رنگا رنگ

کیا  آپ جانتے ہیں؟

٭ دنیا میں سب سے پہلے سورج جاپان میں طلوع ہوتا ہے اس لیے اسے چڑھتے سورج کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے۔

٭ مسجد الحرام دنیا کی واحد مسجد ہے جس میں کوئی محراب موجود نہیں ہے۔

٭ دنیا کا سب سے قدیم شہر دمشق ہے۔

٭ پاکستان کے پہلے صدر جنرل سکندر مرزا تھے۔

٭ پاکستان میں انسانی ہاتھوں سے لگایا گیا سب سے بڑا مصنوعی جنگل چھانگا مانگا لاہور میں ہے۔

محمد محبوب ، جماعت نہم، گورنمنٹ ہائی سکول بیلے والہ، مظفر گڑھ

دلچسپ معلومات

٭ چاند پر سب سے پہلے گالف کا کھیل کھیلا گیا۔

٭ فرانس کے بادشاہ لوئی چہاد دہم کے منہ میں پیدائش کے وقت دو دانت تھے۔

٭ جاپان کا شہر ٹوکیو وہ واحد شہر ہے جہاں کوئی فقیر نہیں۔

آفتاب حسین ، جماعت ششم، گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری سکول547 ای بی، ضلع وہاڑی

زندگی جسم ہے تو  جدوجہد  اس کی  روح

ہماری زندگی کی بھی ایک زندگی ہوتی ہے اور وہ ہے اس میں کی جانے والی جدوجہد۔ اگر جدوجہد کا پہلو زندگی سے نکال دیا جائے تو اسے ہم شرمندگی تو کہہ سکتے ہیں مگر زندگی نہیں۔ اور یاد رہے کہ جدوجہد کی ضرورت  ہمیں اپنے آپ کو صرف برے وقت سے نکالنے کے لیے ہی نہیں پڑتی بلکہ اس کی ضرورت ہمیں اپنے آپ کو اچھے وقت میں سنبھالنے کے لیے بھی پڑتی ہے۔ چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر زندگی جسم ہے تو جدوجہد اس کی روح ہے اور روح کے بغیر جسم زندہ لاش کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

محمد ظہیر افضل چشتی، گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول اوچ موغلہ، ضلع بہاول پور

چیونٹی اور عقاب

اے عقاب ! مجھے ایک بات تو بتا۔ لوگ مجھے پاؤں کے نیچے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ میں ذلیل و خوار ہوں۔ دن رات کی محنت اور مشقت کے باوجود پریشان اور دکھی ہوں۔آخر اس کا سبب کیا ہے؟رزق کے لیے جدوجہد تو میں بھی کرتی ہوں اور تو بھی کرتا ہے ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کے قدموں تلے پامال ہو کردن رات دکھ سہتی ہوں اور تیرا مقام و مربتہ ستاروں سے بھی بلند ہے؟

اے چیونٹی !اپنی پریشانی اور دکھ کا باعث تو خود ہے۔ تیر ی پامالی ، ذلت وخواری ، پریشانی اور دکھ درد کا باعث یہ ہے کہ تو اپنا رزق راستے کی خاک سے تلاش کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ تو یہی ہو سکتا ہے کہ ہر راہ چلنے والا تجھے روندتا ہوا گزر جائے اور تود کھ اٹھاتی رہے۔ جو بھی اپنا رزق راستے کی خاک میں تلاش کرے گا اور راستہ چلنے والوں کےپیروں تلے آکر اس طرح دکھ اور تکلیف اٹھائے گا۔ تیر ی طرح رزق کے لیے جدوجہد تو میں  بھی کرتا ہوں لیکن تیری جدوجہد  خاک تک محدود ہے جب کہ میں رزق کی تلاش کرتے ہوئے آسمانوں کو بھی نگاہ میں نہیں لاتا۔

علامہ اقبال ؒ نےا س نظم میں چیونٹی اور عقاب کی زندگی کا موازنہ کیا ہے۔ چیونٹی اور عقاب کے مکالمے کے پیرائے میں انہوں نے ہمیں بتا یا ہے کہ رزق کی تلاش کے لیے جدوجہد تو سب ہی جان داروں کو کرنی پڑتی ہے لیکن جدوجہد کا میدان ہر ایک کے عزم و حوصلے اور ہمت و طاقت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ اونچا مقام و مرتبہ ان ہی کا حق ٹھہر تا ہے جن کی جدوجہد کا میدان دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ عزت کے حق دار وہ ٹھہرتے ہیں جو رزق کی تلاش میں زمین سے چمٹے رہنے کی بجائے آسمانوں کی بے کراں فضاؤں کو کھنگال ڈالتے ہیں ۔ چیونٹی اس لیے ذلیل و خوار ہے کہ وہ راستے کی خاک سے اپنا رزق تلاش کرتی ہے۔ اس کےمقابلے میں عقاب اس لیے ارجمند ہے وہ تلاش رزق میں آسمانوں کی بے کراں وسعتوں کا بھی خاطر میں نہیں لاتا۔

علیشا سحر، جماعت نہم، گورنمنٹ اسلامیہ گرلز ہائی سکول دولت گیٹ ملتان

اسٹیٹ  لائبریری ماسکو

کتاب کو انسان کا بہترین ساتھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ کتاب آپ کے ساتھ ہو تو نہ آپ کو تنہائی کا احساس ہوتا ہےاور نہ ہی بوریت کا۔ گو کہ الیکٹرانک میڈیا نے کتابوں تک انسانوں کی رسائی آسان بنا دی ہے تاہم اس میں مطالعہ فروغ پانے کی روایت دم توڑتی جارہی ہے، محض  چند الفاظ لکھ کر آپ اپنا مطلوبہ مواد تو حاصل کر لیتے ہیں مگر اس سے صرف وقت کی بچت ہی ہوتی ہے۔ اگر ہاتھوں میں کتاب ہوگی تو آپ کی دنیا کتاب ہے۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال درحقیقت انسان کو کتاب سے دور کرنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ دنیا میں ایسی بہت سی لائبریریاں موجود ہیں ۔جن میں موجود نایاب کتب آپ کو انٹرنیٹ سے بھی نہیں ملیں گی۔روس کے تاریخی شہر ماسکو میں واقع سٹیٹ لائبریری ایک بڑا علمی ذخیرہ رکھتی ہے۔ یہاں ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد کتب موجود ہیں۔ اس میں روسی ادب کا ایک بڑا ذخیرہ ہے۔روسی فن تعمیر کے حوالے سے بے شمار کتابیں ہیں۔ یہاں پر تقریبا اڑھائی سو مختلف زبانوں میں لکھی گئی کتابیں موجود ہیں۔

محمد فرحان، جماعت ششم، گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول کوٹ مبارک، ڈیرہ غازی خان

دلچسپ معلومات

٭ماچس 1826ء میں  برطانیہ  کے ادویات  ساز جان واکرنے اتفاقیہ طور پرایجاد کی۔

٭شکرہ وہ پرندہ ہے جو ہوا میں کھڑا ہو جاتا ہے۔

٭ڈولفن مچھلی ایک آنکھ کھول کر سوتی ہے۔

٭جھینگےکا دل اس کے سر میں ہوتا ہے۔

٭ہمارا دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے۔

 ٭ایک مناسب سائز کے درخت کی لکڑی سے تقریباً 17000 پنسل بن سکتی ہیں۔

٭پیاز کاٹتے وقت چیونگم چبانے سے آنکھوں میں آنسو نہیں آتے۔

٭پاکستان کا پہلا سکہ 1948 میں جاری ہوا۔

معا زیہ کرامت، گورنمنٹ گرلز ترکش ماڈل ولیج سکول رکھ عظمت والا، ضلع راجن پور

قائد اعظم ریزیڈنسی زیارت

یہ عمارت صوبہ بلوچستان کے صحت افزا مقام  زیارت میں واقع ہے ۔یہ خوب صورت عمارت 1892 میں تعمیر کی گئی۔ لکڑی سے تعمیر کی گئی یہ عمارت فن تعمیر کا ایک خوب صورت  نمونہ  ہے۔ 1948 میں قائد اعظم محمد علی  جناح بیماری  کے دنوں میں ڈاکٹروں  کے مشورے سے یہاں آئے  اور اپنی زندگی کے آخری دو ماہ دس دن اس رہائش  گاہ پر قیام کیا۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد اس عمارت کو قائد اعظم ریزیڈنسی کا نام دے کر قومی ورثہ قرار دے دیا گیا ۔ اس عمارت میں قائد اعظم کے زیر استعمال رہنے والی اشیا کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے ۔ پاکستان کے سو روپے کے کرنسی نوٹ کی پشت پر اس عمارت کی  تصویر  موجود ہے ۔

لائبہ نثار، جماعت ہشتم، گورنمنٹ گرلز ہائیرسکینڈری سکول جلہ ارائیں، ضلع لودھراں

سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

شیخ سعدی ؒسفر کر رہے تھے کہ ایک بستی سے گزرے ۔بستی کے کتے زور و شور سے بھونکتے ہوئے شیخ سعدی ؒکی طرف لپکے۔  شیخ صاحبؒ زمین کی طرف جھکے تاکہ کوئی ڈھیلایا پتھر وغیرہ اٹھا کر کتوں کی طرف پھینکیں یا کوئی لکڑی اٹھا کر کتوں کو ڈرائیں۔ مگر زمین بہت پختہ اور صاف تھی کہ کچھ بھی شیخ صاحبؒ کے ہاتھ نہ لگا۔بڑے درد  دل سے بولے کہ اے خدا ! یہ کہاں آ پہنچا ہوں؟ یہاں کتے تو چھوڑ دیے گئے ہیں مگر پتھر باندھ دیے گئے ہیں۔

جہانگیربدر، جماعت سکینڈ ایئر، گورنمنٹ بوائز ہائیر سکنڈیری سکول کوٹ مبارک، ضلع ڈیرہ غازی خان

بڑھتی ہوئی آبادی اور کھیل کے میدان

کبھی وہ وقت بھی تھا جب کھیل کے میدان ہوا کرتے تھے اور بچوں کو اس میں کھیل کود اور اس سے متعلقہ سر گرمیوں کا موقع ملتا تھا۔ لیکن وقت بدل رہا ہے اور آبادی ایک بہت بڑی شرح سے بڑھ رہی ہے ۔کھیل کے میدان سرکاری و غیر سرکاری عمارات میں بدل رہے ہیں ۔کھیل کود زندگی کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ کھیل کود اور جسمانی ورزش سے جسم پھرتیلا اور طاقت  ور جب  کہ  ذہنی طور پر انسان تروتازہ رہتا ہے  ۔ بدقسمتی سے اب کھیل کود گلی کوچوں اور گھر کے صحنوں میں محدود ہو گئے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ ہم سب کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا جائے اور کھیل کے میدانوں کو آباد رکھا جائے۔

سید مہدی رضا، جماعت نہم، گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ سلطان، ضلع لیہ

قوس قزح کیا ہے

بارش تھمے، بادل چھٹ جائیں اور سورج اپنا چمکتا دمکتا مکھڑا نکالے تو بعض وقت اس کے بالکل سامنے آسمان پر ایک رنگین کمان سی بن جاتی ہے۔ اسے قوس قزح یا دھنک کہتے ہیں۔ یہ صرف دن میں دکھائی دیتی ہے۔ رات میں نہیں، کیونکہ یہ سورج کی روشنی ہی سے بنتی ہے۔ سورج کی روشنی ظاہر میں سفید نظر آتی ہے لیکن اصل میں اس کے اندر مختلف رنگ کی کرنیں ہوتی ہیں جو آپس میں گڈمڈ ہونے کی وجہ سے الگ الگ دکھائی نہیں دیتیں۔ جب یہ کرنیں شیشے یا پانی میں گزرتی ہیں ٹیڑھی ہو کر الگ الگ ہو جاتی ہیں اور ہم ان کے رنگ جدا جدا دیکھ سکتے ہیں۔

محمد عدنان، جماعت ہشتم، گورنمنٹ ہائی سکول چک نمبر 154تھری ایل، ہارون آباد، ضلع بہاولنگر

دلچسپ معلومات

٭ البرٹ آئن سٹائن کی تاریخ، جغرافیہ اور زبانوں میں تعلیمی کارکردگی کمزور تھی۔ لہذا اسے بغیر کسی ڈپلومہ حاصل کیے اسکول چھوڑنا پڑا۔

٭ ارشمیدس نے اپنی  زندگی کا بیشتر حصہ سسلی میں گزارا۔ جہاں بادشاہ ہائرن دوم  کے ساتھ اس کے گہرے مراسم تھے۔

٭ سولہ سال کی عمر میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے پر میری  کیوری نے سونے کا تمغہ حاصل کیا، اپنے والد کی مالی تنگ دستی کے باعث مادام کیوری کو بحیثیت استاد کام کرنا پڑاتھا۔

٭ مسلمان ریاضی دان الخوارزمی کو الجبرا کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔

٭ ابن زہر(1091ء تا 1161ء) مسلمان ماہرطب تھے جنہوں نے پوسٹ مارٹم اور سرجری کی ابتدا کی۔

انیلا بی بی، جماعت دہم، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول باغ والا، ضلع لیہ

حکایت سعدی

موسم سرما کی ایک رات بادشاہ کسی ضرورت سے باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک غلام جو پہرے پر کھڑا تھا سردی کی شدت سے اس کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے ۔بادشاہ نے یہ دیکھا تو اس کا دل بھر آیا ۔وہ بولا میں تمہارے لیے کوئی ایسی چیز بھجواتا ہوں جو تجھے سردی سے بچائے ۔ یہ کہہ کر بادشاہ محل واپس گیا لیکن محل جاکر بادشاہ کو اپنی بات بھول گئی ۔اس رات بے چارے غلام نے دوہری زحمت اُٹھائی اک سردی کی ،دوسری انتظار کی ۔ اس لیے شیخ سعدی فرماتے ہیں کسی سے ایسی بات  نہ  کہو جس کے انتظار سے اسے کبھی نیند نہ آئے۔

تانیہ نازک، جماعت ہشتم ، گورنمنٹ گرلز ایلمنٹری سکول مصراں والا، ضلع ملتان

کیا آپ جانتے ہیں

٭ ترکی کا قومی نشان بھیڑیا ہے۔

٭ صوبہ سندھ کو وادی مہران بھی کہا جاتا ہے۔

٭ پاکستان کے قومی ترانے میں اردو زبان کا ایک لفظ استعمال ہوا  اور وہ لفظ (کا) ہے۔

٭ چلی کا ایک ریگستان اٹاکاما ہے، وہاں آج تک بارش نہیں ہوئی۔

محمد بلال ، جماعت ششم، گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری سکول چک نمبر 547/ ای بی، ضلع وہاڑی

عقل داڑھ کا عقل سے کیاتعلق ہے؟

شاید کبھی آپ کے دانت ہلنے لگے ہوں یا ہل چکے ہوں۔ ایسا اس لیے  ہوتا ہے کہ  مسوڑھوں کے اندر دوسرے مضبوط اور بڑے دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں۔  ہرشخص دانتوں کے دو سیٹ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔  6  ماہ  کی عمر میں دانتوں کا پہلا سیٹ مسوڑھوں سے نکلنا شروع ہوتا ہے جنہیں دودھ کے دانت کہا جاتا ہے۔ یہ  تعداد میں بیس ہوتے ہیں۔ 6 سال عمر میں دودھ کے دانت ڈھیلے ہوکر ہلنے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ  ہوتی ہے   کہ اس عمر میں مستقل دانت مسوڑھوں کے اندر سے دودھ کے دانتوں کو دھکا دے کر باہر آنے لگتے ہیں۔ مستقل دانتوں کی تعداد 32 ہوتی ہے۔ ان میں سے چار دانت اس وقت تک نہیں نکلتے جب تک کہ آپ کی عمر بیس سال کی نہیں ہو جاتی۔ ان دانتوں کو عقل داڑھ  کہتے ہیں۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں عقل داڑھ نکلنے کے بعد آدمی کی عقل مکمل ہوتی ہے  لیکن یہ درست نہیں ، عقل کا عقل  داڑھ سے کوئی تعلق نہیں ۔

محمد حمیر، جماعت سکینڈ ایئر، گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول رند جادہ ،ضلع لودھراں

کھیل کود صحت کے لیے ضروری

انسان کے جسم کے لیے ورزش کرنا بہت ضروری ہے۔ کھیل کود سے بھی سارے جسم کی ورزش ہو جاتی ہے ۔ کھیلنے سے سارے جسم کے پٹھے اور ہڈیاں مضبوط ہو تی ہیں۔ سارے جسم میں تازہ خون گردش کرتاہے جس سے سارا جسم تروتازہ ہو جاتاہے اور جسم کو قوت اور صحت حاصل ہو تی ہے۔صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتاہے اور وہ ہر کام اچھے طریقے سے کر سکتاہے۔

محمد طلحہ، جماعت نہم،گورنمنٹ ہائی سکول کوٹ خلیفہ، ضلع بہاول پور
شیئر کریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •