امان اللہ (مظفر گڑھ)
ہر معاشرہ مخصوص منفرد خصوصیات، اقدار، روایا، تہذیب وتمدن، رسم و رواج اور تقافتی اقدار کا حامل ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر معاشرہ اپنے اپنے اصول اور اقدار و روایات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔ معاشرے کی پہچان اور شناخت اس کی ثقافت کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کسی بھی قوم کے افراد جب مدتوں سے ایک سرزمین پر مل کر رہ رہے ہوں تو ان کے ہاں مشترک قدریں، انداز زندگی، عائلی قوانین اور فنون دیکھے جا سکتے ہیں، یہی طرز زندگی، ثقافت اور اقدار مل کر رسم رواج تخلیق کرتے ہیں۔ عالم کی تخلیق خالق کائنات نے کی، اس نے بے شمار مخلوقات پیدا کیں۔ انسانوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے زمین پر طرح طرح کے نباتات و جمادات پیدا کیے۔ انسان کو علم کی بنیاد پر اشرف المخلوقات کا شرف عطا کیا۔ ہر ملک و قوم کے افراد اپنے رسم رواج سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں، ان رسم و رواج سے پتاچلتا ہے کہ انسان کس طرح کے معاشرے میں رہ رہا ہے۔ ہزاروں سال سے انسان جنگلوں اور پہاڑوں میں جانوروں کی طرح رہتا آیا ہے۔ زندگی ،مال اور تحفظ کا کوئی نظام نہ تھا۔ بعثت نبوی ﷺ کے بعد اس عالم ميں تبدیلیاں پیدا ہوناشروع ہوئیں۔ آپﷺ نے تمام انسانیت کو سیدھا راستہ دکھایا۔ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا۔ علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور معاشرے کو امن و امان میں رہنے کی تلقین کی۔ آپ ﷺکی اس تعلیم کے پورے معاشرے میں بلکہ پورے عالم فانی میں اثرات آج بھی موجود ہیں۔ علم تہذیب سکھاتاہے۔ انسان کو انسانیت اور عبد کوعبدیت کی راہ دکھاتا ہے۔ علم انسان کومختلف پہلو ؤں سے صحیح راہ دکھاتاہے۔ اس کی زندگی کے طور طریقوں کو تربیت دیتا ہے۔ علم ہی کسی مہذب معاشرے کی بنیادہے۔

