عذرا پروین (لودھراں)
پیارے بچو! یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں جماعت نہم کی طالبہ تھی۔ دوسرے بچوں کی طرح میرا دھیان بھی پڑھائی سے زیادہ شرارتیں کرنے کی طرف مائل رہتا تھا۔ ایک دن مجھے سکول سے دیر ہو رہی تھی۔ بھاگتے دوڑتے بس تک پہنچی تو سکول بس نکل رہی تھی۔ جلدی سے میں بھی چند دوسری لڑکیوں کی طرح بس کے پائیدان میں کھڑی ہو گئی۔ تھوڑی دیر بعد اچانک ایک گاڑی بس کے سامنے آئی تو ڈرائیور نے بریک لگائی، جس سے میرا توازن بگڑ گیا۔میں جو پہلے ہی اپنی کلاس فیلوز کے ساتھ شرارتوں میں مشغول تھی۔ اپنے دوستوں سمیت بس سے نیچے گر گئی۔ اس دن میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا۔ مین روڈ پر ایک گاڑی سے میری ٹکر ہوئی۔ خدا کا شکر ہے کہ گاڑی کے ڈرائیور نے پہلے ہی بریک لگا دی۔ جس سے مجھے زیادہ نقصان نہ پہنچا۔ مگر میری ٹانگ بری طرح متاثر ہو گئی اور کتنے دن میں بستر پر پڑی رہی۔ اس دن میں نے ایسی شرارتوں سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی ۔

