقاب کے مکالمے کے پیرائے میں انہوں نے ہمیں بتا یا ہے کہ رزق کی تلاش کے لیے جدوجہد تو سب ہی جان داروں کو کرنی پڑتی ہے لیکن جدوجہد کا میدان ہر ایک کے عزم و حوصلے اور ہمت و طاقت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ اونچا مقام و مرتبہ ان ہی کا حق ٹھہر تا ہے جن کی جدوجہد کا میدان دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ عزت کے حق دار وہ ٹھہرتے ہیں جو رزق کی تلاش میں زمین سے چمٹے رہنے کی بجائے آسمانوں کی بے کراں فضاؤں کو کھنگال ڈالتے ہیں ۔ چیونٹی اس لیے ذلیل و خوار ہے کہ وہ راستے کی خاک سے اپنا رزق تلاش کرتی ہے۔ اس کےمقابلے میں عقاب اس لیے ارجمند ہے وہ تلاش رزق میں آسمانوں کی بے کراں وسعتوں کا بھی خاطر میں نہیں لاتا۔

علیشا سحر، جماعت نہم، گورنمنٹ اسلامیہ گرلز ہائی سکول دولت گیٹ ملتان

اسٹیٹ  لائبریری ماسکو

کتاب کو انسان کا بہترین ساتھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ کتاب آپ کے ساتھ ہو تو نہ آپ کو تنہائی کا احساس ہوتا ہےاور نہ ہی بوریت کا۔ گو کہ الیکٹرانک میڈیا نے کتابوں تک انسانوں کی رسائی آسان بنا دی ہے تاہم اس میں مطالعہ فروغ پانے کی روایت دم توڑتی جارہی ہے، محض  چند الفاظ لکھ کر آپ اپنا مطلوبہ مواد تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اس سے صرف وقت کی بچت ہی ہوتی ہے۔ اگر ہاتھوں میں کتاب ہوگی تو آپ کی دنیا کتاب ہے۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال درحقیقت انسان کو کتاب سے دور کرنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ دنیا میں ایسی بہت سی لائبریریاں موجود ہیں ۔جن میں موجود نایاب کتب آپ کو انٹرنیٹ سے بھی نہیں ملیں گی۔روس کے تاریخی شہر ماسکو میں واقع سٹیٹ لائبریری ایک بڑا علمی ذخیرہ رکھتی ہے۔ یہاں ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد کتب موجود ہیں۔ اس میں روسی ادب کا ایک بڑا ذخیرہ ہے۔روسی فن تعمیر کے حوالے سے بے شمار کتابیں ہیں۔ یہاں پر تقریبا اڑھائی سو مختلف زبانوں میں لکھی گئی کتابیں موجود ہیں۔

محمد فرحان، جماعت ششم، گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول کوٹ مبارک، ڈیرہ غازی خان

دلچسپ معلومات

٭ماچس 1826ء میں  برطانیہ  کے ادویات  ساز جان واکرنے اتفاقیہ طور پرایجاد کی۔

٭شکرہ وہ پرندہ ہے جو ہوا میں کھڑا ہو جاتا ہے۔

٭ڈولفن مچھلی ایک آنکھ کھول کر سوتی ہے۔

٭جھینگےکا دل اس کے سر میں ہوتا ہے۔

٭ہمارا دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔

 ٭ایک مناسب سائز کے درخت کی لکڑی سے تقریباً 17000 پنسل بن سکتی ہیں۔

٭پیاز کاٹتے وقت چیونگم چبانے سے آنکھوں میں آنسو نہیں آتے۔

٭پاکستان کا پہلا سکہ 1948 میں جاری ہوا۔

معا زیہ کرامت، گورنمنٹ گرلز ترکش ماڈل ولیج سکول رکھ عظمت والا، ضلع راجن پور

بیٹی سے  پیار  کریں

آج بھی ہمارے  معاشرے  میں زیادہ تر لوگ ایسے  ہیں جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور انہیں تعلیم  تک نہیں دلواتے ۔ اسلام سے قبل دور جاہلیت   میں  بیٹیوں کو  پیدا  ہوتے ہی اسے مار دیا جاتا تھا۔  رحمۃ الالعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے عورت کو ماں ،بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیت سے  عزت  دی  اور وراثت  میں بھی ان کا حصہ مقرر کیا۔آج بھی دنیا میں ایسے جاہل لوگ مو جود  ہیں جنہیں اپنی بیوی  اور بیٹی کے حقوق کے بارے میں کوئی علم نہیں ۔ وہ بیوی پر تشدد کرتے ہیں اور  بیٹی کو عزت نہیں دیتے ۔ یہ سب تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ آج  لڑکیاں ائیر فورس ،آرمی ،میڈیکل سمیت  ہر شعبے میں کام کر  رہی ہیں۔ میری آپ سب سےدرخواست ہےکہ اپنی بیٹی  کو پڑھائیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکے اور اپنا مستقبل محفوظ بنا سکے۔

دیا بتول ، جماعت نہم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 250 ٹی ڈی اے، ضلع لیہ

کاروبار میں دیانت

جو شخص دھوکادے وہ ہم میں سے نہیں۔ ایک جنس کا ڈھیر اس طرح سے لگائے کہ اوپر اچھا مال ہو اور نیچے ناقص ہو یا مال میں ملاوٹ کرے یا قیمت اعلیٰ مال کی لے اور اس کے بدلےگھٹیا  مال دے۔  اسی طرح ناپ تول میں ہیرا پھیری بھی کاروبار کے سلسلے میں بہت بری اور عام قسم کی بددیانتی ہے۔ قرآن کریم میں کئی جگہ اس سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۃالرحمٰن، سورۃالشعراء، سورۃ ہود، سورۃ  الاعراف، سورۃ  الانعام اور سورۃ  بنی اسرائیل میں ایسی بددیانتی کی مذمت آئی ہے۔ سورۃالمطفّفین کا تو نام ہی اس کاروباری بددیانتی کے حوالے سے رکھا گیا ہے اور حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر اسی بددیانتی کی وجہ سے عذاب الٰہی نازل ہوا تھا۔

مریم فیاض، جماعت ہشتم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 253 ڈبلیو بی، دنیا پور، ضلع لودھراں

کیا آپ  جانتے  ہیں؟

٭ انسانی  بال اور ناخن ہر وقت بڑ ھتے رہتے ہیں۔اگر  بال نہ کا ٹے جائیں  تو ایک میٹر تک لمبے ہو نے کے بعد ان کی نشو و نما رک جائے گی۔تاہم بعض لوگوں کے بال بڑھنا بند نہیں ہو تے ۔با لوں کی سب سے زیادہ لمبائی چار میٹر ہے۔

٭ انسانی آنکھ کے  پٹھے  سب سے زیادہ کام کرتے  ہیں۔یہ دن میں تقریبا ایک لاکھ مر تبہ سکڑتے اور پھیلتے ہیں۔

٭ انسانی ہاتھ کی انگلیوں پر بہت سارے چھوٹے دائرے اور لکیریں بنی ہوتی ہیں ، یہ انگلیوں کے نشانات کہلاتے ہیں ، ہر شخص کی انگلیوں کے نشانات مختلف ہوتے ہیں۔

٭  ایک انسان اپنی زندگی میں تقریبا پچاس ٹن خوراک اور تقریباً پچاس ہزار لیٹر مائع پینے میں استعمال کرتا ہے۔

کنزہ بی بی، جماعت ششم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شریف چھجڑہ، مظفرگڑھ

آبی سکول

کینیڈا کی جھیل اونٹاریوسے متصل وسیع تر سمندر کی گہرائیوں میں بچوں کا ایک سکول تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ  آبی سکول  بلاشبہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے۔ اس عجوبے کو 1980میں تعمیر کیاگیا تھا۔ چار انچ موٹے شفاف شیشے کی مدد سے سمند کی تہہ میں کلاسیں تعمیر کی گئی ہیں۔ جہاں طلباء و طالبات سمندری ماحول میں رہ کر ہر مخلوق کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ کانچ کے موٹے خول کے باہر چاروں طرف تاحد نظر واٹر پروف بلب روشن کیے گئے ہیں تاکہ سمندر کی تہہ میں ہونے والی ہر طرح کی چہل پہل کو واضح طور پر دیکھا جا سکے۔ اس دنیا میں صرف مچھلیاں ہی نہیں اور بہت سی دوسری آبی مخلوقات بستی ہیں۔ 14515کلوگرام وزنی شارک مچھلی کو بھی یہاں منڈلاتے دیکھا جا سکتاہے۔ آبی ممالیہ ہیوی سائیڈ ڈولفن اکثر سکول کے باہر جمع ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات ان کے بچے ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ دلچسپ کرتب دکھاتی ہیں اور بعض طلبہ سے دوستی بھی کر لیتی ہیں۔ شاید یہ بات سمندری مخلوقات کو معلوم ہے کہ معصوم بچوں کے ننھے ہاتھ اپنے قلم سے ان کے روز وشب کی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ اس لیے آبی مخلوقات حیرت انگیز نظارے دکھا کر سکول انتظامیہ کے ساتھ پورا پورا تعاون کر رہی ہیں۔ کینیڈا میں آبی سکول کی تعمیر کے بعد دنیا کے مزید 45ملکوں میں زیرِ آب سکول تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ اسلامی ممالک میں برونائی اس فہرست میں شامل ہے جب کہ بنگلہ دیش میں آبی سکول کی تعمیر کا آغاز ابھی حال ہی میں ہوا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی آبی سکول کی تعمیر کے لے موزوں ترین تیمر ساحل موجود ہے مگر تاحال اس کے بارے میں سوچا نہیں گیا۔

سارہ بتول، جماعت ہفتم، گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول لیہ

تین دوست

علم،  دولت اورعزت ، تینوں ایک مقام پہ جمع تھے ۔ جب رخصت ہونے لگے تو ان کے درمیان کچھ اس طرح گفتگو ہوئی ۔

دولت نےکہا: میں جا رہی ہوں اگر مجھے تلاش کرنا ہو تو امیروں کے محلوں میں تلاش کرنا ، میں دوبارہ مل جاؤں گی ۔

علم نے کہا:میں رخصت ہو رہا ہوں اگر مجھے تلاش کرنا ہو تو تعلیمی اداروں میں تلاش کرنا ، میں پھر مل جاؤں گا ۔

عزت  چپ رہی ،وہ کچھ نہیں بولی ،دونوں ساتھیوں نے پوچھا تو خاموش کیوں ہے ؟عزت نے جواب دیا کہ میں بھی جاتی ہوں لیکن میری بات یہ ہے کہ جب ایک بار چلی جاتی ہوں تو پھر دوبارہ واپس نہیں آتی۔

حورالعین اعظم، جماعت ہشتم، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول گوگڑاں، ضلع لودھراں

قائد اعظم ریزیڈنسی زیارت

یہ عمارت صوبہ بلوچستان کے صحت افزا مقام  زیارت میں واقع ہے ۔یہ خوب صورت عمارت 1892 میں تعمیر کی گئی۔ لکڑی سے تعمیر کی گئی یہ عمارت فن تعمیر کا ایک خوب صورت  نمونہ  ہے۔ 1948 میں قائد اعظم محمد علی  جناح بیماری  کے دنوں میں ڈاکٹروں  کے مشورے سے یہاں آئے  اور اپنی زندگی کے آخری دو ماہ دس دن اس رہائش  گاہ پر قیام کیا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد اس عمارت کو قائد اعظم ریزیڈنسی کا نام دے کر قومی ورثہ قرار دے دیا گیا ۔ اس عمارت میں قائد اعظم کے زیر استعمال رہنے والی اشیا کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے ۔ پاکستان کے سو روپے کے کرنسی نوٹ کی پشت پر اس عمارت کی  تصویر  موجود ہے ۔

لائبہ نثار، جماعت ہشتم، گورنمنٹ گرلز ہائیرسکینڈری سکول جلہ ارائیں، ضلع لودھراں

سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

شیخ سعدی ؒسفر کر رہے تھے کہ ایک بستی سے گزرے ۔بستی کے کتے زور و شور سے بھونکتے ہوئے شیخ سعدی ؒکی طرف لپکے۔  شیخ صاحبؒ زمین کی طرف جھکے تاکہ کوئی ڈھیلایا پتھر وغیرہ اٹھا کر کتوں کی طرف پھینکیں یا کوئی لکڑی اٹھا کر کتوں کو ڈرائیں۔ مگر زمین بہت پختہ اور صاف تھی کہ کچھ بھی شیخ صاحبؒ کے ہاتھ نہ لگا۔بڑے درد  دل سے بولے کہ اے خدا ! یہ کہاں آ پہنچا ہوں؟ یہاں کتے تو چھوڑ دیے گئے ہیں مگر پتھر باندھ دیے گئے ہیں۔

جہانگیربدر، جماعت سکینڈ ایئر، گورنمنٹ بوائز ہائیر سکنڈیری سکول کوٹ مبارک، ضلع ڈیرہ غازی خان

بڑھتی ہوئی آبادی اور کھیل کے میدان

کبھی وہ وقت بھی تھا جب کھیل کے میدان ہوا کرتے تھے اور بچوں کو اس میں کھیل کود اور اس سے متعلقہ سر گرمیوں کا موقع ملتا تھا۔ لیکن وقت بدل رہا ہے اور آبادی ایک بہت بڑی شرح سے بڑھ رہی ہے ۔کھیل کے میدان سرکاری و غیر سرکاری عمارات میں بدل رہے ہیں ۔کھیل کود زندگی کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ کھیل کود اور جسمانی ورزش سے جسم پھرتیلا اور طاقت  ور جب  کہ  ذہنی طور پر انسان تروتازہ رہتا ہے  ۔ بدقسمتی سے اب کھیل کود گلی کوچوں اور گھر کے صحنوں میں محدود ہو گئے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ ہم سب کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا جائے اور کھیل کے میدانوں کو آباد رکھا جائے۔

سید مہدی رضا، جماعت نہم، گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ سلطان، ضلع لیہ

قوس قزح کیا ہے

بارش تھمے، بادل چھٹ جائیں اور سورج اپنا چمکتا دمکتا مکھڑا نکالے تو بعض وقت اس کے بالکل سامنے آسمان پر ایک رنگین کمان سی بن جاتی ہے۔ اسے قوس قزح یا دھنک کہتے ہیں۔ یہ صرف دن میں دکھائی دیتی ہے۔ رات میں نہیں، کیونکہ یہ سورج کی روشنی ہی سے بنتی ہے۔ سورج کی روشنی ظاہر میں سفید نظر آتی ہے لیکن اصل میں اس کے اندر مختلف رنگ کی کرنیں ہوتی ہیں جو آپس میں گڈمڈ ہونے کی وجہ سے الگ الگ دکھائی نہیں دیتیں۔ جب یہ کرنیں شیشے یا پانی میں گزرتی ہیں ٹیڑھی ہو کر الگ الگ ہو جاتی ہیں اور ہم ان کے رنگ جدا جدا دیکھ سکتے ہیں۔

محمد عدنان، جماعت ہشتم، گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 154تھری ایل، ہارون آباد، ضلع بہاولنگر

دلچسپ معلومات

٭ البرٹ آئن سٹائن کی تاریخ، جغرافیہ اور زبانوں میں تعلیمی کارکردگی کمزور تھی۔ لہذا اسے بغیر کسی ڈپلومہ حاصل کیے اسکول چھوڑنا پڑا۔

٭ ارشمیدس نے اپنی  زندگی کا بیشتر حصہ سسلی میں گزارا۔ جہاں بادشاہ ہائرن دوم  کے ساتھ اس کے گہرے مراسم تھے۔

٭ سولہ سال کی عمر میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے پر میری  کیوری نے سونے کا تمغہ حاصل کیا، اپنے والد کی مالی تنگ دستی کے باعث مادام کیوری کو بحیثیت استاد کام کرنا پڑاتھا۔

٭ مسلمان ریاضی دان الخوارزمی کو الجبرا کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔

٭ ابن زہر(1091ء تا 1161ء) مسلمان ماہرطب تھے جنہوں نے پوسٹ مارٹم اور سرجری کی ابتدا کی۔

انیلا بی بی، جماعت دہم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول باغ والا، ضلع لیہ

حکایت سعدی

موسم سرما کی ایک رات بادشاہ کسی ضرورت سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک غلام جو پہرے پر کھڑا تھا سردی کی شدت سے اس کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے ۔بادشاہ نے یہ دیکھا تو اس کا دل بھر آیا ۔وہ بولا میں تمہارے لیے کوئی ایسی چیز بھجواتا ہوں جو تجھے سردی سے بچائے ۔ یہ کہہ کر بادشاہ محل واپس گیا لیکن محل جاکر بادشاہ کو اپنی بات بھول گئی ۔اس رات بے چارے غلام نے دوہری زحمت اُٹھائی اک سردی کی ،دوسری انتظار کی ۔ اس لیے شیخ سعدی فرماتے ہیں کسی سے ایسی بات  نہ  کہو جس کے انتظار سے اسے کبھی نیند نہ آئے۔

تانیہ نازک، جماعت ہشتم ، گورنمنٹ گرلز ایلمنٹری سکول مصراں والا، ضلع ملتان

کیا آپ جانتے ہیں

٭ ترکی کا قومی نشان بھیڑیا ہے۔

٭ صوبہ سندھ کو وادی مہران بھی کہا جاتا ہے۔

٭ پاکستان کے قومی ترانے میں اردو زبان کا ایک لفظ استعمال ہوا  اور وہ لفظ (کا) ہے۔

٭ چلی کا ایک ریگستان اٹاکاما ہے، وہاں آج تک بارش نہیں ہوئی۔

محمد بلال ، جماعت ششم، گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری سکول چک نمبر 547/ ای بی، ضلع وہاڑی

عقل داڑھ کا عقل سے کیاتعلق ہے؟

شاید کبھی آپ کے دانت ہلنے لگے ہوں یا ہل چکے ہوں۔ ایسا اس لیے  ہوتا ہے کہ  مسوڑھوں کے اندر دوسرے مضبوط اور بڑے دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں۔  ہرشخص دانتوں کے دو سیٹ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔  6  ماہ  کی عمر میں دانتوں کا پہلا سیٹ مسوڑھوں سے نکلنا شروع ہوتا ہے جنہیں دودھ کے دانت کہا جاتا ہے۔ یہ  تعداد میں بیس ہوتے ہیں۔ 6 سال عمر میں دودھ کے دانت ڈھیلے ہوکر ہلنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ  ہوتی ہے   کہ اس عمر میں مستقل دانت مسوڑھوں کے اندر سے دودھ کے دانتوں کو دھکا دے کر باہر آنے لگتے ہیں۔ مستقل دانتوں کی تعداد 32 ہوتی ہے۔ ان میں سے چار دانت اس وقت تک نہیں نکلتے جب تک کہ آپ کی عمر بیس سال کی نہیں ہو جاتی۔ ان دانتوں کو عقل داڑھ  کہتے ہیں۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں عقل داڑھ نکلنے کے بعد آدمی کی عقل مکمل ہوتی ہے  لیکن یہ درست نہیں ، عقل کا عقل  داڑھ سے کوئی تعلق نہیں ۔

محمد حمیر، جماعت سکینڈ ایئر، گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول رند جادہ ،ضلع لودھراں

کھیل کود صحت کے لیے ضروری

انسان کے جسم کے لیے ورزش کرنا بہت ضروری ہے۔ کھیل کود سے بھی سارے جسم کی ورزش ہو جاتی ہے ۔ کھیلنے سے سارے جسم کے پٹھے اور ہڈیاں مضبوط ہو تی ہیں۔ سارے جسم میں تازہ خون گردش کرتاہے جس سے سارا جسم تروتازہ ہو جاتاہے اور جسم کو قوت اور صحت حاصل ہو تی ہے۔صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتاہے اور وہ ہر کام اچھے طریقے سے کر سکتاہے۔

محمد طلحہ، جماعت نہم،گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ خلیفہ، ضلع بہاول پور
شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •